کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے مال ہتھیا لے
حدیث نمبر: 6902
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَرْضِ أَحَدِهِمَا مِنْ [ أَهْلِ ] حَضْرَمَوْتَ قَالَ : فَجَعَلَ يُحَلِّفُ أَحَدَهُمَا ، فَضَجَّ الْآخَرُ وَقَالَ : إِذًا ذَهَبَ بِأَرْضِي . فَقَالَ : " إِنْ هُوَ اقْتَطَعَهَا بِيَمِينِهِ ظُلْمًا كَانَ مِمَّنْ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَا يُزَكِّيهِ وَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ " قَالَ : وَوَرِعَ الْآخَرُ فَرَدَّهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے ایک زمین کے بارے میں مقدمہ پیش کیا جو ان دونوں میں سے کسی ایک کی تھی اور ان کا تعلق حضرموت سے تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : ان دونوں میں سے ایک حلف اٹھانے لگا تو دوسرا پریشان ہو گیا اور بولا: ایسی صورت میں تو یہ میری زمین لے جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اس نے اپنی قسم کی بنیاد پر ظلم کے طور پر وہ زمین ہتھیائی ہو گی ، تو یہ ان افراد میں سے ایک ہو گا کہ قیامت کے دن اللہ تعالٰی نہ تو اس کی طرف نظر کرے گا اور نہ ہی اس کا تزکیہ کرے گا اور اس کے لئے دردناک عذاب ہو گا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو دوسرا شخص پریشان ہو گیا اور اس نے وہ زمین واپس کر دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام بزار نے ، امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6902
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1359) اخرجه ابو يعلى فى المسند (7274) اخرجه احمد فى المسند (394/4)»
حدیث نمبر: 6903
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ : خَاصَمَ رَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ يُقَالُ لَهُ : امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ رَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَضَى عَلَى الْحَضْرَمِيِّ بِالْبَيِّنَةِ ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ ، فَقَضَى عَلَى امْرِئِ الْقَيْسِ بِالْيَمِينِ ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : [ إِنْ ] أَمْكَنْتَهُ مِنَ الْيَمِينِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَتْ وَاللَّهِ - أَوْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ - أَرْضِي . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلِفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ أَحَدٍ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . قَالَ رَجَاءٌ : وَتَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا فَقَالَ امْرُؤُ الْقَيْسِ : مَاذَا لِمَنْ تَرَكَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجَنَّةُ " . قَالَ : فَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَرَكْتُهَا لَهُ كُلَّهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کندہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام امرء القیس بن عابس تھا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضر موت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے خلاف مقدمہ پیش کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی شخص کے لیے ثبوت فراہم کرنے کا فیصلہ دیا ، تو اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امرء القیس کے لیے قسم کا فیصلہ دیا ، تو حضرمی نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپ اسے قسم اٹھانے کا موقع دیں گے ، تو یہ اللہ کی قسم ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) رب کعبہ قسم ! میری زمین لے جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جھوٹی قسم اٹھا کر اس کے ذریعے کسی شخص کا مال ہتھیائے گا ، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اللہ تعالٰی اس پر غضبناک ہو گا “ ۔ رجاء نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک وہ لوگ جو اللہ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسموں کے عوض میں ، تھوڑی قیمت کماتے ہیں “ ۔ امرہ القیس نے کہا: یا رسول اللہ ! جو شخص اسے چھوڑ دے ، اُسے کیا ثواب ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت ، اس نے عرض کی : پھر میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں نے ساری زمین اس کے لئے چھوڑ دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6903
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6904
وَعَنِ الْعُرْسِ بْنِ عُمَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَامْرَأَ الْقَيْسِ بْنَ عَابِسٍ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ خُصُومَةٌ لَهُ فِي أَرْضٍ ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَضْرَمِيَّ الْبَيِّنَةَ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ فَقَضَى عَلَى امْرِئِ الْقَيْسِ بِالْيَمِينِ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ أَمْكَنْتَهُ مِنَ الْيَمِينِ ذَهَبَ وَاللَّهِ بِأَرْضِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَ الْقَيْسَ فَتَلَا عَلَيْهِ الْآيَةَ : " إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا الْآيَةَ " . فَقَالَ امْرُؤُ الْقَيْسِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا لِمَنْ تَرَكَهَا ؟ قَالَ : " الْجَنَّةُ " . قَالَ : فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَرَكْتُهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرموت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص اور امرء القیس بن عابس کے درمیان ایک زمین کے سلسلے میں مقدمہ تھا ، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے ثبوت مانگا اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امرء القیس کے لئے قسم اٹھانے کا فیصلہ دے دیا ، تو حضرمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ اسے قسم اٹھانے کا موقع دیں گے ، تو اللہ کی قسم یہ میری زمین لے جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص جھوٹی قسم اٹھا لے تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان شخص کا مال ہتھیا لے ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا“ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امرء القیس کو بلوایا اور اس کے سامنے یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک وہ لوگ جو اللہ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسموں کے عوض میں تھوڑی قیمت خریدتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ الآیة تو امراء القیس نے کہا: یا رسول اللہ ! جو شخص اسے ترک کر دے ، اسے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت ، اس نے عرض کی : پھر میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں نے اسے چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6904
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (137/17 و138)»
حدیث نمبر: 6905
وَعَنْ عِيَاضِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ عِنْدَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عیاض بن خالد بیان کرتے ہیں : میں نے دو آدمیوں کو سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے سامنے جھگڑا کرتے ہوئے دیکھا ، سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص قسم اٹھا کر اس کے ذریعے کسی شخص کا مال ہتھیائے گا ، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6905
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (226/20) اخرجه احمد فى المسند (25/5)»
حدیث نمبر: 6906
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بھی بندہ ، یا کنیز اس منبر کے پاس جھوٹی قسم اٹھا لے ، خواہ وہ ایک تر مسواک کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو ، تو اس کے لئے جہنم واجب ہو جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6906
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (329/2)»
حدیث نمبر: 6907
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ : اذْهَبُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَ هَذَيْنِ - لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَأَرْوَى بِنْتِ أُوَيْسٍ - فَأَتَيْنَا سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، فَقَالَ : أَتَرَوْنَ أَنِّي قَدِ انْتَقَصْتُ حَقَّهَا شَيْئًا ؟ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ . وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ . وَمَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَلَا بَارَكَ اللَّهُ لَهُ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَأَبُو يَعْلَى بِتَمَامِهِ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں : مروان نے کہا: تم لوگ جاؤ اور ان دو آدمیوں کے درمیان صلح کروا دو ، ان کی مراد سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور عروی بنت اویس نامی خاتون تھیں ، راوی کہتے ہیں : ہم لوگ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو ؟ کہ میں نے اس عورت کے حق میں کوئی کمی کی ہو گی ؟ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص بالشت بھر زمین ناحق طور پر لے گا ، اُسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا اور جو شخص کسی قوم کی اجازت کے بغیر اُن کی بجائے کسی اور کی طرف نسبت ولاء قائم کرے گا ، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گی اور جو شخص ( جھوٹی ) قسم کے ذریعے مسلمان شخص کا مال ہتھیائے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے اس مال میں برکت نہیں رکھے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ” صحیح “ میں اس کا یہ حصہ منقول ہے : ” جو شخص بالشت بھر زمین ہتھیائے گا ، اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا“ ۔ یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور امام ابویعلی نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6907
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1346) اخرجه أبو يعلى فى المسند (955) اخرجه احمد فى السند (1540)»
حدیث نمبر: 6908
وَعَنْ أَبِي سُودٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْيَمِينُ الْفَاجِرَةُ الَّتِي يَقْتَطِعُ بِهَا الرَّجُلُ مَالَ الْمُسْلِمِ تُعْقِمُ الرَّحِمَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” وہ جھوٹی قسم ، جس کے ذریعے کوئی شخص کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے ، وہ رحم کو بانجھ کر دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6908
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (381/22 بنحوه ) اخرجه احمد فى المسند (79/5)»
حدیث نمبر: 6909
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْيَمِينُ الْفَاجِرَةُ تُذْهِبُ الْمَالَ أَوْ تَذْهَبُ بِالْمَالِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ لَمْ يَصِحَّ سَمَاعُهُ مِنْ أَبِيهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جھوٹی قسم مال لے جاتی ہے “ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، لیکن اس کا مفہوم یہی ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابوسلمہ نامی راوی کا اپنے والد ( سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ) سے سماع مستند طور پر ثابت نہیں ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6909
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1345)»
حدیث نمبر: 6910
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ مَصْبُورَةٍ ، وَهُوَ فِيهَا كَاذِبٌ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ عُلَاثَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَرُدَّ تَضْعِيفُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایسی قسم اٹھائے ، جو اس پر ( کوئی چیز ) لازم کرتی ہو ، اور وہ اس میں جھوٹا ہو ، تو اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن علاثہ ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، لیکن اس کو ضعیف قرار دینا مسترد قرار دیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6910
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 6911
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَعْجَلَ الطَّاعَةِ ثَوَابًا صِلَةُ الرَّحِمِ ، إِنَّ أَعْجَلَ الطَّاعَةِ ثَوَابًا صِلَةُ الرَّحِمِ . وَإِنَّ أَهْلَ الْبَيْتِ لَيَكُونُونَ فُجَّارًا فَتَنْمُوا أَمْوَالُهُمْ وَيَكْثُرُ عَدَدُهُمْ إِذَا وَصَلُوا أَرْحَامَهُمْ . وَإِنَّ أَعْجَلَ الْمَعْصِيَةِ عُقُوبَةً الْبَغْيُ وَالْيَمِينُ الْغَمُوسِ تُذْهِبُ الْمَالَ وَتُثْقِلُ فِي الرَّحِمِ وَتَذَرُ الدِّيَارَ بِلَاقِعَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو الدَّهْمَاءِ الْأَصْعَبُ وَثَّقَهُ النَّفِيلِيُّ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس اطاعت کا سب سے جلدی ثواب ملتا ہے ، وہ صلہ رحمی ہے ، جس اطاعت کا سب سے جلدی ثواب ملتا ہے وہ صلہ رحمی ہے اور بعض اوقات کسی گھرانے کے لوگ گناہگار ہوتے ہیں ، اُن کے مال زیادہ ہوتے ہیں ان کی تعداد زیادہ ہوتی جاتی ہے ، جبکہ وہ صلہ رحمی کرتے ہیں ، اور جس گناہ کی سب سے زیادہ جلدی سزا ملتی ہے ، وہ سرکشی اور جھوٹی قسم ہے ، جو مال لے جاتی ہے ، اور رحم کو بوجھل کر دیتی ہے اور آبادیوں کو برباد کر دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابودھماء اصعب ہے ، جس نفیلی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6911
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 6912
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عَلَى الْمِنْبِرِ : " لَا يَحْلِفُ أَحَدٌ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر ارشاد فرمایا : ” جو شخص جھوٹی قسم اٹھائے وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6912
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6297)»
حدیث نمبر: 6913
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ ، وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جھوٹی قسم اٹھائے تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے تو جب قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک اور حدیث منقول ہے ، جسے امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن بزیع ہے وہ کمزور ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6913
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (627)»
حدیث نمبر: 6914
وَعَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ مُعَاذًا كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فَقَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى أَحَدِهِمَا فَقَالَ الْآخَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَتْرُكُهُ يَحْلِفُ فَيَذْهَبُ بِهَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَإِنَّهُ إِنْ حَلَفَ كَاذِبًا " فَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ الْمَنْبِجِيُّ قِيلَ فِي تَرْجَمَتِهِ : لَهُ غَرَائِبُ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اور ایک شخص کے درمیان اختلاف ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سے ایک پر قسم کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تو دوسرے نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اسے حلف اٹھانے کا موقع دے رہے ہیں یہ تو یہ چیز لے جائے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر اس نے جھوٹا حلف اٹھایا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں شدید کلمات ارشاد فرمائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلام منجی ہے اس کے حالات میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ اس سے عجیب و غریب روایات منقول ہیں اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6914
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1676) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (636)»
حدیث نمبر: 6915
وَعَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ عَفَا عَنْهُ أَوْ عَاقَبَهُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " عَفَا عَنْهُ أَوْ عَاقَبَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ : كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” جو شخص جھوٹی قسم اٹھائے تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا اگر وہ چاہے گا تو اس سے درگزر کر دے گا اور اگر وہ چاہے گا تو اسے سزا دے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہے : ” اگر وہ چاہے گا تو اس سے درگزر کرے گا اور وہ چاہے گا تو اسے سزا دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے معجم کبیر کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد بن یحیی بن سعید بن العاص ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں معجم اوسط کی سند میں ایک کذاب راوی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6915
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1664) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (644)»
حدیث نمبر: 6916
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ جَلَّ ذِكْرُهُ أَذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ دِيكٍ قَدْ مَزَّقَتْ رِجْلَيْهِ الْأَرْضُ ، وَعُنُقُهُ مُنْثَنٍ تَحْتَ الْعَرْشِ ، وَهُوَ يَقُولُ : سُبْحَانَكَ مَا أَعْظَمَكَ رَبَّنَا . فَيَرُدُّ عَلَيْهِ : مَا عَلِمَ ذَلِكَ مَنْ حَلَفَ بِي كَاذِبًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ اجازت دی کہ میں اس مرغ کے بارے میں بیان کروں جس کی دونوں ٹانگیں زمین میں ہیں اور اس کی گردن عرش کے نیچے جھکی ہوئی ہے اور وہ یہ کہتا ہے : ” تو ہر عیب سے پاک ہے : اے ہمارے پروردگار ! تو کتنی عظمت والا ہے ، تو پروردگار اسے یہ جواب دیتا ہے : یہ بات وہ شخص نہیں جانتا جو میرے نام کی جھوٹی قسم اٹھاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6916
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (156/1)»
حدیث نمبر: 6917
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ بِيَمِينِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنْ شَيْءٌ يَسِيرٌ ؟ قَالَ : " وَإِنْ كَانَ سِوَاكًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا أَبَا سُفْيَانَ بْنَ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَرَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الصَّحِيحِ ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے : ” جو شخص اپنی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے ، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے اور اس کے لئے جہنم کو واجب کر دیتا ہے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ وہ مسواک ہی کیوں نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابوسفیان بن جابر بن عتیک کا معاملہ مختلف ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ، اہل ” صحیح “ میں سے ایک سے زیادہ افراد نے اس سے روایات نقل کی ہیں ، اور کسی نے ان کے بارے میں کلام نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6917
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير 1784, 1783, 1782)»
حدیث نمبر: 6918
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْبَرْصَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ ، وَهُوَ يَمْشِي بَيْنَ جَمْرَتَيْنِ مِنَ الْجِمَارِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن برصاء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا : آپ اس وقت دو جمرات کے درمیان چلتے ہوئے جا رہے تھے اور یہ ارشاد فرما رہے تھے : ” جو شخص جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کے مال میں سے کچھ بھی ہتھیا لے گا ، اُسے جہنم میں اپنے گھر تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6918
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3330)»
حدیث نمبر: 6919
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص جان بوجھ کر جھوٹی قسم کا حلف اٹھاتا ہے ، اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم عبدی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6919
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «الطبراني فى المعجم الكبير (149/18)»
حدیث نمبر: 6920
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : كُنَّا نَعُدُّ الْيَمِينَ الْغَمُوسَ مِنَ الْكَبَائِرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ كَثِيرٌ أَبُو الْفَضْلِ رَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم جھوٹی قسم کو کبیرہ گناہوں میں سے شمار کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر ابوفضل ہے ، جس سے ایک جماعت نے روایات نقل کی ہیں ، کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6920
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرج الطبراني فى المعجم الكبير (125/18)»
حدیث نمبر: 6921
وَعَنْ ثَعْلَبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّمَا امْرِئٍ اقْتَطَعَ [ حَقَّ امْرِئٍ ] بِيَمِينٍ كَاذِبَةٍ [ كَانَتْ ] نُكْتَةً سَوْدَاءَ مِنْ سِرْسَالٍ فِي قَلْبِهِ لَا يُغَيِّرُهَا شَيْءٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . رَوَاهُ الَطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ثعلبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق ہتھیا لے گا ، تو یہ اس کے دل میں ” سر سال “ سے بنا ہوا سیاہ نکتہ بن جائے گا ، جسے قیامت کے دن تک کوئی چیز تبدیل نہیں کر سکے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ثعلبہ انصاری ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ جال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6921
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخر الطبراني فى المعجم الكبير (1383) ورواه الحاكم فى المستدرك (294/4)»
حدیث نمبر: 6922
وَعَنْ أَبِي رُهْمٍ السَّمَعِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مِنْ أَسْرَقِ السُّرَّاقِ مَنْ يَسْرِقُ لِسَانَ الْأَمِيرِ . وَإِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْخَطَايَا مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ . وَإِنَّ مِنَ الْحَسَنَاتِ عِيَادَةَ الْمَرِيضِ ، وَإِنَّ مِنْ تَمَامِ عِيَادَتِهِ أَنْ تَضَعَ يَدَكَ عَلَيْهِ وَتَسْأَلَهُ كَيْفَ هُوَ . وَإِنَّ مِنْ أَفْضَلِ الشَّفَاعَاتِ : أَنْ تَشْفَعَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي نِكَاحٍ حَتَّى تَجْمَعَ بَيْنَهُمَا . وَإِنَّ مِنْ لُبْسَةِ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلُ السَّرَاوِيلُ ، وَإِنَّ مِمَّا يُسْتَجَابُ عِنْدَهُ الدُّعَاءُ : الْعُطَاسُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورہم سمعی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک سب سے بڑا چور وہ ہے ، جو حاکم کی زبان چوری کرتا ہے اور سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی ناحق طور پر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے اور نیکیوں میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ بیمار کی عیادت کی جائے اور اس کی عیادت کی تکمیل میں یہ بات شامل ہے کہ تم اپنا ہاتھ اس پر رکھو اور تم اس سے دریافت کرو کہ وہ کیسا ہے ؟ اور سب سے زیادہ فضیلت والی سفارش یہ ہے کہ تم نکاح کے موقع پر دو افراد ( یعنی لڑکے اور لڑکی ) کے درمیان سفارش کرو ، یہاں تک کہ ان دونوں کو اکٹھا کروا دو ، اور پہلے کے انبیاء کا لباس شلوار ہے اور جس موقع پر دعا مستجاب ہوتی ہے ، وہ چھینکنا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6922
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (336/22 رقم (843)»