کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو اپنے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ ، فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِيمَانِ مِنْ عُنُقِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا خَالِدَ بْنَ أَبِي حَيَّانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اپنے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے ، تو وہ اپنی گردن سے ایمان کا پٹہ اتار دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف خالد بن ابوحیان کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7188
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (332/3)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا ، وَلَا عَدْلًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطِيَّةَ، وَقَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا أَعْلَمُ مَنْ رَوَى عَنْهُ إِلَّا مُنِيبٌ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے ، کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے ، اُس پر اللہ تعالیٰ اور تمام فرشتوں اور انسانوں کی لعنت ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عطیہ ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق صرف منیب نے اس سے روایت نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7189
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : وَجَدْتُ مَعَ قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَلَى اللَّهِ عَدَاءً الْقَاتِلُ غَيْرَ قَاتِلِهِ وَالضَّارِبُ غَيْرَ ضَارِبِهِ، وَمَنْ جَحَدَ نِعْمَةَ مَوَالِيهِ، فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام جعفر صادق ، اپنے والد ( یعنی امام باقر ) کے حوالے سے ، اپنے دادا ( امام زین العابدین ) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کی میان میں یہ تحریر پائی ہے : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہو گا ، جو اپنے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرے ( یعنی کسی کو ناحق قتل کرے ) یا کسی کو ناحق مارے ، اور جو شخص اپنے آقا کی نعمت کا انکار کرے ، تو وہ اُس چیز سے لاتعلق ہو جاتا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفرائض / حدیث: 7190
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (330)»