کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اہل حرب کے قیدیوں سے تعلق رکھنے والے اس شخص کا بیان جو فرار ہو کر مسلمانوں کی طرف آ کر اسلام قبول کر لیتا ہے ، اور اس کا آقا کافر ہوتا ہے
حدیث نمبر: 7266
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُعْتِقُ مَنْ جَاءَهُ مِنَ الْعَبِيدِ قَبْلَ مَوَالِيهِمْ إِذَا أَسْلَمُوا . وَقَدْ أَعْتَقَ يَوْمَ الطَّائِفِ رَجُلَيْنِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو بھی غلام اس کے آقاؤں کے اسلام قبول کرنے سے پہلے آ جاتا تھا ، تو آپ اسے آزاد قرار دیتے تھے ، غزوہ طائف کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو افراد کو آزاد قرار دیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7266
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2564) اخرجه احمد فى المسند (223/1 224 و (362,249,248,243,236)»
حدیث نمبر: 7267
وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الطَّائِفِ : " مَنْ خَرَجَ مِنَ الْعَبِيدِ فَهُوَ حُرٌّ " . فَخَرَجَ عَبِيدٌ مِنَ الْعَبِيدِ فِيهِمْ أَبُو بَكَرَةَ فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ( بِاخْتِصَارٍ ) ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : غزوہ طائف کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو بھی غلام نکل کر آئے گا ، وہ آزاد شمار ہو گا ، تو کچھ غلام نکل کر آ گئے ، جن میں ایک سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو آزاد قرار دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7267
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7268
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا ، فَقُلْنَا : إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ ، فَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الطُّهْرِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا ، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا ، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكَرَةَ فَأَبَى وَقَالَ : " هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ وَطَلِيقُ رَسُولِهِ " . وَكَانَ أَبُو بَكَرَةَ خَرَجَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ حَاصَرَ الطَّائِفَ فَأَسْلَمَ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی نے ، ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا یہ بیان نقل کیا ہے : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین درخواستیں کیں لیکن آپ نے ہمیں رخصت نہیں دی ، ہم نے عرض کی : ہماری سرزمین ٹھنڈی سرزمین ہے ، ہم نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ ہمیں طہارت کے بارے میں رخصت عطا کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رخصت نہیں دی ، ہم نے آپ سے یہ گزارش کی کہ آپ ہمیں دباء استعمال کرنے کی رخصت دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کی اجازت نہیں دی ، ہم نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ ابوبکرہ کو ہمیں واپس کریں ، تو آپ نے یہ بات بھی تسلیم نہیں کی ، آپ نے فرمایا : وہ اللہ کے نام پر آزاد ہے اور اس کے رسول کے نام پر آزاد ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ اس وقت نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا ، اور سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7268
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7269
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : أَخْبَرَنِي فُلَانٌ الثَّقَفِيُّ قَالَ : سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ثَلَاثٍ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ ؛ سَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكَرَةَ ، وَكَانَ مَمْلُوكًا فَأَسْلَمَ قَبْلَنَا وَقَالَ : " لَا ، هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ ، ثُمَّ طَلِيقُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : فلاں ثقفی نے مجھے یہ بات بتائی ہے : وہ کہتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں کے بارے میں درخواست کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ہمیں کسی کے بارے میں بھی رخصت نہیں دی ، ہم نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ ابوبکرہ کو ہمیں واپس کر دیں ، کیونکہ وہ پہلے غلام تھے اور وہ ہم سے پہلے اسلام لے آئے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزاد کردہ ہے ، اور پھر اس کے بعد اللہ کے رسول کی طرف سے آزاد کردہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7269
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7270
وَعَنْ أَبِي بَكَرَةَ أَنَّهُ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ مُحَاصِرٌ أَهْلَ الطَّائِفِ بِثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ عَبْدًا فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمُ الَّذِينَ يُقَالُ لَهُمْ : عُتَقَاءُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا ، وہ تئیس غلام تھے ، جو نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد قرار دیا اور یہ وہ لوگ ہیں ، جنہیں ” عتقاء “ کہا: جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7270
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7271
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الطَّائِفِ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى : " أَيَّمَا عَبْدٍ خَرَجَ فَهُوَ حُرٌّ " فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدَانِ فَأَعْتَقَهُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے پاس پڑاؤ کیا تو آپ نے منادی کو حکم دیا تو اس نے یہ اعلان کیا : جو غلام نکل کر آئے گا وہ آزاد شمار ہو گا ، تو دو غلام نکل کر آپ کی طرف آئے تھے تو آپ نے ان دونوں کو آزاد قرار دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7271
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7272
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : تَدَلَّى عَبْدٌ مِنْ حِصْنِ الطَّائِفِ فَجَاءَهُ مَوْلَاهُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ رُدَّ عَلَيَّ غُلَامِي . فَقَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَسْلَمَ قَبْلَ مَوْلَاهُ لَمْ يُرَدَّ إِلَيْهِ ، وَإِذَا أَسْلَمَ الْمَوْلَى ، ثُمَّ أَسْلَمَ الْعَبْدُ دُفِعَ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ وَجِيهٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : طائف کے قلعے میں سے ایک غلام اتر کر آ گیا ، اس کا آقا بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! میرا غلام مجھے واپس کر دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب غلام اپنے آقا سے پہلے اسلام قبول کر لے ، تو اس غلام کو واپس نہیں کیا جائے گا ، اور جب آقا نے اسلام قبول کر لیا اور غلام نے بعد میں اسلام قبول کیا ہو ، تو پھر اسے آقا کے سپرد کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم بن وجیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7272
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7978)»
حدیث نمبر: 7273
وَعَنْ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ الثَّقَفِيِّ : أَنَّ نَافِعًا كَانَ عَبْدًا لِغَيْلَانَ فَفَرَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَيْلَانُ مُشْرِكٌ فَأَسْلَمَ غَيْلَانُ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهِ وَلَاءَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نافع ، سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ کا غلام تھا ، وہ فرار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا ، سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ اس وقت مشرک تھے ، بعد میں سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نافع کی ولاء ، سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ کو واپس کر دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العتق / حدیث: 7273
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (263/18)»