حدیث نمبر: 7123
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ عَلَيْهِ جُبَّةُ سِيجَانٍ مَزْرُورَةٌ بِالدِّيبَاجِ ، فَقَالَ : أَلَا إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا ( قَدْ وَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ ابْنَ فَارِسٍ ! قَالَ ) : يُرِيدُ ( أَنْ ) يَضَعَ كُلَّ فَارِسٍ ( ابْنِ فَارِسٍ ) وَيَرْفَعَ كُلَّ رَاعٍ ابْنِ رَاعٍ ! قَالَ : فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ وَقَالَ : " أَلَا أَرَى عَلَيْكَ لِبَاسَ مَنْ لَا يَعْقِلُ " . ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ نُوحًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِابْنِهِ : إِنِّي قَاصٌّ عَلَيْكَ الْوَصِيَّةَ : آمُرُكَ بِاثْنَيْنِ ، وَأَنْهَاكَ عَنِ اثْنَيْنِ . آمُرُكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِنَّ السَّمَاوَاتَ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ لَوْ ( وُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ ، رَجَحَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إَلَّا اللَّهُ ، وَلَو أَنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ ) كُنَّ حَلْقَةً مُبْهَمَةً قَصَمَتْهُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، فَإِنَّهَا صَلَاةُ كُلِّ شَيْءٍ وَبِهَا يُرْزَقُ الْخَلْقُ ، وَأَنْهَاكَ عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ " . ¤ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الشِّرْكُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الْكِبْرُ ؟ الْكِبْرُ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا نَعْلَانِ حَسَنَتَانِ لَهُمَا شِرَاكَانِ حَسَنَانِ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا حُلَّةٌ يَلْبَسُهَا ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : هُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا دَابَّةٌ يَرْكَبُهَا ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : [ أَ ] فَهُوَ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِنَا أَصْحَابٌ يَجْلِسُونَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : " لَا " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْكِبْرُ ؟ قَالَ : " سَفَهُ الْحَقِّ وَغَمْصُ النَّاسِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے دیہاتی علاقے کا رہنے والا ایک شخص آیا ، اس نے سیجان کا جبہ پہنا ہوا تھا ، جس پر دیباج کے بٹن لگے ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خبردار تمہارے اس ساتھی نے ہر شہسوار ابن شہسوار کو رکھ دیا ہے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ اس نے شہسوار ابن شہسوار کو پست کر دیا ہے اور چرواہا ابن چرواہا کو بلند کر دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جبہ کے کنارے پکڑے اور فرمایا : کیا میں تم پر ایسا لباس نہیں دیکھ رہا ہوں ؟ جو اس شخص کا ہوتا ہے ، جسے عقل نہ ہو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے نبی سیدنا نوح علیہ السلام کا جب وفات کا وقت قریب آیا ، تو انہوں نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا : میں تمہیں وصیت کرنے لگا ہوں میں تمہیں دو باتوں کا حکم دوں گا اور تمہیں دو چیزوں سے منع کروں گا ، میں تمہیں لا الہ الا اللہ پڑھنے کا حکم دیتا ہوں ، کیونکہ اگر سات آسمان اور سات زمینیں ایک پلڑے میں رکھے جائیں اور لا الہ الا اللہ کو ایک پلڑے میں رکھا جائے تو لا الہ الا اللہ والا پلڑا بھاری ہو جائے گا ، اور اگر سات آسمان اور سات زمینیں ایک بند حلقہ بن جائیں ، تو لا اله الا اللہ اور سبحان اللہ و بحمدہ ان میں سے گزر جائے گا ، یہ ہر چیز کی نماز ہے ، اسی کے ذریعے مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے اور میں تمہیں شرک کرنے اور تکبر کرنے سے منع کرتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! شرک کا تو ہمیں پتہ چل گیا ہے ، تکبر سے کیا مراد ہے ؟ کیا تکبر سے یہ مراد ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کے اچھے جوتے ہوتے ہیں ، جس کے اچھے تسمے ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : کیا اس سے یہ مراد ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کا عمدہ حلہ ہوتا ہے ، جسے وہ پہنتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : کیا اس سے یہ مراد ہے کہ کسی شخص کا جانور ہو جس پر وہ سوار ہوتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : تو کیا اس سے مراد یہ ہے کہ ہم میں سے کسی ایک شخص کے ساتھ لوگ ہوں ، جن کے ساتھ وہ بیٹھتا ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! پھر تکبر کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حق کو کمتر سمجھنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا“ ۔
حدیث نمبر: 7124
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ طَيَالِسَةٌ مَلْفُوفَةٌ بِدِيبَاجٍ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسَ فَقَالَ : " إِنَّ نُوحًا عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ دَعَا ابْنَيْهِ فَقَالَ : إِنِّي قَاصِرٌ عَلَيْكُمَا الْوَصِيَّةَ آمُرُكُمَا بِاثْنَتَيْنِ ، وَأَنْهَاكُمَا عَنِ اثْنَتَيْنِ أَنْهَاكُمَا عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ وَآمُرُكُمَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرَضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ وَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى كَانَتْ أَرْجَحَ وَلَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا حَلْقَةً فَوُضِعَتْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَلَيْهَا لَفَصَمَتْهَا أَوْ لَفَصَمَتْهَا " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ : " وَأُوصِيكَ بِالتَّسْبِيحِ ، فَإِنَّهَا عِبَادَةُ الْخَلْقِ وَبِالتَّكْبِيرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ فَذَكَرْتُهُ فِي الْأَذْكَارِ فِي فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت ، جو اُن سے منقول ہے ، اس میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کے جسم پر طیالسی جبہ تھا ، جس پر دیباج لگا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور تشریف فرما ہوئے ، آپ نے فرمایا : ” سیدنا نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو انہوں نے اپنے دو بیٹوں کو بلایا اور فرمایا : میں تمہیں ایک مختصر وصیت کرنے لگا ہوں میں تمہیں دو باتوں کا حکم دوں گا اور میں تمہیں دو چیزوں سے منع کروں گا ، میں تم دونوں کو شرک کرنے اور تکبر کرنے سے منع کرتا ہوں ، اور تم دونوں کو لا الہ الا اللہ پڑھنے کا حکم دیتا ہوں ، کیونکہ تمام آسمان اور زمین اور ان کے درمیان تمام چیزیں اگر میزان کے ایک پلڑے میں رکھی جائیں اور لا الہ الا اللہ کو ایک پلڑے میں رکھا جائے ، تو وہ والا پلڑا بھاری ہو جائے گا اور اگر تمام آسمان اور زمین حلقہ بن جائیں اور لا الہ الا اللہ کو ان پر رکھا جائے ، تو وہ اس میں سے نکل جائے گا “ ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، انہوں نے ایک روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” میں تمہیں سبحان اللہ پڑھنے کی وصیت کرتا ہوں ، کیونکہ یہ مخلوق کی عبادت ہے اور تکبیر پڑھنے کی وصیت کرتا ہوں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کے طور پر ذکر کی ہے ، میں نے اس کا ذکر ” اذکار “ والے باب میں لا الہ الا اللہ کی فضیلت سے متعلق باب میں کیا ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کے طور پر ذکر کی ہے ، میں نے اس کا ذکر ” اذکار “ والے باب میں لا الہ الا اللہ کی فضیلت سے متعلق باب میں کیا ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔