کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ایک تہائی مال کے بارے میں وصیت کرنا
حدیث نمبر: 7091
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَصَدَّقَ عَلَيْكُمْ بِثُلُثِ أَمْوَالِكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے قریب تمہارے اموال کے ایک تہائی حصے کو تم پر صدقہ کیا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7091
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1382)»
حدیث نمبر: 7092
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَصَدَّقَ عَلَيْكُمْ بِثُلُثِ أَمْوَالِكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ زِيَادَةً فِي حَيَاتِكُمْ لِيَجْعَلَهَا لَكُمْ زِيَادَةً فِي أَعْمَالِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الضَّبِّيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے قریب تمہارے اموال کے ایک تہائی حصے کو تم پر صدقہ کیا ہے تاکہ تمہاری زندگی میں یہ چیز اضافی ہو جائے ، اور یہ تمہارے اعمال میں اضافے کا باعث بن جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن حمید ضبی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7092
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (54/20)»
حدیث نمبر: 7093
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عُبَيْدٍ السُّلَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَاكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ ثُلُثَ أَمْوَالِكُمْ زِيَادَةً فِي أَعْمَالِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن عبید سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے قریب تمہارے اموال کا ایک تہائی حصہ تمہیں عطا کیا ہے ، تاکہ تمہارے اعمال میں اضافہ ہو جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7093
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4129)»
حدیث نمبر: 7094
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَفَعَهُ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ الْمُسْلِمَ لَيَصْنَعُ فِي ثُلُثِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ خَيْرًا فَيُوَفِّي اللَّهُ بِذَلِكَ زَكَاتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” مسلمان شخص موت کے قریب ایک تہائی مال کے بارے میں بھلائی کر دے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کا پورا تزکیہ کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7094
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10460)»
حدیث نمبر: 7095
وَعَنْ عَمْرِو ( بْنِ ) الْقَارِئِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِمَ فَخَلَّفَ سَعْدًا مَرِيضًا حَيْثُ خَرَجَ إِلَى حُنَيْنٍ، فَلَمَّا قَدَّمَ مِنْ جِعْرَانَةَ مُعْتَمِرًا دَخَلَ عَلَيْهِ ، وَهُوَ وَجِعٌ مَغْلُوبٌ . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا ، وَإِنِّي أُورَثُ كَلَالَةً أَفَأُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ أَوْ أَتَصَدَّقُ بِهِ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْهِ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : أَفَأُوصِي بِشَطْرِهِ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : أَفَأُوصِي بِثُلُثِهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ وَذَاكَ كَثِيرٌ " . قَالَ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَمُوتُ بِالْأَرْضِ الَّتِي خَرَجْتُ مِنْهَا مُهَاجِرًا . قَالَ : " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَرْفَعَكَ اللَّهُ فَيَنْكَأَ بِكَ أَقْوَامًا، وَيَنْفَعَ بِكَ آخَرِينَ يَا عَمْرُو بْنَ الْقَارِئِ إِنْ مَاتَ سَعْدٌ بَعْدِي فَهَاهُنَا فَادْفِنْهُ " . نَحْوَ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ هَكَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَهُوَ بِمَكَّةَ بَعْدَ مَا انْطَلَقَ إِلَى حُنَيْنٍ وَرَجَعَ إِلَى الْجِعْرَانَةِ وَقَسَّمَ الْمَغَانِمَ ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عِيَاضُ بْنُ عَمْرٍو الْقَارِئُ ، وَلَمْ يُجَرِّحْهُ أَحَدٌ ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن قاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو بیمار چھوڑا تھا ، یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ حنین تشریف لے گئے تھے ، جب آپ جعرانہ سے عمرہ کرنے کے لئے تشریف لائے ، تو آپ ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے وہ انتہائی بیمار تھے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس مال بھی ہے اور میری آل اولاد نہیں ہے ، تو کیا میں اپنے پورے مال کے بارے میں وصیت کر دوں یا اسے صدقہ کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : کیا میں دو تہائی کے بارے میں وصیت کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : نصف کے بارے میں وصیت کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : ایک تہائی کے بارے میں وصیت کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن یہ بھی زیادہ ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ کیا میں اس سرزمین پر مر جاؤں گا ؟ جہاں سے میں ہجرت کر کے نکلا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں سر بلندی عطا کرے گا ( یعنی تمہیں اور بھی زندگی دے گا ) اور تمہارے ذریعے کچھ لوگوں کو رسوا کرے گا اور دوسرے لوگوں کو تمہارے ذریعے نفع دے گا ، اے عمرو بن قاری ! اگر میرے بعد سعد کا انتقال یہاں ہوتا ہے ، تو تم اسے ( یہاں ) دفن کرنا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے راستے کی طرف اپنے دست مبارک کے ذریعے اس طرح اشارہ کر کے فرمایا کہ یہاں دفن کرنا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے وہ اس وقت مکہ میں تھے یہ آپ کے حنین چلے جانے اور جعرانہ سے واپس آنے اور مال غنیمت تقسیم کر دینے کے بعد کی بات ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا ، صفا و مروہ کی سعی کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیاض بن عمرو قاری ہے ، کسی نے اس پر جرح بھی نہیں کی ہے اور کسی نے اس کی توثیق بھی نہیں کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7095
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1383) اخرجه احمد فى المسند (60/4)»
حدیث نمبر: 7096
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنْ سَعْدًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْوَصِيَّةِ، فَقَالَ لَهُ : " الرُّبْعُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عثمان بن عبدالرحمن مخزومی ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وصیت کے بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک چوتھائی حصے کے بارے میں ( وصیت کر دو ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7096
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (293/22)»
حدیث نمبر: 7097
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ الْبَرَاءَ بْنَ مَعْرُورٍ أَوْصَى لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثُلُثِ مَالِهِ يَضَعُهُ حَيْثُ يَشَاءَ فَرَدَّهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى وَلَدِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَتَابِعِيُّهُ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا براء بن معرور رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنے مال میں ایک تہائی حصے کی وصیت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں چاہیں اُسے خرچ کر سکتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال اُن کے بچوں کو واپس کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے تابعی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7097
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1185)»