حدیث نمبر: 6931
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَهَدَتِ إِلَيْهَا امْرَأَةٌ تَمْرًا فِي طَبَقٍ فَأَكَلَتْ بَعْضًا ، وَبَقِيَ بَعْضٌ فَقَالَتْ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ إِلَّا أَكَلْتِ بَقِيَّتَهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَبِرِّيهَا ، فَإِنَّ الْإِثْمَ عَلَى الْمُحْنِثِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک خاتون نے کچھ کھجوریں تھال میں رکھ کر انہیں دیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کچھ کھا لیں کچھ باقی بچ گئیں تو اس خاتون نے کہا: میں آپ کو قسم دے کر یہ کہتی ہوں کہ آپ باقی بھی کھا لیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ) فرمایا : تم اس کی قسم پوری کروا دو ، کیونکہ قسم توڑنے والے پر گناہ ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6932
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ عَائِشَةَ فَجَاءَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا أَوْ مَوْلَاةٌ بِقَدِيدٍ ، فَقَالَتْ : كُلِي هَذِهِ يَا سَيِّدَتِي ، فَقَدْ أَعْجَبَنِي طِيبُهَا . فَقَالَتْ : أَخِّرِيهَا عَنِّي . فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : أَخِّرِيهَا عَنِّي . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ أَحْنَثْتِيهَا كَانَ عَلَيْكِ إِثْمُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سید عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھے ، ان کی کنیز ان کے پاس ” قدید “ لے کے آئی ، اس نے کہا: اے میری مالکن ! آپ اسے کھائیں کیونکہ مجھے اس کی خوشبو پسند آئی ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم ابھی مجھے اس سے دور رکھو ، اس کنیز نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو قسم دی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم اسے مجھ سے دور رکھو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اس کی قسم توڑواتی ہو ، تو پھر اس کا گناہ تم پر ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ، بعض حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ، بعض حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 6933
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : أُمِرْنَا بِإِبْرَارِ الْقَسَمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمیں قسم پوری کروانے کا حکم دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6934
وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ وَمَعَهُ غُنَيْمَاتٌ لَهُ ، فَقَالَ : بِكَمْ تَبِيعْ غَنَمَكَ هَذِهِ ؟ بِكَذَا وَكَذَا فَحَلَفَ أَنْ لَا يَبِيعَهَا ، فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَمَرَّ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ خُذْهَا بِالَّذِي أَعْطَيْتَنِي قَالَ : حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَلَمْ أَكُنْ لِأُعِينَ الشَّيْطَانَ عَلَيْكَ ، وَأَنْ أُحْنِثَكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ، جس کے ساتھ کچھ بکریاں تھیں ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم اپنی یہ بکریاں کتنے کے عوض میں فروخت کرو گے ؟ کیا اتنے اتنے کے عوض میں فروخت کر دو گے ؟ اس نے یہ حلف اٹھا لیا کہ وہ انہیں فروخت نہیں کرے گا ، پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آگے چلے گئے ۔ انہوں نے اپنا کام مکمل کیا ، جب وہ دوبارہ اس شخص کے پاس سے گزرے ، تو اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! آپ جو رقم مجھے دے رہے تھے اس کے عوض میں یہ حاصل کر لیں ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ فرمایا : کہ تم نے تو قسم اٹھائی تھی ، اب میں تمہارے خلاف شیطان کی مدد نہیں کروں گا کہ تمہیں حانث کروا دوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔