حدیث نمبر: 6946
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَوْمٍ يَتَرَامَوْنَ وَهُمْ يَحْلِفُونَ : أَخْطَأْتَ وَاللَّهِ أَصَبْتَ وَاللَّهِ . فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْسَكُوا فَقَالَ : " ارْمُوا ، فَإِنَّمَا أَيْمَانُ الرُّمَاةِ لَغْوٌ لَا حِنْثَ فِيهَا ، وَلَا كَفَّارَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ يُوسُفَ بْنَ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الثَّقَفِيَّ لَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ ، وَلَا جَرَّحَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا ، جو تیراندازی کا مقابلہ کر رہے تھے اور ساتھ قسمیں بھی اٹھاتے جا رہے تھے ، اللہ کی قسم ! تمہارا نشانہ خطا ہو گیا ، اللہ کی قسم ! تمہارا نشانہ ٹھیک ہوا ، جب ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ رک گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا : تم لوگ تیراندازی کرتے رہو ، کیونکہ تیراندازی کرنے والوں کی قسمیں لغو شمار ہوتی ہے ، اس میں حانث ہونا نہیں ہوتا اور اس میں کفارہ نہیں ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد یوسف بن یعقوب بن عبدالعزیز ثقفی کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے کسی کو اس کی توثیق کرتے ہوئے ، یا اس پر جرح کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد یوسف بن یعقوب بن عبدالعزیز ثقفی کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے کسی کو اس کی توثیق کرتے ہوئے ، یا اس پر جرح کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔