کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: معصیت کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے نذر اس چیز کے حوالے سے ہوتی ہے ، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا ارادہ کیا گیا ہو
حدیث نمبر: 6951
قَالَ جَابِرٌ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، قِيلَ : إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَابِرٍ . ¤ وَرَوَاهُ بِرِجَالِ الصَّحِيحِ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ عَلَى جَابِرٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی معصیت کے بارے میں نذر پوری نہیں کی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، سلیمان بن موسیٰ کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے : اس نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے
یہ روایت صحیح کے رجال کے ساتھ نقل کی ہے ، لیکن یہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ پر ” موقوف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6951
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (297/3)»
حدیث نمبر: 6952
وَعَنْ رَجُلٍ : أَنَّهُ حَجَّ مَعَ ذِي قَرَابَةٍ لَهُ مَقْرُونًا بِهِ . فَرَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . فَقَالَ : إِنَّهُ نَذْرٌ . فَأَمَرَ بِالْقِرَانِ أَنْ يُقْطَعَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ مِنْ رُوَاتِهِ . ¤
محمد محی الدین
ایک صاحب بیان کرتے ہیں : انہوں نے اپنے ایک رشتے دار کے ساتھ رسی میں بندھ کر حج کیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ملاحظہ کیا ، تو فرمایا : اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ نذر ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رسی کے بارے میں حکم دیا کہ اسے کاٹ دیا جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6952
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6953
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَدْرَكَ رَجُلَيْنِ وَهُمَا مُقْتَرِنَانِ يَمْشِيَانِ إِلَى الْبَيْتِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا بَالُ الْقِرَانِ ؟ " . قَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَذَرْنَا أَنْ نَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ مُقْتَرِنَيْنِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ هَذَا نَذْرًا " - فَقَطَعَ قِرَانَهُمَا - " إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کو پایا کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے اور پیدل چلتے ہوئے بیت اللہ کی طرف جا رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس رسی کا کیا معاملہ ہے ؟ ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے یہ نذر مانی تھی کہ اس طرح رسی میں بندھ کر پیدل چل کر ، بیت اللہ کی طرف جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چیز نذر نہیں ہوتی ہے ، آپ نے ان دونوں کی رسی کو کٹوا دیا اور فرمایا : نذر اس چیز کے بارے میں ہوتی ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول مراد لیا گیا ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6953
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6714)»
حدیث نمبر: 6954
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى رَجُلَيْنِ مَقْرُونَيْنِ حَاجَّيْنِ نَذْرًا ، فَقَالَ : " انْزِعَا قِرَانَكُمَا " . فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ نَذْرٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " انْزِعَا قِرَانَكُمَا ، ثُمَّ حُجَّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو آدمیوں کے پاس سے ہوا ، جو بندھے ہوئے تھے اور حج کے لئے جا رہے تھے ، انہوں نے نذر مانی ہوئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں اپنی رسی کو اتار دو ، ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ نذر ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں اپنی رسی کو اتار دو اور پھر حج کے لیے جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کریب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6954
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6955
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَمَا هُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ قَرِيبًا مِنْ مَكَّةَ فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ نَاشِرَةٍ شَعْرَهَا قَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " . قَالُوا : امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ نَاشِرَةً شَعْرَهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَخْتَمِرَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ أَبِي يَحْيَى ، وَهُوَ غَيْرُ الَّذِي فِي الْمِيزَانِ ، فَإِنَّ هَذَا رَوَى عَنْهُ الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ ، وَرَوَى هُوَ عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر کے دوران مکہ کے قریب ایک عورت کو دیکھا ، جس نے بال بکھرائے ہوئے تھے ( یعنی وہ پردے کے بغیر تھی ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ قریش سے تعلق رکھنے والی عورت ہے اور اس نے یہ نذر مانی ہے کہ وہ اپنے بال کھلے رکھ کر ( یعنی پردے کے بغیر ) حج کے لئے جائے گی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ چادر لے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن ابویحیی ہے ، یہ اس راوی کے علاوہ ہے ، جس کا ذکر ” میزان “ میں ہوا ہے کیونکہ اس سے فضل بن سہل اعرج نے روایت نقل کی ہے اور وہ زید بن حباب سے روایت نقل کرتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6955
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1348 و1349)»
حدیث نمبر: 6956
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا نَذْرَ إِلَّا فِيمَا أُطِيعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ ، وَلَا نَذْرَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، وَلَا طَلَاقَ وَلَا عَتَاقَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَزَادَ : " وَلَا يَمِينَ فِي غَصْبٍ " . وَأَسْقَطَ : " وَلَا نَذْرَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ " . وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نذر صرف اس چیز کے بارے میں ہوتی ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی گئی ہو ، قطع رحمی کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ہے اور آدمی جب مالک نہ ہو ، تو طلاق دینے ، یا غلام آزاد کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” غصب کے بارے میں قسم کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی “ اس میں یہ الفاظ ساقط ہیں : ” قطع رحمی کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی “ ۔ معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6956
درجۂ حدیث محدثین: اسنادہ جید
حدیث نمبر: 6957
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : حَفِظْتُ لَكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتًّا : " لَا طَلَاقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ نِكَاحٍ ، وَلَا عَتَاقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مِلْكٍ ، وَلَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ " . ¤ قُلْتُ : وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الطَّلَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : تمہارے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے چھ چیزیں یاد ہیں : ” طلاق دینے کا حق صرف نکاح کے بعد ہوتا ہے ، غلام آزاد کرنا صرف ملکیت کے بعد ہوتا ہے اور معصیت کے بارے میں نذر پوری نہیں کی جاتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ مکمل روایت طلاق سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6957
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (266) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (292)»
حدیث نمبر: 6958
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ النَّاسَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَرَأَى رَجُلًا قَائِمًا كَأَنَّهُ أَعْرَابِيٌّ فِي الشَّمْسِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لِي أَرَاكَ قَائِمًا ؟ " . قَالَ : نَذَرْتُ أَنْ لَا أَجْلِسَ حَتَّى تَفْرَغَ مِنْ خُطْبَتِكَ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْلِسْ لَيْسَ هَذَا بِنَذْرٍ إِنَّمَا النَّذْرُ مَا أُرِيدَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الْمَدَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شدید گرم دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا آپ نے ایک شخص کو کھڑے ہوئے ملاحظہ فرمایا ، وہ دیہاتی لگ رہا تھا اور دھوپ میں کھڑا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں کھڑا ہوا دیکھ رہا ہوں ؟ اس نے کہا: میں نے یہ نذر مانی ہے کہ جب تک آپ خطبہ سے فارغ نہیں ہوں گے میں بیٹھوں گا نہیں ’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! یہ نذر نہیں ہوتی ہے ، نذر وہ ہوتی ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا مراد لی گئی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع مدنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6958
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبرانى فى المعجم الاوسط (1432) اخرجه احمد فى المسند (6975)»
حدیث نمبر: 6959
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : نَذَرَ أَبُو إِسْرَائِيلَ أَنْ يَقُومَ يَوْمًا فِي الشَّمْسِ يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ ، وَلَا يَتَكَلَّمَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَقْعُدَ وَيَتَكَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابواسرائیل رضی اللہ عنہ نے یہ نذر مانی کہ وہ پورا دن ، رات ہونے تک دھوپ میں کھڑے رہیں گے اور بات چیت نہیں کریں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ بیٹھ بھی جائیں اور بات چیت بھی کریں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6959
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6960
وَعَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْكِلَابِيِّ قَالَ : سُرِقَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجَدْعَاءُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَئِنْ رَدَّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيَّ لَأَشْكُرَنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ " . فَوَقَعَتْ فِي حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِيهِ امْرَأَةٌ مُسْلِمَةٌ فَكَانَتِ الْإِبِلُ إِذَا سَرَحَتْ سَرَحَتْ مُتَوَحِّدَةً فَإِذَا بَرَكَتِ الْإِبِلُ بَرَكَتْ مُتَوَحِّدَةً وَاضِعَةً بِجِرَانِهَا . فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : كَأَنِّي بِهَذِهِ النَّاقَةِ تَمَثَّلُ بِشَيْءٍ فَأَوْقَعَ اللَّهُ فِي خَلَدِهَا أَنْ تَهَرُبَ عَلَيْهَا فَوَجَدَتْ مِنَ الْقَوْمِ غَفْلَةً فَقَعَدَتْ عَلَيْهَا ، ثُمَّ حَرَّكَتْهَا ، فَصَبَّحَتْ بِهَا الْمَدِينَةَ ، فَلَمَّا رَآهَا الْمُسْلِمُونَ فَرِحُوا بِهَا وَمَشَوْا بِجَنْبِهَا حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآهَا قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ " . فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ أَنْجَانِي اللَّهُ عَلَيْهَا لَأَنْحَرَهَا وَأُطْعِمَ لَحْمَهَا الْمَسَاكِينَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِئْسَ مَا جَزَيْتِيهَا . لَا نَذْرَ لَكِ إِلَّا فِيمَا مَلَكَتْ يَمِينُكِ " فَانْتَظَرْنَا هَلْ يُحْدِثُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْمًا أَوْ صَلَاةً فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَسِيَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ قُلْتَ : " لَئِنْ رَدَّهَا اللَّهُ تَعَالَى عَلَيَّ لَأَشْكُرَنَّ رَبِّي " . فَقَالَ : " أَوَلَمْ أَقُلِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقَدٍ الْقُرَشِيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ وَرُدَّ عَلَيْهِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ وَتُرِكَ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جدعاء چوری ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ نے وہ مجھے واپس کروا دی تو میں اپنے پروردگار کا ضرور شکر ادا کروں گا ، وہ اونٹنی عربوں کے ایک قبیلے تک پہنچ گئی ، جس میں ایک مسلمان عورت بھی قید تھی ، وہاں یہ ہوتا تھا کہ جب اونٹ بیٹھتے تھے تو الگ الگ بیٹھا کرتے تھے اور اپنی گردن ڈال دیتے تھے اس عورت نے سوچا یوں لگتا ہے یہ اونٹنی کچھ مانوس سی لگتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ وہ اس کے اوپر سوار ہو کر فرار ہو سکتی ہے ، اس نے لوگوں کو غفلت کی حالت میں پایا ، تو وہ اس اونٹنی پر سوار ہوئی اسے حرکت دی اور اس پر سوار ہو کر مدینہ منورہ آ گئی جب مسلمانوں نے اسے دیکھا تو وہ اس حوالے سے خوش ہوئے اور اس کے پہلو میں چلتے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک آ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے ملاحظہ فرمایا ، تو آپ نے فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، اس عورت نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس اونٹنی پر نجات عطا کر دی ، تو میں اسے قربان کر کے اس کا گوشت مسکینوں کو کھلاؤں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اسے برا بدلہ دیا ہے ، تمہاری نذر صرف اس چیز کے بارے میں ہو سکتی ہے ، جس کی تم مالک ہو ، راوی کہتے ہیں : ہم اس بات کا انتظار کرتے رہے کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھیں گے ، یا نماز پڑھیں گے ، لوگوں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ بھول گئے ہیں ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ نے تو یہ بات ارشاد فرمائی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے یہ اونٹنی مجھے واپس کر دی ، تو میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں نے یہ نہیں کہا: تھا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد قرشی ہے ، جسے محمد بن مبارک صوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن ان کی اس بات کو مسترد کیا گیا ہے ائمہ نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے اور اس کی حدیث کو متروک قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6960
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1075)»
حدیث نمبر: 6961
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو الْحُوَيْرِثِ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن بدر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” معصیت کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوحویرث ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6961
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6962
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ذُودًا لِي عَلَى صَنَمٍ مِنْ أَصْنَامِ الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ ، وَلَا تَأْثَمْ بِرَبِّكَ " ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ ، وَلَا قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ بِتَمَامِهِ فِي اللُّقَطَةِ ، وَفِيهِ أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میں زمانہ جاہلیت کے ایک بت کے پاس اپنے اونٹ کو ذبح کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی نذر کو پورا کر دو لیکن اپنے پروردگار کی نافرمانی نہ کرو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : معصیت کے بارے میں قطع رحمی کے بارے میں اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو ، ( اس کے بارے میں ) نذر کا پورا کرنا لازم نہیں ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے مکمل روایت لقطہ سے متعلق باب میں گزر چکی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان ہے ، جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6962
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6963
وَعَنْ كَرَدْمِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ لَأَنْحَرَنَّ ذُودًا لِي مَكَانَ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ لَا نَذْرَ فِي قَطِيعَةِ رَحِمٍ ، وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ يَأْتِي فِي النِّكَاحِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کردم بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میں فلاں فلاں جگہ پر ایک اونٹ قربان کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی نذر پوری کر دو ، لیکن قطع رحمی کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو ، اس کے بارے میں بھی نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو آگے چل کر نکاح سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6963
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (191/19)»
حدیث نمبر: 6964
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ نَذَرَ أَنْ يَضْرِبَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ بِالسَّيْفِ ضَرْبَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ فِيهِ كَلَامٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
علی بن زید بن جدعان بیان کرتے ہیں : سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے یہ نذر مانی کہ وہ تلوار کے ذریعے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ پر ضرب لگائیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، علی بن زید نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور
یہ روایت ” مرسل “ ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6964
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل