کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ایک سال سے زیادہ ( کے بعد ادائیگی کی شرط پر ) پھل فروخت کرنا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ سَنَتَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثَةً ، أَوْ يَشْتَرِي فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِكَيْلٍ ، أَوْ تُبَاعُ الثَّمَرَةُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَحَسُنَ إِسْنَادُهُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ دو یا تین سال کی شرط پر کھجور کا درخت فروخت کیا جائے یا کھجور کے درخت پر لگے ہوئے پھل کو آدمی مخصوص ماپ کے عوض میں خرید لے ، یا پھل کو اس کے پک کر تیار ہونے سے پہلے فروخت کیا جائے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب چیزوں سے منع کیا ہے ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6499
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1281)»
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ السَّنَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سال ( بعد کی ادائیگی کی شرط والی ) بیع سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6500
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6870)»