حدیث نمبر: 7179
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ قَالَ : " إِنَّ الْوَلَاءَ لَيْسَ بِمُنْتَقِلِ ، وَلَا بِمُتَحَوِّلِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ جَمِيلٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ) ” ولاء منتقل نہیں ہوتی ، اور تبدیل نہیں ہوتی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن جمیل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن جمیل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7180
وَعَنْ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ الثَّقَفِيِّ أَنَّ نَافِعًا أَبَا السَّائِبِ كَانَ عَبْدًا لِغَيْلَانَ فَفَرَّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حَاصَرَ الطَّائِفَ ، فَأَسْلَمَ فَأَعْتَقَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أَسْلَمَ غَيْلَانُ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَاءَ نَافِعٍ إِلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُ رَوَى غَيْلَانُ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ . ¤ قُلْتُ : وَفِيهِ عُرْوَةُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نافع ابوسائب ، جو غیلان کے غلام تھے ، وہ فرار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئے ، یہ اس وقت کی بات ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا ہوا تھا ، انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد قرار دے دیا ، جب سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نافع کی ولاء اُن کی طرف واپس کر دی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ یہ فرماتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ سے صرف یہی حدیث منقول ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کی سند میں ایک راوی عروہ بن غیلان ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ یہ فرماتے ہیں : ہمارے علم کے مطابق سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ سے صرف یہی حدیث منقول ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کی سند میں ایک راوی عروہ بن غیلان ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7181
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَاءُ لُحْمَةٌ كَلُحْمَةِ النَّسَبِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ولاء ، نسبی تعلق کی طرح ، ایک تعلق ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 7182
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَرِثُ الْوَلَاءُ مَنْ يَرِثُ الْمَالَ مِنْ وَالِدٍ أَوْ وَلَدٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَغَيْرُهُ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” وہ شخص ولاء کا وارث بنے گا ، جو مال کا وارث بنے گا ، خواہ ( وہ میت کا ) باپ ہو یا بیٹا ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ اور دیگر حضرات نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ اور دیگر حضرات نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 7183
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ولاء کا حق اُسے ملتا ہے ، جو آزاد کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 7184
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرُ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ بَعْضَهُمْ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ولاء ، اُسے ملتی ہے ، جو آزاد کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7185
وَعَنْ سَلْمَى ابْنَةِ حَمْزَةَ أَنَّ مَوْلَاهَا مَاتَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ فَوَرَّثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ النِّصْفَ وَوَرَّثَ يَعْلَى النِّصْفَ ، وَكَانَ ابْنَ سَلْمَى . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ سلمی بنت حمزہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : ان کی ایک کنیز کا انتقال ہو گیا ، اس نے پسماندگان میں ایک بیٹی چھوڑی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی بیٹی کو نصف مال دیا ، اور یعلی کو نصف مال دیا ، جو سیدہ سلمی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 7186
قَالَتْ : مَاتَ مَوْلًى لِي وَتَرَكَ ابْنَتَهُ فَقَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَالَهُ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنَتِهِ ، فَجَعَلَ لِي النِّصْفَ وَلَهَا النِّصْفَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ كَذَلِكَ إِلَّا أَنَّ قَتَادَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ سَلْمَى . ¤
محمد محی الدین
اُس خاتون کے حوالے سے امام طبرانی نے
یہ روایت نقل کی ہے : وہ بیان کرتی ہیں : ہمارے ایک غلام کا انتقال ہو گیا ، اس نے پسماندگان میں ایک بیٹی چھوڑی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مال میرے اور اس کی بیٹی کے درمیان تقسیم کر دیا ، آپ نے نصف مال مجھے دیا اور نصف اُس لڑکی کو دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام أحمد کی سند اسی طرح ہے ، البتہ قتادہ نامی راوی نے سیدہ سلمی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت نقل کی ہے : وہ بیان کرتی ہیں : ہمارے ایک غلام کا انتقال ہو گیا ، اس نے پسماندگان میں ایک بیٹی چھوڑی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مال میرے اور اس کی بیٹی کے درمیان تقسیم کر دیا ، آپ نے نصف مال مجھے دیا اور نصف اُس لڑکی کو دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام أحمد کی سند اسی طرح ہے ، البتہ قتادہ نامی راوی نے سیدہ سلمی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 7187
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَمَوَالِيَهُ الَّذِينَ أَعْتَقُوهُ فَقَسَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِيرَاثَهُ بَيْنَ ابْنَتِهِ وَبَيْنَ مَوَالِيهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا انتقال ہو گیا ، اس نے پسماندگان میں اپنی بیٹی اور اپنے آزاد کرنے والے چھوڑے ، جنہوں نے اسے آزاد کیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وراثت اس کی بیٹی اور اس کے آقاؤں کے درمیان تقسیم کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔