کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو کوئی قسم اٹھاتا ہے پھر ( قسم کے برخلاف کرنا ) اس سے زیادہ بہتر سمجھتا ہے
حدیث نمبر: 6935
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَكَفَّارَتُهَا تَرْكُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر کوئی کام اس سے زیادہ بہتر دیکھے ، تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اس کو ترک کر دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6935
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (76/3)»
حدیث نمبر: 6936
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا فَلْيَأْتِهَا ، فَإِنَّهَا كَفَّارَتُهَا إِلَّا طَلَاقًا أَوْ عَتَاقًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ رَمَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ بِالْكَذِبِ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : صُوَيْلِحٌ يُعْتَبَرُ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کوئی قسم اٹھائے ، پھر اس کے علاوہ کوئی کام کو ( اس سے زیادہ بہتر دیکھے ) تو وہ کام کر لے ، کیونکہ اس کا کفارہ یہی ہو گا ، البتہ طلاق دینے ، یا غلام آزاد کرنے کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عمرو بن مالک نکری ہے ، جس پر حماد بن زید نے جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ کم درجہ کا صالح ہے اور اس کا اعتبار کیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6936
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12793)»
حدیث نمبر: 6937
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا [ يَعْنِي ] خَيْرًا مِنْهَا ، فَكَفَّارَتُهَا تَرْكُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی قسم کے بارے میں حلف اٹھا لے ، اور پھر اس کے علاوہ کام کو اس سے زیادہ بہتر سمجھے ، تو اسے چھوڑ دے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن بیلمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6937
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5762)»
حدیث نمبر: 6938
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَحْمَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكَ " . فَلَمَّا قَفَا دَعَاهُ فَحَمَلَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنِي قَالَ : " فَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کے لئے جانور مانگا ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور طرف مصروف تھے ، آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہیں جانور نہیں دوں گا جب سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ چلے گئے تو آپ نے انہیں بلوایا اور سواری کے لئے انہیں جانور دیدیا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے تو یہ حلف اٹھایا کہ آپ مجھے سواری کے لئے جانور نہیں دیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اب میں یہ حلف اٹھاتا ہوں کہ میں تمہیں سواری کا جانور ضرور دوں گا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6938
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1344) اخرجه ابو يعلى فى المسند (3835) اخرجه احمد فى المسند (12056 و 12835 و12836 و 13471 و 13621)»
حدیث نمبر: 6939
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْتَحْمِلُهُ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِي ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ وَاللَّهِ مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ " مَرَّتَيْنِ . فَأُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثَلَاثَةِ أَجَمَالٍ غُرِّ الذُّرَى ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا فَحَمَلَنَا ، فَلَمَّا مَضَيْنَا قُلْتُ لِأَصْحَابِي : مَا أَرَاهُ أَنْ يُبَارَكَ لَنَا فِيهَا ، وَقَدْ حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ، ثُمَّ حَمَلَنَا . فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَأَخْبَرَنَاهُ بِيَمِينِهِ فَقَالَ : " لَمْ أَنْسَ يَمِينِي ، وَلَكِنِّي إِذَا حَلَفْتُ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتُ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَعَلْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي الْأَوْسَطِ طَرَفٌ مِنْهُ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ زَرْبَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں اپنی قوم کے کچھ افراد کے ساتھ تھا ، میں نے آپ سے سواری کے لئے جانور مانگے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہیں سواری کے لئے جانور نہیں دوں گا ، اللہ کی قسم ! میرے پاس تمہیں دینے کے لئے سواری کا کوئی جانور ہے بھی نہیں ، یہ بات آپ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عمدہ قسم کے تین اونٹ لائے گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیغام بھیجا ، اور وہ ہمیں سواری کے لئے دے دیے پھر ہم وہاں سے روانہ ہوئے ، تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: میرا یہ خیال ہے کہ ان جانوروں میں ہمارے لئے برکت نہیں رکھی جائے گی ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ حلف اٹھا لیا تھا کہ آپ ہمیں سواری کے لئے جانور نہیں دیں گے ، لیکن پھر آپ نے ہمیں دے دیے ہیں ، ہم واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو آپ کی قسم کے بارے میں بتایا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں اپنی قسم بھولا نہیں ہوں ، لیکن جب میں کوئی قسم اٹھا لوں اور پھر اس کے علاوہ کام کو اس سے بہتر سمجھوں ، تو وہ کام کروں گا جو زیادہ بہتر ہو گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زربی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6939
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (158/18)»
حدیث نمبر: 6940
وَرُوِيَ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادٍ إِلَى عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ أَيْضًا : أَنَّ أَبَا مُوسَى أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَحْمِلُهُ ، قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . أَحَالَهُ عَلَى حَدِيثِهِ الطَّوِيلِ هَذَا . ¤ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ . ¤
محمد محی الدین
معجم کبیر میں اس سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے : سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے سواری کے لئے جانور مانگے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، تو انہوں نے اس طویل حدیث کی طرف رجوع کرنے کے لئے کہہ دیا ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد بن عرق ہے ، جسے امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6940
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (199/18 و200)»
حدیث نمبر: 6941
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِبِلًا فَفَرَّقَهَا ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَجِدْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ : " لَا " . فَقَالَ لَهُ ثَلَاثًا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَاللَّهِ لَا أَفْعَلُ " . وَبَقِيَ أَرْبَعٌ غُرُّ الذَّرَى ، فَقَالَ : " خُذْهُنَّ يَا أَبَا مُوسَى " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي اسْتَجْدَيْتُكَ فَمَنَعْتَنِي وَحَلَفْتَ ، فَأَشْفَقْتُ أَنْ يَكُونَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهْمٌ فَقَالَ : " إِنِّي إِذَا حَلَفْتُ فَرَأَيْتُ غَيْرَ ذَلِكَ أَفْضَلَ كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ أَفْضَلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مال فئے کے طور پر اونٹ دیے تو آپ نے انہیں تقسیم کیا ، سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بھی عطا کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے تین مرتبہ آپ کی خدمت میں گزارش کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا ، پھر چار عمدہ قسم کے اونٹ آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوموسیٰ ! تم انہیں لے لو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پہلے میں نے آپ سے سواری کے لئے مانگے تھے تو آپ نے مجھے منع کر دیا تھا اور حلف اٹھا لیا تھا ، اب مجھے یہ اندیشہ ہے کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جب حلف اٹھاؤں اور پھر اس کے علاوہ کام کو زیادہ فضیلت والا دیکھوں ، تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا اور وہ کام کروں گا ، جو زیادہ فضیلت والا ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6941
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6942
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَحْلِفُ عَلَى الشَّيْءِ ، ثُمَّ أَنْدَمُ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک ایسا شخص ہوں ، جو کسی چیز کے حوالے سے حلف اٹھا لیتا ہوں اور پھر مجھے اس پر ندامت ہوتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کوئی حلف اٹھائے اور پھر اس کے علاوہ کام کو اُس سے زیادہ بہتر سمجھے تو وہ کام کر لے ، جو زیادہ بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دیدئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6942
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6943
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُذَيْنَةَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن اذینہ ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کوئی قسم اٹھائے ، پھر اس کے علاوہ کام کو ، اس سے زیادہ بہتر سمجھے تو وہ کام کرے ، جو زیادہ بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دیدے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، عبداللہ بن اذینہ نامی راوی ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( شروع میں راوی کا نام عبدالرحمن بن اذینہ ذکر ہوا ہے ، شاید کاتب کی غلطی ہے ، یا پھر راوی کوئی اور ہو گا ) ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6943
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (837)»
حدیث نمبر: 6944
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حَبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر کسی چیز کو اس سے زیادہ بہتر دیکھے ، تو وہ اپنی قسم کا کفارہ دیدے اور وہ کام کر لے ، جو زیادہ بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6944
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6907)»
حدیث نمبر: 6945
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا حَلَفَتْ فِي غُلَامٍ لَهَا اسْتَعْتَقَهَا قَالَتْ : لَا أَعْتَقَهَا اللَّهُ مِنَ النَّارِ إِنْ أَعْتَقَتْهُ أَبَدًا . ثُمَّ مَكَثَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَتْ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ ، ثُمَّ يَفْعَلِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " . فَأَعْتَقَتِ الْعَبْدَ ، ثُمَّ كَفَّرَتْ عَنْ يَمِينِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَسَنٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے اپنے ایک غلام کے بارے میں حلف اٹھا لیا ، جس نے ان سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ اسے آزاد کر دیں ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ حلف اٹھا لیا کہ اگر میں نے اسے آزاد کیا ، تو اللہ تعالیٰ مجھے جہنم سے آزاد نہ کرے ، تو جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا ، اتنا عرصہ گزر گیا ، پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سبحان اللہ ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر اس سے زیادہ بہتر صورت حال دیکھے ، تو وہ اپنی قسم کا کفارہ دیدے اور وہ کام کر لے ، جو زیادہ بہتر ہے “ ۔ پھر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس غلام کو آزاد کر دیا اور اپنی قسم کا کفارہ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ عبداللہ بن حسن نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6945
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (23/307)»