کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قسم میں استثناء پیدا کرنا
حدیث نمبر: 6927
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا " . ثُمَّ قَالَ : " إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا " . ثُمَّ قَالَ : " إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . ثُمَّ قَالَ : " وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قَرَيْشًا " . ثُمَّ قَالَ : " إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی قسم ! میں قریش کے ساتھ ضرور جنگ کروں گا پھر آپ نے فرمایا : ان شاء اللہ ، پھر آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں قریش کے ساتھ ضرور جنگ کروں گا ، پھر آپ نے فرمایا : ان شاء اللہ ، پھر آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں قریش کے ساتھ ضرور جنگ کروں گا پھر آپ نے فرمایا : ان شاء اللہ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام ابویعلیٰ نے
یہ روایت اس کی مانند نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6927
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (2674) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط، (1008) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11742)»
حدیث نمبر: 6928
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : " وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ " الِاسْتِثْنَاءُ ؛ فَاسْتَثْنِ إِذَا ذَكَرْتَ ، قَالَ : هِيَ خَاصَّةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْتَثْنِيَ إِلَّا فِي صِلَةِ الْيَمِينِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حُصَيْنٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ” جب تم بھول جاؤ ، تو اپنے پروردگار کا ذکر کرو “ ۔ ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ) اس سے مراد استثناء کرنا ہے کہ جب تمہیں یاد آ جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے اور کسی کے لئے یہ استثناء کرنے کا حق نہیں ہے ، البتہ قسم کو ملانے کے لئے ایسا کیا جا سکتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن حصین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6928
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6929
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مِنْ تَمَامِ إِيمَانِ الْعَبْدِ أَنْ يَسْتَثْنِيَ فِي كُلِّ حَدِيثٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بندے کی قسم کی تکمیل میں یہ بات شامل ہے کہ وہ ہر بات میں استثناء کرے ( یا ان شاء اللہ کہہ دے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6929
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 6930
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ : إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَقَدِ اسْتَثْنَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْقَاسِمَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص کوئی قسم اٹھائے اور پھر ان شاء اللہ کہہ دے ، تو اس نے استثناء کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ قاسم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی االلہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6930
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع