کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: آفت کب اٹھا لی جاتی ہے
❮
❯
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا طَلَعَ النَّجْمُ صَبَاحًا رُفِعَتِ الْعَاهَةُ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب صبح کے وقت ستارہ طلوع ہوتا ہے ، تو آفت اٹھا لی جاتی ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6492
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (341/2) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 8290، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 1327، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 92»
وَفِي رِوَايَةٍ : " مَا طَلَعَ النَّجْمُ صَبَاحًا قَطُّ وَبِقَوْمٍ عَاهَةٌ إِلَّا رُفِعَتْ أَوْ جَفَّتْ " .
رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَلَفْظُهُ : " إِذَا ارْتَفَعَ النَّجْمُ رُفِعَتِ الْعَاهَةُ عَنْ كُلِّ بَلَدٍ " .
وَرَوَى الْأَوَّلَ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَسَلُ بْنُ سُفْيَانَ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ . وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب بھی صبح کے وقت ستارہ طلوع ہوتا ہے اور لوگوں پر کوئی آفت آنے والی ہو ، تو وہ اٹھا لی جاتی ہے یا وہ خشک ہو جاتی ہے “ ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے امام بزار نے نقل کی ہیں امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور ان کے الفاظ ہیں : ” جب ستارہ بلند ہو جائے تو آفت کو ہر شہر سے اٹھا لیا جاتا ہے “ ۔ پہلی روایت انہوں نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عسل بن سفیان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی بھی کر جاتا ہے اور دوسروں کے برخلاف بھی نقل کرتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6493
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (104) اخرجه البزار فى المسند (1292) اخرجه احمد فى المسند (388/2)»