حدیث نمبر: 7296
عَنْ عَمْرَةَ أَنَّ عَائِشَةَ اشْتَكَتْ فَطَالَتْ شَكْوَاهَا فَقَدِمَ إِنْسَانٌ الْمَدِينَةَ يَتَطَبَّبُ فَذَهَبَ بَنُو أَخِيهَا يَسْأَلُونَهُ عَنْ وَجَعِهَا ، قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَتَنْعِتُونَ نَعْتَ امْرَأَةٍ مَطْبُوبَةٍ . قَالُوا : هَذِهِ امْرَأَةٌ [ مَسْحُورَةٌ ] سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا . قَالَتْ : نَعَمْ أَرَدْتُ أَنْ تَمُوتِي فَأُعْتَقُ . قَالَتْ : وَكَانَتْ مُدَبَّرَةً، فَقَالَتْ : بِيعُوهَا مِنْ أَشَدِّ الْعَرَبِ مَلَكَةً وَاجْعَلُوا ثَمَنَهَا فِي مِثْلِهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عمرہ بیان کرتی ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار ہو گئیں ، ان کی بیماری طویل ہو گئی ، ایک شخص مدینہ منورہ آیا ، جو حساب کتاب لگایا کرتا تھا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے گئے ، اور اس سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں دریافت کیا : تو اس نے کہا: اللہ کی قسم ! تم اس خاتون کی جو صورت حال بیان کر رہے ہو ، اس سے لگتا ہے کہ ان پر جادو ہوا ہے ، لوگوں نے کہا: اس عورت نے ان پر جادو کیا ہے ، اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک کنیز کے بارے میں یہ کہا: ، تو اس عورت نے یہ بتایا : جی ہاں ! میں یہ چاہتی تھی کہ آپ مر جائیں اور میں آزاد ہو جاؤں ، راوی بیان کرتی ہیں : وہ کنیز مدبرہ کے طور پر آزاد ہونی تھی ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اسے کسی ایسے شخص کے پاس بھیجو ، جو عربوں میں سب سے زیادہ برا مالک ہو ، اور پھر اس کی قیمت کو ، اس جیسی کسی کنیز ( کو خرید کر آزاد کرنے ) میں خرچ کر دینا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔