حدیث نمبر: 6491
عَنْ سَمُرَةَ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَنْهَى رَبَّ النَّخْلِ أَنْ يَتَدَيَّنَ فِي ثَمَرِ نَخْلِهِ حَتَّى يُؤْكَلَ مِنْ ثَمَرِهَا مَخَافَةَ أَنْ يَتَدَيَّنَ بِدَيْنٍ كَثِيرٍ فَتَفْسَدَ الثَّمَرَةُ فَلَا يُوَفِّيَ عَنْهُ ، وَكَانَ يَنْهَى رَبَّ الزَّرْعِ أَنْ يَدِينَ فِي زَرْعِهِ حَتَّى يَبْلُغَ الْحَصْدَ ، وَكَانَ يَنْهَى رَبَّ الذَّهَبِ إِذَا بَاعَهَا بِطَعَامٍ فِي الثَّمَرِ أَنْ يَبِيعَ الطَّعَامَ بِالذَّهَبِ حَتَّى يَكْتَالَ الطَّعَامَ فَيَقْبِضَهُ مَخَافَةَ الرِّبَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ السِّمَرِيُّ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَقَالَ الْأَزْدِيُّ : يَتَكَلَّمُونَ فِيهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے درخت کے مالک کو اس بات سے منع کیا ہے کہ وہ اپنے کھجور کے درخت کے پھل کے عوض میں قرض لے جب تک اس کا پھل کھائے جانے کے قابل نہیں ہو جاتا کیونکہ اس بات کا اندیشہ موجود ہے کہ وہ بہت سا قرض لے لے گا اور پھر اگر اس کا پھل خراب ہو گیا تو وہ اسے ادا نہیں کر سکے گا آپ نے کھیت کے مالک کو بھی اس بات سے منع کیا ہے کہ وہ اپنے کھیت کے عوض میں قرض لے جب تک وہ کھیت کاٹے جانے کے قابل نہیں ہو جاتا آپ نے سونے کے مالک کو اس بات سے منع کیا ہے کہ جب وہ اس سونے کو پھل کے عوض میں فروخت کرے تو پھل کو سونے کے عوض میں فروخت کرے ، جب تک وہ اناج کو ماپ نہیں لیتا ، اور جب تک وہ قبضے میں نہیں لے لیتا ، کیونکہ سود کا اندیشہ ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مروان بن جعفر سمری ہے ابن ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ازدی کہتے ہیں : محدثین نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6491
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1290) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7056)»