حدیث نمبر: 6923
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّهُ افْتَدَى يَمِينَهُ بِعَشَرَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ ، ثُمَّ قَالَ : وَرَبِّ هَذِهِ الْكَعْبَةِ لَوْ حَلَفْتُ حَلَفْتُ صَادِقًا إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ افْتَدَيْتُ بِهِ يَمِينِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے اپنی قسم کی جگہ دس ہزار درہم فدیہ کے طور پر دیدیے تھے اور پھر یہ بات بیان کی تھی : رب کعبہ کی قسم ! اگر میں حلف اٹھاتا تو سچا ہوتا لیکن یہ ایک ایسی چیز ہے ، جسے میں نے اپنی قسم کی جگہ فدیہ کے طور پر دے دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6924
وَعَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : اشْتَرَيْتُ يَمِينِي مَرَّةً بِسَبْعِينَ أَلْفًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ الْبَجْلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے اپنی قسم ، ایک مرتبہ ستر ہزار کے عوض میں خریدی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب بجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب بجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6925
وَعَنْ عَبْدِ الْقَاهِرِ بْنِ السَّرِيِّ قَالَ : اخْتَفَى رَجُلٌ عِنْدَ أَبِي السَّوَّارِ الْعَدَوِيِّ زَمَنَ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ فَقِيلَ لِلْحَجَّاجِ : إِنَّهُ عِنْدَ أَبِي السَّوَّارِ . فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَأَحْضُرُهُ ، فَقَالَ لَهُ : الرَّجُلُ عِنْدَكَ ! فَقَالَ : لَيْسَ عِنْدِي . قَالَ : وَإِلَّا فَأُمُّ السَّوَّارِ طَالِقٌ - يَعْنِي امْرَأَةَ أَبِي السَّوَّارِ - فَقَالَ : مَا خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهَا وَأَنَا أَنْوِي طَلَاقَهَا . قَالَ : وَإِلَّا فَأَنْتَ بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ ، قَالَ فَإِلَى أَيْنَ تَذْهَبُ ؟ فَخَلَّى سَبِيلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالقاہر بن سری بیان کرتے ہیں : ایک شخص ابوسوار عدوی کے ہاں چھپ گیا ، یہ حجاج بن یوسف کے زمانے کی بات ہے ، حجاج کو بتایا گیا کہ وہ شخص ابوسوار کے ہاں ہے ، حجاج نے انہیں بھیجا جب وہ آئے تو حجاج نے ان سے دریافت کیا : وہ شخص تمہارے پاس ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : میرے پاس نہیں ہے ، اس نے کہا: اگر ایسا نہ ہو ، تو سوار کی والدہ ، یعنی ابوسوار کی اہلیہ ، کو طلاق ہے ، تو انہوں نے کہا: میں نے اس خاتون کے پاس سے نکلتے ہوئے اُسے طلاق دینے کی نیت نہیں کی تھی ، اس نے کہا: اچھا ، پھر آپ اسلام سے بری ہوں گے ، انہوں نے دریافت کیا : پھر تم کہاں جاؤ گے ؟ تو اس نے انہیں چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔