حدیث نمبر: 7262
عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ جَاءَ بِأَمَةٍ سَوْدَاءَ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً ، فَإِنْ كُنْتَ تَرَى هَذِهِ مُؤْمِنَةً فَأَعْتِقْهَا . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " أَتُؤْمِنِينَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " أَعْتِقْهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ ایک سیاہ فام کنیز کو لے کے آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر ایک مومن گردن ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرنا لازم ہے ، اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مومن ہے ، تو آپ اسے آزاد کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنیز سے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ میں ، اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر ایمان رکھتی ہو ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس شخص سے ) فرمایا : تم اسے آزاد کر دو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7263
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً ، وَعِنْدِي جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ أَعْجَمِيَّةٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتِنِي بِهَا " . قَالَ : " أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : وَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " فَأَعْتِقْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ( مَتْنُ ) أَحَدِهِمَا مِثْلُ هَذَا ، وَالْآخَرُ : فَقَالَ لَهَا : " أَيْنَ اللَّهُ ؟ " . فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا إِلَى السَّمَاءِ . قَالَ : " مَنْ أَنَا " . قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ . ¤ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْمَرْزُبَانِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مُدَلِّسٌ ، وَعَنْعَنَهُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : مجھ پر ایک گردن ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرنا لازم ہے ، اور میرے پاس ایک سیاہ فام عجمی کنیز موجود ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے میرے پاس لے کے آؤ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ میں ، اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس شخص سے ) فرمایا : تم اسے آزاد کر دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک روایت کا متن اس روایت کی مانند ہے ، اور دوسری کے متن میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنیز سے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ تو اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : میں کون ہوں ؟ اس نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ اس روایت کی سند میں ، ایک راوی سعید بن ابومرزبان ہے ، وہ ضعیف اور تدلیس کرنے والا ہے اور اس نے ” عنعنہ“ کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے اور وہ برے حافظے کا مالک ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک روایت کا متن اس روایت کی مانند ہے ، اور دوسری کے متن میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنیز سے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ تو اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : میں کون ہوں ؟ اس نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ اس روایت کی سند میں ، ایک راوی سعید بن ابومرزبان ہے ، وہ ضعیف اور تدلیس کرنے والا ہے اور اس نے ” عنعنہ“ کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے اور وہ برے حافظے کا مالک ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 7264
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهَا جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَفَتُجْزِئُ هَذِهِ ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيْنَ اللَّهُ ؟ " قَالَتْ : فِي السَّمَاءِ . قَالَ : " فَمَنْ أَنَا ؟ " قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " أَتَشْهَدِينَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " أَتُؤْمِنِينَ بِمَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " أَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَنْبَسَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس کے ساتھ ایک سیاہ فام کنیز تھی ، اس عورت نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر ایک مومن گردن ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرنا لازم ہے ، تو کیا یہ کفایت کر جائے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کنیز سے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ اس نے جواب دیا : آسمان میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : میں کون ہوں ؟ اس نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ آیا ہے تم اس پر ایمان رکھتی ہو ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس عورت سے ) فرمایا : تم اسے آزاد کر دو ! یہ مومن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عنبسہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن عنبسہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7265
وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِأَمَةٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَفَتُجْزِئُ هَذِهِ عَنِّي ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَبُّكِ ؟ " قَالَتْ : اللَّهُ رَبِّي . قَالَ : " فَمَا دِينُكِ ؟ " قَالَتِ : الْإِسْلَامُ . قَالَ : " فَمَنْ أَنَا ؟ " قَالَتْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " فَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " وَتُصَلِّينَ الْخَمْسَ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " وَتَصُومِينَ رَمَضَانَ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " وَتُقِرِّينَ بِمَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى ظَهْرِهَا وَقَالَ : " أَعْتِقِيهَا ، فَقَدَ أَجْزَأَتْ عَنْكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْإِيمَانِ ، وَفِيمَنْ ضَرَبَ مَمْلُوكَهُ قُبَيْلَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
عون بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں : مجھے میرے والد نے ، میرے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے : ایک عورت اپنی کنیز کے ساتھ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر ایک مومن گردن ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرنا لازم ہے ، تو کیا یہ میری طرف سے کفایت کر جائے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیث دریافت کیا : تمہارا پروردگار کون ہے ؟ اس کنیز نے عرض کی : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا دین کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : اسلام ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : میں کون ہوں ؟ اس نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم پانچ نمازیں ادا کرتی ہو ؟ اُس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم رمضان کے روزے رکھتی ہو ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس چیز کا اقرار کرتی ہو ؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کی پشت پر مارا اور فرمایا : اسے آزاد کر دو ! یہ تمہاری طرف سے کفایت کر جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث ایمان سے متعلق باب میں اور اس شخص سے متعلق باب میں ، جو اپنے غلام کو مارتا ہے اور اس سے کچھ پہلے گزرا ہے ، اس میں ذکر کی گئی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث ایمان سے متعلق باب میں اور اس شخص سے متعلق باب میں ، جو اپنے غلام کو مارتا ہے اور اس سے کچھ پہلے گزرا ہے ، اس میں ذکر کی گئی ہیں ۔