حدیث نمبر: 6494
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا بَأْسَ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ عَرِيَّتَهُ مِنَ النَّخْلِ بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَهُ الْآخَرُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کوئی شخص کھجور کے درخت میں سے عرایا کے طور پر اپنے حصے میں سے ، اندازے کے تحت کھجورں میں سے فروخت کر دے وہ یہ ارادہ رکھتا ہو کہ دوسرا شخص اس کو کھا لے گا“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی روایت کے طور پر منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6494
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 6495
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِالْوَسْقِ وَالْوَسْقَيْنِ ، وَالثَّلَاثَةِ ، وَالْأَرْبَعَةِ ، وَقَالَ : " فِي كُلِّ جَادٍّ عَشَرَةُ أَوْسُقٍ وَمَا بَقِيَ عِذْقًا يُوضَعُ فِي الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاكِينِ " . ¤ قَالَ مُحَمَّدٌ : وَهُمُ الْيَوْمَ يَشْتَرِطُونَ ذَلِكَ عَلَى التُّجَّارِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کے بارے میں یہ رخصت دی ہے کہ ایک وسق یا دو وسق یا تین یا چار وسق تک ہو گا آپ نے فرمایا ہے : پھل اتارنے والے کو دس وسق دیے جائیں گے جو باقی گچھے بچیں گے وہ مسجد میں غریبوں کے لئے رکھ دیے جائیں گے ۔ محمد نامی راوی کہتے ہیں : آج کل لوگ تاجروں پر اس کی شرط عائد کر دیتے ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن ابواسحاق ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6495
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (359/3 و 360)»
حدیث نمبر: 6496
وَعَنْ جَابِرٍ - فِيمَا يَظُنُّ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ - قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ ، وَالْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا . وَالْعَرَايَا يَجِيءُ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى ابْنِ عَمٍّ لَهُ أَوْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَيَأْمُرُ لَهُ بِالنَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ ، وَلَمْ يَبْلُغْ ، وَهُوَ يُرِيدُ الْخُرُوجَ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَبِيعَهَا بِالتَّمْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ . وَابْنُ عَطَاءٍ إِنْ كَانَ يَعْقُوبَ بْنَ عَطَاءٍ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ابوبکر بن عیاش کے گمان کے مطابق انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک کھجوروں کے عوض میں تر کھجوروں کو منقی کے عوض میں کشمش کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے البتہ آپ نے عرایا کے بارے میں رخصت دی ہے عرایا سے مراد یہ ہے کہ دیہاتی اپنے چچا زاد کے پاس یا کسی اور خاندان کے فرد کے پاس آتا ہے اور اسے ایک کھجور کا درخت یا دو درخت دے دیتا ہے ، جو ابھی پک کر تیار نہیں ہوتے پھر وہ نکلنا چاہتا ہے ، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ کھجوروں کے عوض میں ( اس درخت کو ) فروخت کر دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابوبکر بن عیاش کے حوالے سے ابن عطاء کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ابن عطاء سے مراد اگر تو یعقوب بن عطاء ہے ، تو پھر وہ ضعیف ہے ویسے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور مراد ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6496
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1748)»