عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَيْرُ الْكَسْبِ كَسْبُ يَدِ الْعَامِلِ إِذَا نَصَحَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کو حجتہ الاسلام کا نام دیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ إِذَا عَمِلَ أَحَدُكُمْ عَمَلًا أَنْ يُتْقِنَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہونے لگے تھے تو آپ نے تنعیم کے قریب احرام کے دونوں کپڑے تبدیل کر لیے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ أَبِيهِ إِلَى جِنَازَةٍ شَهِدَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا غُلَامٌ أَعْقِلُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُحِبُّ اللَّهُ الْعَامِلَ إِذَا عَمِلَ أَنْ يُتْقِنَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ قُطْبَةُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . وَجَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے ہمراہ ایک جنازے میں شریک ہونے کے لئے نکلے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک ہوئے تھے راوی بیان کرتے ہیں : میں ان دنوں لڑکا تھا لیکن سمجھ دار تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کام کرنے والے شخص سے محبت رکھتا ہے جبکہ وہ کام کرتے ہوئے اچھی طرح کام کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قطبہ بن علاء ہے اور وہ ضعیف ہے ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قطبہ بن علاء ہے اور وہ ضعیف ہے ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ سِيرِينَ قَالَتْ : وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فُرْجَةً فِي الْقَبْرِ فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُسَدَّ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ تَنْفَعُهُ ؟ قَالَ : " أَمَا إِنَّهَا لَا تَنْفَعُهُ ، وَلَا تَضُرُّهُ ، وَلَكِنْ تَعِرُ عَيْنَ الْحَيِّ " . ¤ قُلْتُ : ذُكِرَ هَذَا فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي مَنَاقِبِ إِبْرَاهِيمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیرین نامی خاتون بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر میں کشادگی دیکھی تو اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے بند کر دیا جائے عرض کی گئی یا رسول اللہ ! کیا یہ چیز اس مردے کو فائدہ دے گی ؟ آپ نے فرمایا : یہ چیز اسے فائدہ یا نقصان نہیں دے گی ؟ لیکن زندہ شخص کی آنکھوں کو ٹھنڈا کر دے گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی گئی ہے ، جو سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی گئی ہے ، جو سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔