حدیث نمبر: 7108
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا عِنْدَ مَوْتِهِ بِصَحِيفَةٍ لِيَكْتُبَ فِيهَا كِتَابًا لَا يَضِلُّونَ بَعْدَهُ ، وَلَا يُضِلُّونَ . وَكَانَ فِي الْبَيْتِ لَغَطٌ فَتَكَلَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَرَفَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَعِنْدَهُ فِي رِوَايَةٍ يَكْتُبُ فِيهَا كِتَابًا لِأُمَّتِهِ قَالَ : " لَا يَظْلِمُونَ ، وَلَا يُظْلَمُونَ " . وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کے قریب ایک صحیفہ منگوایا ، تاکہ اس میں ایسی تحریر لکھ دیں کہ جس کے بعد لوگ گمراہ نہیں ہوں گے اور گمراہ نہیں کریں گے ، گھر میں اس بارے میں آوازیں بلند ہوئیں ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بات چیت شروع کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ ملتوی کر دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تحریر میں اپنی امت کے لئے یہ لکھوانا تھا کہ نہ وہ ظلم کریں اور نہ ان پر ظلم کیا جائے ۔ ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تحریر میں اپنی امت کے لئے یہ لکھوانا تھا کہ نہ وہ ظلم کریں اور نہ ان پر ظلم کیا جائے ۔ ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7109
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكَتِفٍ فَقَالَ : " ائْتُونِي بِكَتِفٍ أَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَخْتَلِفُونَ بِعْدِي أَبَدًا " . ¤ فَأَخَذَ مَنْ عِنْدَهُ مِنَ النَّاسِ فِي لَغَطٍ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِمَّنْ حَضَرَ : وَيْحَكُمُ عَهْدُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ ! فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : اسْكُتِي ، فَإِنَّهُ لَا عَقْلَ لَكِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتُمْ لَا أَحْلَامَ لَكُمْ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جانور کے ) کندھے ( کی ہڈی ) منگوائی ، آپ نے فرمایا : میرے پاس کندھا ( یعنی جانور کی کندھے کی ہڈی ) لے کر آؤ ! تاکہ میں تمہیں تحریر لکھ دوں ، تم میرے بعد کبھی اختلاف نہیں کرو گے تو آپ کے پاس لوگوں کے درمیان بات چیت شروع ہو گئی ، حاضرین میں سے ایک خاتون نے کہا: تم لوگوں کا ستیاناس ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے ، تو حاضرین میں سے کسی نے کہا: تم خاموش رہو ! تمہیں عقل نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سب میں سمجھ داری نہیں ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7110
وَعَنْ مُعَاذٍ قَالَ : أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَشْرِ كَلِمَاتٍ قَالَ : " لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَإِنْ قُتِلْتَ وَحُرِّقْتَ . وَلَا تَعُقَنَّ وَالِدَيْكَ ، وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ أَهْلِكَ وَمَالِكَ . وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مَكْتُوبَةً مُتَعَمِّدًا ، فَإِنَّ مَنْ تَرَكَ صَلَاةً مَكْتُوبَةَ مُتَعَمِّدًا ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ . وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا ، فَإِنَّهُ رَأَسُ كُلِّ فَاحِشَةٍ . وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ ، فَإِنَّ بِالْمَعْصِيَةِ حَلَّ سَخْطُ اللَّهِ . وَإِيَّاكَ وَالْفِرَارَ مِنَ الزَّحْفِ ، وَإِنْ هَلَكَ النَّاسُ ، وَإِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتٌ فَاثْبُتْ . وَأَنْفِقْ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ طَوْلِكَ ، وَلَا تَرْفَعْ عَصَاكَ عَنْهُمْ أَدَبًا وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ مُتَّصِلٌ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقَدٍ الْقُرَشِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دس کلمات کی وصیت کی تھی آپ نے ارشاد فرمایا : ” تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا ، خواہ تمہیں قتل کر دیا جائے یا تمہیں جلا دیا جائے ، اور تم اپنے ماں باپ کی نافرمانی نہ کرنا ، اگرچہ وہ دونوں تمہیں یہ حکم دیں کہ تم اپنے اہل خانہ اور اپنے مال سے نکل جاؤ ، اور تم فرض نماز جان بوجھ کر ہرگز ترک نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص فرض نماز جان بوجھ کر ترک کر دیتا ہے ، اس سے اللہ تعالی کا ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے ، اور تم شراب ہرگز نہ پینا ، کیونکہ یہ ہر برائی کی جڑ ہے اور تم گناہ کے ارتکاب سے بچ کے رہنا ، کیونکہ گناہ اللہ تعالیٰ کی ناراضنگی کو حلال کر دیتا ہے اور تم میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے سے بچنا ، خواہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو رہے ہوں ، اگر لوگوں کو موت لاحق ہو جائے ، تو تم ثابت قدم رہنا ، اور تم اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنا اور ان کی تربیت کے حوالے سے ان سے عصا کو نہ اٹھانا اور انہیں اللہ تعالیٰ کا خوف دلاتے رہنا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، امام طبرانی کی سند متصل ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد قرشی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، امام طبرانی کی سند متصل ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد قرشی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 7111
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ، فَقَالَ : أَوْصِنِي . فَقَالَ : سَأَلْتَنِي عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَبْلِكَ . أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فَإِنَّهُ رَأَسُ كُلُّ شَيْءٍ ، وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فَإِنَّهَا رَهْبَانِيَّةُ الْإِسْلَامِ ، وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللَّهِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ ، فَإِنَّهُ رُوحُكَ فِي السَّمَاءِ وَذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي . قَالَ : " عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ، فَإِنَّهُ جِمَاعُ كُلِّ خَيْرٍ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ : " وَاخَزِنْ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ ، فَإِنَّكَ بِذَلِكَ تَغْلِبُ الشَّيْطَانَ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے ۔ انہوں نے فرمایا : تم نے مجھ سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تم سے پہلے دریافت کیا ( تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ) ” میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ ہر چیز کی بنیاد ہے اور تم پر جہاد کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ اسلام کی رہبانیت ہے اور تم پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور قرآن کی تلاوت کرنا لازم ہے کیونکہ یہ آسمان میں تمہارے لئے آسانی کا باعث بنے گا اور زمین میں تمہارے ذکر کا باعث بنے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! آپ مجھے وصیت کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ ہر بھلائی کا مجموعہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے ، جس میں یہ الفاظ زائد ہیں : ” تم اپنی زبان کو صرف بھلائی کے کام میں استعمال کرنا ، اس کے ذریعے تم شیطان پر غالب آ جاؤ گے “ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! آپ مجھے وصیت کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ ہر بھلائی کا مجموعہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے ، جس میں یہ الفاظ زائد ہیں : ” تم اپنی زبان کو صرف بھلائی کے کام میں استعمال کرنا ، اس کے ذریعے تم شیطان پر غالب آ جاؤ گے “ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 7112
وَعَنْ حَرْمَلَةَ الْعَنْبَرِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي، فَقَالَ : " اتَّقِ اللَّهَ ، وَإِذَا كُنْتَ فِي مَجْلِسٍ فَقُمْتَ مِنْهُ فَسَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ مَا يُعْجِبُكَ فَأْتِهِ ، وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ مَا تَكْرَهُ فَاتْرُكْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حرملہ عنبری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے وصیت کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور جب تم کسی محفل میں موجود ہو اور تم وہاں سے اٹھو اور پھر تم ان لوگوں کو وہ بات کہتے ہوئے سنو ، جو تمہیں اچھی لگے تو تم چلے جانا اور جب ان لوگوں کو کوئی ایسی بات کہتے ہوئے سنو ، جو تم ناپسند کرتے ہو ، تو پھر اسے چھوڑ دینا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7113
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي . قَالَ : " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ؛ فَإِنَّهَا رَأْسُ أَمْرِكَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي . قَالَ : " عَلَيْكَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ ؛ فَإِنَّ ذَلِكَ نُورٌ لَكَ فِي السَّمَاوَاتِ وَنُورٌ لَكَ فِي الْأَرْضِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي . قَالَ : " لَا تُكْثِرِ الضَّحِكَ ؛ فَإِنَّهُ يُمِيتُ الْقَلْبَ وَيُذْهِبُ نُورَ الْوَجْهِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي . قَالَ : " عَلَيْكَ بِالْجِهَادِ ؛ فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ أُمَّتِي " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي . قَالَ : " عَلَيْكَ بِالصَّمْتِ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ ؛ فَإِنَّهُ مَرَدَّةٌ لِلشَّيْطَانِ عَنْكَ وَعَوْنٌ لَكَ عَلَى أَمْرِ دِينِكَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي . قَالَ : " انْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَكَ ، وَلَا تَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكَ ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرِيَ نِعْمَةَ اللَّهِ عِنْدَكَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي . قَالَ : " صِلْ قَرَابَتَكَ ، وَإِنْ قَطَعُوكَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي . قَالَ : " لَا تَخَفْ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ زِدْنِي . قَالَ : " تُحِبُّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ " . ثُمَّ ضَرَبَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ لَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ ، وَلَا وَرَعَ كَالْكَفِّ ، وَلَا حَسَبَ كَحُسْنِ الْخُلُقِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ مِنْ عِنْدِ قَوْلِهِ : لَا وَرَعَ كَالْكَفِّ إِلَى آخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى الْغَسَّانِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَأَبُو زُرْعَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے وصیت کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں ، کیونکہ یہ تمہارے معاملے ( یعنی دین ) کی بنیاد ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر قرآن کی تلاوت کرنا اور اللہ کا ذکر کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ چیز تمہارے لئے آسمانوں میں نور ہو گی اور زمین میں تمہارے لئے نور ہو گی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم زیادہ نہ ہنسنا ، کیونکہ یہ چیز دل کو مردہ کر دیتی ہے اور چہرے کے نور کو رخصت کر دیتی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر جہاد کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ میری امت کے رہبانیت ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر خاموش رہنا لازم ہے البتہ بھلائی کی بات کا معاملہ مختلف ہے ، یہ چیز شیطان کو تم سے پرے کر دے گی اور تمہارے دین کے معاملے میں تمہاری مددگار ہو گی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کا جائزہ لینا جو تم سے کمتر ہو ، تم اس کی طرف نہ دیکھنا جو تم سے بلند تر ہو ، یہ چیز اس بات کے زیادہ لائق ہو گی کہ تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہیں سمجھو گے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، اگرچہ وہ تمہارے ساتھ برا سلوک کریں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ مجھے مزید عطا کیجئے ! آپ نے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہ ہونا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے مزید عطا کیجئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں کے لئے اُسی چیز کو پسند کرنا ، جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور پھر ارشاد فرمایا : ” اے ابوذر ! تدبیر کی مانند کوئی عقل مندی نہیں ہے ، احتیاط کی مانند کوئی پرہیز گاری نہیں ہے ، اور اچھے اخلاق کی مانند کوئی خوبی نہیں ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” پرہیز کی مانند کوئی احتیاط نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہاں سے لے کر آخر تک نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ہشام بن یحیی غسانی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ابوحاتم اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ہشام بن یحیی غسانی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ابوحاتم اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 7114
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَبْعِ خِلَالٍ قَالَ : " لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَإِنْ قُطِّعْتُمْ أَوْ حُرِّقْتُمْ أَوْ صُلِبْتُمْ ، وَلَا تَتْرُكُوا الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَمَنْ تَرَكَهَا مُتَعَمِّدًا ، فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْمِلَّةِ . وَلَا تَرْكَبُوا الْمَعْصِيَةَ ؛ فَإِنَّهَا سُخْطُ اللَّهِ ، وَلَا تَشْرَبُوا الْخَمْرَ ؛ فَإِنَّهَا رَأْسُ الْخَطَايَا كُلِّهَا ، وَلَا تَفِرُّوا مِنَ الْمَوْتِ وَإِنْ كُنْتُمْ فِيهِ ، وَلَا تَعْصِ وَالِدَيْكَ ، وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الدُّنْيَا كُلِّهَا فَاخْرُجْ ، وَلَا تَضَعْ عَصَاكَ عَنْ أَهْلِكَ ، وَأَنْصِفْهُمْ مِنْ نَفْسِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُعْرَفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات باتوں کی وصیت کی تھی آپ نے فرمایا تھا : ” تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا ، خواہ تمہیں کاٹ دیا جائے یا تمہیں جلا دیا جائے ، یا تمہیں مصلوب کر دیا جائے ، اور تم جان بوجھ کر نماز ترک نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص جان بوجھ کر اسے ترک کرتا ہے ، وہ ملت سے خارج ہو جاتا ہے ، اور تم معصیت کا ارتکاب نہ کرنا ، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے اور تم شراب نہ پینا کیونکہ یہ تمام برائیوں کی جڑ ہے ، اور تم موت سے فرار اختیار نہ کرنا ، اگرچہ تم اس میں ہو ، اور تم اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرنا ، اگرچہ وہ دونوں تمہیں یہ حکم دیں کہ تم اپنی پوری دنیا سے نکل جاؤ ، تو تم نکل جانا اور تم اپنے اہل خانہ سے عصا کو اُٹھا کے نہ رکھنا اور اپنی ذات کی طرف سے اُن کے ساتھ انصاف سے کام لینا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن شریح ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن شریح ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7115
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَبْعٍ : " لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَإِنْ قُطِّعْتُ أَوْ حُرِّقْتُ . وَلَا تَتْرُكْ صَلَاةً مُتَعَمِّدًا ؛ فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَهَا ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ . وَلَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ ؛ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ . وَأَطِعْ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ دُنْيَاكَ فَاخْرُجْ مِنْهَا . وَلَا تُنَازِعِ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِنَّكَ أَنْتَ أَنْتَ وَلَا تَفِرَّنَّ مِنَ الزَّحْفِ وَإِنْ هَلَكْتَ . وَأَقْرِ أَصْحَابَكَ ، وَأَنْفِقْ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ طَوْلِكَ ، وَلَا تَرْفَعْ عَنْهُمُ الْعَصَا وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ " . قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : " لَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ ؛ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ " ( فَقَطْ ) . وَقَدْ عَلَّمَ الشَّيْخُ جَمَالُ الدِّينِ الْمِزِّيُّ عَلَيْهِ عَلَامَةَ ابْنِ مَاجَهْ وَلَعَلَّهُ قَلَّدَ فِيهِ ابْنُ عَسَاكِرَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات باتوں کی وصیت کی تھی : ” تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا ، خواہ تمہیں کاٹ دیا جائے یا تمہیں جلا دیا جائے ، اور تم جان بوجھ کر نماز ترک نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص اسے ترک کر دیتا ہے اس سے ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے ، اور تم شراب نہ پینا کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی ہے ، اور تم اپنے ماں باپ کی فرمانبرداری کرنا ، اگرچہ وہ دونوں تمہیں یہ حکم دیں کہ تم دنیا سے نکل جاؤ ، تو تم اس سے نکل جانا اور تم حکومت کے بارے میں متعلقہ فرد سے تنازع نہ کرنا ، تم تم ہی ہو اور تم میدان جنگ سے راہ فرار ہرگز اختیار نہ کرنا ، خواہ تم ہلاک ہو جاؤ اور تم اپنے ساتھیوں کی مہمان نوازی کرنا ، اور اپنے اہل خانہ پر اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرنا ، اور تم اُن سے عصا نہ اٹھانا اور تم اللہ تعالیٰ کا خوف انہیں دلاتے رہنا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے : ” تم شراب نہ پینا کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی ہے “ ۔ شیخ جمال الدین مزی نے اس پر ” ابن ماجہ “ کی علامت لگائی ہے ، شاید انہوں نے اصل میں ” ابن عساکر “ کہنا تھا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7116
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنِّي ، وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي . وَأَنْ أُحِبَّ الْمَسَاكِينَ وَأَدْنُوَ مِنْهُمْ ، وَأَنْ أَصِلَ رَحِمِي ، وَإِنْ قَطَعَتْنِي وَجَفَتْنِي . وَأَنْ أَقُولَ بِاللَّهِ لَا أَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ . وَأَنْ لَا أَسْأَلَ أَحَدًا شَيْئًا . وَأَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، فَإِنَّهَا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو الْجُوديِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی تھی کہ میں اس شخص کا جائزہ لوں ، جو مجھ سے نیچے کا ہے ، میں اس شخص کی طرف نہ دیکھوں ، جو مجھ سے اوپر کا ہے اور یہ کہ میں مسکینوں سے محبت رکھوں اور ان کے قریب رہوں اور میں صلہ رحمی کروں ، اگرچہ وہ لوگ میرے ساتھ زیادتی کریں اور جفا کریں ، اور میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بات کروں ، اور میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی علامت سے خوف زدہ نہ ہوؤں ، اور میں کسی سے کچھ نہ مانگوں اور میں کثرت کے ساتھ لا حول ولا قوة الا باللہ پڑھتا ہوں ، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجودی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجودی ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7117
وَعَنْ أُمَيْمَةَ مَوْلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : كُنْتُ أَصُبُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضُوءَهُ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَقَالَ : أَوْصِنِي . فَقَالَ : " لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا ، وَإِنْ قُطِّعْتَ وَحُرِّقْتَ بِالنَّارِ . وَلَا تَعْصِ وَالِدَيْكَ ، وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تُخَلَّى مِنْ أَهْلِكَ وَدُنْيَاكَ فَتَخَلَّ . وَلَا تَشْرَبَنَّ خَمْرًا ، فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ . وَلَا تَتْرُكَنَّ صَلَاةً مُتَعَمِّدًا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ . وَلَا تَفِرَّنَّ مِنَ الزَّحْفِ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ بَاءَ بِسَخْطٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ . وَلَا تَزْدَادَنَّ فِي تُخُومِ أَرْضِكَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ مِنْ مِقْدَارِ سَبْعِ أَرَضِينَ ، وَأَنْفِقْ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ طَوْلِكَ ، وَلَا تَرَفَعْ عَصَاكَ عَنْهُمْ وَأَخِفْهُمْ فِي اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ وَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام امیمہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وضو کا پانی انڈیل رہی تھی اسی دوران ایک شخص اندر آیا ، اس نے کہا: آپ مجھے وصیت کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا ، خواہ تمہیں کاٹ دیا جائے ، یا تمہیں آگ کے ذریعے جلا دیا جائے ، اور تم اپنے ماں باپ کی نافرمانی نہ کرنا ، اگرچہ وہ دونوں تمہیں یہ حکم دیں کہ تم اپنے اہل خانہ اور اپنی دنیا سے نکل جاؤ ، تو تم نکل جانا اور تم شراب ہرگز نہ پینا ، کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی ہے اور تم جان بوجھ کر نماز ترک نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص ایسا کرتا ہے ، اس سے اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ لاتعلق ہو جاتا ہے ، اور تم میدان جنگ سے راہ فرار ہرگز اختیار نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص ایسا کرتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لے کر واپس آتا ہے ، اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور وہ برا ٹھکانہ ہے ، اور تم زمین کے ( حد بندی کے ) نشانات میں کوئی اضافہ نہ کرنا ، کیونکہ جو شخص ایسا کرے گا ، تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو اس کی گردن پر سات زمینوں کی مقدار جتنے ( وزن کا طوق ) ہو گا اور تم اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنا اور ان سے اپنے عصا کو اُٹھا کے نہ رکھنا اور اللہ تعالیٰ کا خوف انہیں دلاتے رہنا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان رہاوی ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اکثر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان رہاوی ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اکثر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7118
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أُصْبِحَ يَوْمَ صَوْمِي دَهِينًا مُتَرَجِّلًا : " وَلَا تُصْبِحْ يَوْمَ صَوْمِكَ عَبُوسًا . وَأَجِبْ دَعْوَةَ مَنْ دَعَاكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَا لَمْ يُظْهِرُوا الْمَعَازِفَ فَلَا تُجِبْهُمْ . وَصَلِّ عَلَى مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ قَبِلَتِنَا ، وَإِنْ قُتِلَ مَصْلُوبًا أَوْ مَرْجُومًا . وَلَأَنْ تَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ قُرَابِ الْأَرْضِ ذُنُوبًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَبُثَّ الشَّهَادَةَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ قِبْلَتِنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْيَمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ وصیت کی تھی کہ جس دن میں نے روزہ رکھا ہوا ہو ، تو بالوں میں تیل بھی لگایا ہوا ہو ، اور بال سنوارے بھی ہوئے ہوں ، آپ نے فرمایا : تم روزے کی حالت میں ایسی صبح نہ کرنا کہ تم نے ماتھے پر بل ڈالے ہوئے ہوں اور مسلمانوں میں سے جو شخص تمہاری دعوت کرے تو اس کی دعوت قبول کر لینا ، جبکہ وہاں آلات موسیقی ظاہر نہ کیے گئے ہوں ، اگر ایسا ہو ، تو پھر تم قبول نہ کرنا ، اور اہل قبلہ میں سے جو شخص مر جاتا ہے ، تم اس کی نماز جنازہ ادا کرنا ، اگرچہ اسے مصلوب کر کے ، یا سنگسار کر کے مارا گیا ہو ، اور تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ تم نے پوری زمین جتنے گناہ ساتھ لیے ہوئے ہوں ، یہ چیز تمہارے لئے اس سے زیادہ بہتر ہو گی کہ تم نے اہل قبلہ میں سے کسی ایک کے خلاف گواہی دی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یمان بن سعید ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یمان بن سعید ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 7119
وَعَنْ أُمِّ أَنَسٍ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ : " اهْجُرِي الْمَعَاصِيَ ؛ فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ ، وَحَافِظِي عَلَى الْفَرَائِضِ ؛ فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْجِهَادِ ، وَأَكْثِرِي مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ ؛ فَإِنَّكِ لَا تَأْتِي اللَّهَ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ ذِكْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نِسْطَاسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام انس رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے وصیت کیجئے آپ نے فرمایا : تم گناہوں سے لاتعلق رہو ، کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والی ہجرت ہے ، اور تم فرائض کی حفاظت کرنا کیونکہ یہ سب سے زیادہ فضیلت والا جہاد ہے ، اور تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرنا ، کیونکہ تم اللہ تعالیٰ کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لے کر جاؤ گی ، جو اس کے نزدیک اُس کے ذکر سے زیادہ محبوب ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعد بن ابراہیم بن نسطاس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعد بن ابراہیم بن نسطاس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7120
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ : قَالَ مُعَاذٌ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي . قَالَ : " اعْبُدِ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ وَاعْدُدْ نَفْسَكَ فِي الْمَوْتَى وَاذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ كُلِّ حَجَرٍ ، وَعِنْدَ كُلِّ شَجَرَةٍ ، وَإِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً فَاعْمَلْ بِجَنْبِهَا حَسَنَةَ السِّرِّ بِالسِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ بِالْعَلَانِيَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ مجھے وصیت کیجئے ! آپ نے فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کی یوں عبادت کرو جیسے تم اُسے دیکھ رہے ہو اور تم اپنا شمار مرحومین میں کرو ، تم ہر پتھر اور درخت کے پاس اللہ کا ذکر کرو ، اور جب تم کوئی برائی کر لو تو اس کے فوراً بعد نیکی کر لو ، پوشیدہ کی جگہ پوشیدہ اور اعلانیہ کی جگہ اعلانیہ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابوسلمہ نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابوسلمہ نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7121
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اضْمَنُوا لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنُ لَكُمُ الْجَنَّةَ . اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ . وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ . وَأَدُّوا إِذَا ائْتُمِنْتُمْ . وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ . وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ . وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْمُطَّلِبَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اپنی ذات کے حوالے سے مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو ! میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ، جب تم بات کرو ، تو سچ بولو ، جب وعدہ کرو تو پورا کرو ، جب تمہیں امین بنایا جائے تو امانت ادا کر دو ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو ، اپنی نگاہیں جھکا کے رکھو اور اپنے ہاتھ ( کسی کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے ) روک کے رکھو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ مطلب نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ مطلب نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 7122
وَعَنْ أَبِي كَاهِلٍ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَبَا كَاهِلٍ أَلَا أُخْبِرُكَ بِقَضَاءٍ قَضَاهُ اللَّهُ عَلَى نَفْسِهِ " . قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " أَحْيَا اللَّهُ قَلْبَكَ ، وَلَا يُمِيتُهُ يَوْمَ يَمُوتُ بَدَنُكَ . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ لَنْ يَغْضَبَ رَبُّ الْعِزَّةِ عَلَى مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مَخَافَةٌ ، وَلَا تَأْكُلُ النَّارُ مِنْهُ هُدْبَةً . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ سَتَرَ عَوْرَةً حَيَاءً مِنَ اللَّهِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْتُرَ عَوْرَتَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ دَخَلَتْ حَلَاوَةُ الصَّلَاةِ قَلْبَهُ حَتَّى يُتِمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ صَلَّى أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فِي جَمَاعَةٍ يُدْرِكُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَكْتُبَ لَهُ بَرَاءَةً مِنَ النَّارِ . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ صَامَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مَعَ شَهْرِ رَمَضَانَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَرْوِيَهُ يَوْمَ الْعَطَشِ . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ كَفَّ أَذَاهُ عَنِ النَّاسِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَكُفَّ عَنْهُ أَذَى الْقَبْرِ . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ بَرَّ وَالِدَيْهِ حَيًّا وَمَيِّتًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ قُلْتُ : كَيْفَ يَبَرُّ وَالِدَيْهِ إِذَا كَانَا مَيِّتَيْنِ ؟ قَالَ : " بِرُّهُمَا أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِوَالِدَيْهِ ، وَلَا يَسُبَّهُمَا ، وَلَا يَسُبَّ وَالِدَيْ أَحَدٍ فَيَسُبَّ وَالِدَيْهِ . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ عِنْدَ حُلُولِهَا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَهُ مِنْ رُفَقَاءِ الْأَنْبِيَاءِ . اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ قَلَّتْ عِنْدَهُ حَسَنَاتُهُ وَعَظُمَتْ عِنْدَهُ سَيِّئَاتُهُ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُثْقِلَ مِيزَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . اعْلَمَنْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ سَعَى عَلَى امْرَأَتِهِ وَوَلَدِهِ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ يُقِيمُ فِيهِمْ أَمْرَ اللَّهِ وَيُطْعِمُهُمْ مِنْ حَلَالٍ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَهُ مَعَ الشُّهَدَاءِ فِي دَرَجَاتِهِمْ . اعْلَمَنْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ كُلَّ يَوْمٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَكُلَّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حُبًّا بِي وَشَوْقًا لِي كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ ذُنُوبَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَذَلِكَ الْيَوْمَ ، اعْلَمْ يَا أَبَا كَاهِلٍ أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ مُسْتَيْقِنًا بِهِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ بِكُلِّ مَرَّةٍ ذُنُوبَ حَوْلٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَطَاءٍ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ، وَقَالَ : إِسْنَادُهُ مُظْلِمٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوکاہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے ابوکاہل ! کیا میں تمہیں اس فیصلے کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں طے کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہارے دل کو زندگی دے اور اس دن اسے موت کا شکار نہ کرے جب تمہارا جسم مر جائے گا اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو ! کہ رب العزت اس شخص پر غضبناک نہیں ہو گا ، جس کے دل میں خوف ہو اور آگ اس شخص کو بالکل بھی نہیں کھائے گی ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے حیا کی وجہ سے پوشیدہ اور اعلانیہ طور پر شرمگاہ کا پردہ رکھے گا ، تو اللہ تعالی کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اس کے پوشیدہ معاملات کا پردہ رکھے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جس شخص کے دل میں نماز کی حلاوت داخل ہو جائے ، یہاں تک کہ وہ اُس کے رکوع اور سجود کو مکمل کرے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اس بندے کو راضی کرے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص چالیس دن اور چالیس راتوں تک با جماعت نماز یوں ادا کرے کہ وہ تکبیر اولی کو بھی پا لے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کو نوٹ کر لے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو جو شخص ہر مہینے میں تین روزے رکھے اور ساتھ رمضان کے روزے بھی رکھے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ پیاس والے دن اُسے سیراب کرے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص لوگوں کو تکلیف دینے سے باز رہے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قبر کی اذیت اُس سے روک لے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص اپنے والدین کے ساتھ ان کی زندگی اور موت ، ہر حال میں اچھائی کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ قیامت کے دن اُسے راضی کرے ۔ میں نے عرض کی : کوئی شخص اپنے والدین کے مرنے کے بعد ، اُن کے ساتھ اچھا سلوک کیسے کر سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُن کے مرنے کے بعد ان کے ساتھ اچھا سلوک یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین کے لئے دعائے مغفرت کرے اور انہیں برا نہ کہے اور کسی کے والدین کو برا نہ کہے کہ وہ جواب میں اُس کے والدین کو برا کہے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص زکوۃ لازم ہونے کے وقت اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتا ہے ، تو اللہ تعالی کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اسے انبیاء کا ساتھی بنائے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جس شخص کی نیکیاں کم ہوں گی اور اس کی برائیاں زیادہ ہوں گی ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اس کے پلڑے کو بھاری کر دے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص اپنی بیوی بچوں کے لئے ( کمائی کرنے کے لئے ) کوشش کرتا ہے اور اپنے زیر ملکیت لوگوں کے لئے کوشش کرتا ہے اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو قائم رکھتا ہے اور انہیں حلال رزق کھلاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اس شخص کو شہداء کے ساتھ ان کے درجہ میں رکھے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص روزانہ دن کے وقت مجھ پر تین مرتبہ درود بھیجے اور رات کے وقت مجھ پر تین مرتبہ درود بھیجے ، وہ مجھ سے محبت اور میرے شوق کی خاطر ایسا کرے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اس شخص کے اس رات کے اور اس دن کے گناہوں کی مغفرت کر دے ۔ اے ابوکاہل ! تم یہ بات جان لو کہ جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہی ایک معبود ہے ، اور وہ اس بات پر یقین رکھتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ ہر مرتبہ ( یہ کلمات پڑھنے پر ) اس شخص کے ایک سال کے گناہوں کی مغفرت کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عطاء ہے ، جس کا ذکر امام ذہبی نے کیا ہے ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ اس کی سند تاریک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عطاء ہے ، جس کا ذکر امام ذہبی نے کیا ہے ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے کہ اس کی سند تاریک ہے ۔