کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جس شخص کا کوئی وارث نہ ہو اس کے لئے ایک تہائی سے زیادہ حصے کی وصیت کرنے کا مستحب ہونا
حدیث نمبر: 7090
عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ : قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : إِنَّكُمْ مِنْ احُدَاحِي بِالْكُوفَةِ أَنْ يَمُوتَ أَحَدُكُمْ ، وَلَا يَدْعُ عَصَبَةً ، وَلَا رَحِمًا فَمَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَضَعَ مَالَهُ فِي الْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابومیسرو عمرو بن شرحبیل ہمدانی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے کوفہ کے اکابرین ! اگر تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے اور وہ کسی عصبہ کو نہیں چھوڑتا اور کسی رشتہ دار کو نہیں چھوڑتا ، تو پھر اس کے لئے کیا چیز رکاوٹ ہے ؟ کہ وہ اپنا مال غریبوں اور مسکینوں میں خرچ کر دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7090
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9723)»