کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی مومن گردن ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرتا ہے
حدیث نمبر: 7252
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا طَلَاقَ إِلَّا لِعِدَّةٍ ، وَلَا عِتْقَ إِلَّا لِوَجْهِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ فَرْقَدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” طلاق صرف عدت کے لئے ہوتی ہے ، اور آزاد کرنا ، صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن سعید بن فرقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن سعید بن فرقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7253
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً فَهِيَ فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا قَيْسًا الْجُذَامِيَّ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کسی مومن گردن ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرتا ہے ، تو یہ اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا باعث بن جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف قیس جذامی کا معاملہ مختلف ہے ، کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف قیس جذامی کا معاملہ مختلف ہے ، کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 7254
وَعَنْ شُعْبَةَ الْكُوفِيِّ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى فَقَالَ : أَيْ بُنَيَّ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي مُوسَى إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
شعبہ کوفی بیان کرتے ہیں : میں ابوبردہ بن ابوموسیٰ کے پاس موجود تھا ، انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! کیا میں تمہیں ایسی حدیث بیان نہ کروں ؟ جو میرے والد ( سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مجھے بیان کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص کسی غلام کو آزاد کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر ایک عضو کے عوض میں ، اُس ( آزاد کرنے والے ) کے ( ہر ایک ) عضو کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7255
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ عَنْهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ ، وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا كَانَ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ يُجْزِئُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَقَدْ ضُعِّفَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص ، مسلمان ماں باپ کے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں شریک کر لے ، جب تک وہ اس سے بے نیاز نہیں ہو جاتا ، اس شخص کے لئے لازمی طور پر جنت واجب ہو جائے گی ، اور جو شخص کسی مسلمان کو آزاد کر دے ، تو وہ آزاد ہونے والا غلام ) اس شخص کے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گا ، اس ( آزاد ہونے والے غلام ) کا ہر ایک عضو اس ( آزاد کرنے والے شخص ) کے ہر ایک عضو کا کفارہ بن جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ویسے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ویسے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 7256
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ ( عَمْرٍو ) الْقُشَيْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً ، فَهِيَ فِدَاؤُهُ مِنَ النَّارِ ، وَمَكَانُ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ مُحَرَّرَةُ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ أَطْوَلُ مِنْ هَذَا ، وَهُوَ فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن عمرو قشیری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص کسی مسلمان گردن ( یعنی غلام ) کو آزاد کرے ، تو وہ اس کے لئے جہنم سے فدیہ بن جائے گا ، اُس کی ہر ایک ہڈی اس کی ہڈی کی جگہ ( جہنم سے ) آزاد شمار ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور یہ اس سے زیادہ طویل روایت ہے ، نہ نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں بھی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور یہ اس سے زیادہ طویل روایت ہے ، نہ نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں بھی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 7257
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً ، فَإِنَّهُ يَجْرِي مِنْ كُلِّ عُضْوٍ أَوْ يُحَرِّرُ مِنْ كُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو حَرِيزٍ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مومن گردن ( یعنی غلام ) کو آزاد کرتا ہے ، تو یہ چیز اس کے ہر عضو میں جاری ہوتی ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) تو وہ اس کے ہر ایک عضو کو جہنم سے آزاد کروا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحریز ہے ، جسے ابن حبان نے ، اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوحریز ہے ، جسے ابن حبان نے ، اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 7258
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً لِلَّهِ أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے غلام آزاد کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس ) آزاد ہونے والے غلام ) کے ہر ایک عضو کے عوض میں ، اُس ( آزاد کرنے والے شخص ) کے ہر ایک عضو کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن منظور ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن منظور ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 7259
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ ؟ قَالَ : " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ . ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ . ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ . ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ قِيَامَ الرُّمْحِ . ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ ( ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ ) قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ . ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ " . ¤ قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " أَيَّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا فَهُوَ فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ ؛ يُجْزِئُ بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْهُ عَظْمًا مِنْهُ ، ( وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً ، فَهِيَ فَكَاكُهَا مِنَ النَّارِ ، يُجْزِئُ بِكُلِّ عَظْمٍ مِنْهَا عَظْمًا مِنْهَا ) وَأَيَّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَقَبَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ فَهُمَا فِكَاكُهُ مِنَ النَّارِ يُجْزِئُ بِكُلِّ عَظْمَيْنِ مِنْ عِظَامِهِمَا عَظْمًا مِنْهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : رات کا کون سا حصہ ( دعا کی قبولیت ) کے حوالے سے زیادہ سنا جانے والا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رات کا آخری نصف حصہ ، پھر اس کے بعد نماز قبول ہوتی ہے ، یہاں تک کہ صبح صادق ہو جاتی ہے ، پھر کوئی ( نفل ) نماز ادا نہیں کی جائے گی ، جب تک سورج ایک نیزے یا دو نیزے جتنا بلند نہیں ہو جاتا پھر نماز مقبول ہوتی ہے ، یہاں تک کہ سایہ نیزے جتنا ہو جائے ، پھر کوئی ( نفل ) نماز ادا نہیں کی جائے گی ، جب تک سورج ڈھل نہیں جاتا ، پھر نماز مقبول ہوتی ہے ، یہاں تک کہ سورج ( غروب ہونے کی طرف ) ایک ، یا دو نیزے جتنا رہ جائے ، پھر کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو بھی مسلمان شخص ، کسی مسلمان شخص کو آزاد کرتا ہے ، تو وہ ( آزاد ہونے والا ) اُس ( آزاد کرنے والے ) کے جہنم سے بچاؤ کا باعث بن جاتا ہے ، اُس کی ہر ایک ہڈی اس کی ہر ہڈی کی جگہ کفایت کر جاتی ہے ، اور جو مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرتی ہے ، تو وہ اُس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا باعث بن جاتی ہے ، اس کی ہر ایک ہڈی اس کی ہر ہڈی کی جگہ کفایت کر جاتی ہے اور جو مسلمان شخص ، دو مسلمان افراد کو آزاد کرتا ہے ، تو وہ دونوں اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتے ہیں ، ان دونوں کی ہر ایک ہڈی اُس کی ہڈی کی جگہ کفایت کر جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابوسلمہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابوسلمہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 7260
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ مُؤْمِنًا فِي الدُّنْيَا أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص دنیا میں ، کسی مومن کو آزاد کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس ( آزاد ہونے والے ) کے ہر ایک عضو کی جگہ اُس ( آزاد کرنے والے ) کے ہر ایک عضو کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7261
وَعَنْ أَبِي سُكَيْنَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا مَلَكَ أَحَدُكُمْ شَيْئًا فِيهِ ثَمَنُ رَقَبَةٍ فَلْيُعْتِقْهَا ، فَإِنَّهُ يَفْدِي كُلَّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الصَّغَانِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسکینہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص ایسی چیز کا مالک بن جائے ، جس میں غلام آزاد کرنے کی قیمت ہو ، تو اسے غلام آزاد کر دینا چاہیے ، کیونکہ اُس ( آزاد ہونے والے ) کا ہر ایک عضو اُس ( آزاد کرنے والے ) کے ہر ایک عضو کا فدیہ بن جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ صغانی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ صغانی ہے اور وہ متروک ہے ۔