مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَتَى تَرْتَفِعُ الْعَاهَةُ . باب: آفت کب اٹھا لی جاتی ہے
وَفِي رِوَايَةٍ : " مَا طَلَعَ النَّجْمُ صَبَاحًا قَطُّ وَبِقَوْمٍ عَاهَةٌ إِلَّا رُفِعَتْ أَوْ جَفَّتْ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَلَفْظُهُ : " إِذَا ارْتَفَعَ النَّجْمُ رُفِعَتِ الْعَاهَةُ عَنْ كُلِّ بَلَدٍ " . ¤ وَرَوَى الْأَوَّلَ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَسَلُ بْنُ سُفْيَانَ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ . وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب بھی صبح کے وقت ستارہ طلوع ہوتا ہے اور لوگوں پر کوئی آفت آنے والی ہو ، تو وہ اٹھا لی جاتی ہے یا وہ خشک ہو جاتی ہے “ ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے امام بزار نے نقل کی ہیں امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور ان کے الفاظ ہیں : ” جب ستارہ بلند ہو جائے تو آفت کو ہر شہر سے اٹھا لیا جاتا ہے “ ۔ پہلی روایت انہوں نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عسل بن سفیان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی بھی کر جاتا ہے اور دوسروں کے برخلاف بھی نقل کرتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔