کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو اپنی بیماری کے دوران ایک تہائی سے زیادہ کا تصرف کرتا ہے
حدیث نمبر: 7083
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ رِجْلَةٍ لَهُ . فَجَاءَ وَرَثَتُهُ مِنَ الْأَعْرَابِ فَأَخْبَرُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَا صَنَعَ فَقَالَ : " أَوَقَدَ فَعَلَ ذَلِكَ ؟ لَوْ عَلِمْنَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَا صَلَّيْنَا عَلَيْهِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَغَضِبَ ، وَقَالَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ " . ¤ وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اپنے چھ غلام آزاد کر دیے ، دیہات سے تعلق رکھنے والے اس کے ورثاء آئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے طرز عمل کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا اس نے ایسا کیا ہے ؟ اگر ہمیں پہلے پتہ ہوتا ، تو اگر اللہ نے چاہا ، تو ہم اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کرنی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے چھ غلام آزاد کر دیے اس شخص کا ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا ، اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ، تو آپ غصے میں آ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے یہ ارادہ کیا ہے ، کہ میں اس کی نماز جنازہ نہیں ادا کروں گا “ ۔ ان تمام روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7083
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7084
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ لَهُ عِنْدَ الْمَوْتِ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ ، فَأَقْرَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ عِمْرَانَ فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْفَيْضُ بْنُ وَثِيقٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے مرنے کے قریب اپنے چھ غلام آزاد کر دیے ، اس شخص کا ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرعہ اندازی کروا کے اُن میں سے دو غلاموں کو آزاد قرار دیا ، اور چار کو غلام رہنے دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عمران رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فیض بن وثیق ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7084
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (773) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6943)»
حدیث نمبر: 7085
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : أَعْتَقَ رَجُلٌ فِي وَصِيَّتِهِ سِتَّةَ أَرْؤُسٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَسْهَمَ فَأَخْرَجَ ثُلُثَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ تَوْبَةُ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَقَدْ ضُعِّفَ وَوُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اپنی وصیت میں اپنے چھ غلام آزاد کر دیے اس کے ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے غصے کا اظہار کیا ، پھر آپ نے قرعہ اندازی کروا کے ان میں سے دو تہائی کو نکلوا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی توبہ بن نمیر ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7085
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7086
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ ، وَمَاتَ الرَّجُلُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے اپنے چھ غلام آزاد کر دیے ، اس شخص کا ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا ، پھر اس شخص کا انتقال ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے ان غلاموں کے درمیان قرعہ اندازی کروائی اور ان میں سے دو کو آزاد قرار دیا ، اور چار کو غلام رہنے دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7086
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1396)»
حدیث نمبر: 7087
وَعَنِ الْقَاسِمِ أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ وَرَثَتَهُ أَنْ يُوصِيَ بِأَكْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ فَأَذِنُوا لَهُ ، ثُمَّ رَجَعُوا فِيهِ بَعْدَ مَا مَاتَ فَسُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : ذَلِكَ النَّكَرُّهُ لَا يَجُوزُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَالْقَاسِمُ لَمْ يُدْرِكْ عَبْدَ اللَّهِ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اپنے ورثاء سے یہ اجازت مانگی کہ وہ ایک تہائی حصے سے زیادہ کے بارے میں وصیت کر دے ، ورثاء نے اسے اجازت دے دی ، پھر انہوں نے اس اجازت سے رجوع کر لیا ، یہ انہوں نے اس کے مرنے کے بعد کیا ، اس بارے میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : تو انہوں نے فرمایا : یہ زیادتی ہے ، جو درست نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، قاسم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7087
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9161)»
حدیث نمبر: 7088
وَعَنِ الْقَاسِمِ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنْ رَجُلٍ أَعْتَقَ عَبْدَهُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَقَالَ : يَسْعَى فِي قِيمَتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْقَاسِمُ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا : جو مرنے کے قریب اپنا غلام آزاد کر دیتا ہے اور اس شخص کا اس غلام کے علاوہ اور کوئی مال نہیں ہوتا اور اس شخص کے ذمہ قرض بھی ہوتا ہے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ غلام اپنی قیمت جتنی مزدوری کرے گا ( اور قیمت ادا کرے گا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور قاسم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7088
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9719)»
حدیث نمبر: 7089
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِيَّاكَ الْحِرْمَانَ فِي الْحَيَاةِ وَالتَّبْذِيرَ عِنْدَ الْمَوْتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سِنَانٍ الْأَسَدِيُّ كَذَا هُوَ فِي النُّسْخَةِ وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ ابْنُ زِيَادٍ الْأَسْدِيُّ ، فَإِنْ كَانَ ابْنَ زِيَادٍ فَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” زندگی بھر محروم رکھنے ، اور موت کے وقت فضول خرچی کرنے سے بچ کے رہو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سنان اسدی ہے نسخہ میں اسی طرح مذکور ہے لیکن بظاہر یہ لگتا ہے کہ ابن زیاد اسدی ہے کیونکہ اگر یہ ابن زیاد ہو ، تو پھر اس کے رجال صحیح کے رجال ہوں گے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الوصايا / حدیث: 7089
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9722)»