مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفرائض— وراثت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو اپنے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : وَجَدْتُ مَعَ قَائِمِ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَلَى اللَّهِ عَدَاءً الْقَاتِلُ غَيْرَ قَاتِلِهِ وَالضَّارِبُ غَيْرَ ضَارِبِهِ، وَمَنْ جَحَدَ نِعْمَةَ مَوَالِيهِ، فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤امام جعفر صادق ، اپنے والد ( یعنی امام باقر ) کے حوالے سے ، اپنے دادا ( امام زین العابدین ) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کی میان میں یہ تحریر پائی ہے : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہو گا ، جو اپنے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرے ( یعنی کسی کو ناحق قتل کرے ) یا کسی کو ناحق مارے ، اور جو شخص اپنے آقا کی نعمت کا انکار کرے ، تو وہ اُس چیز سے لاتعلق ہو جاتا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔