کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: مزدور کا خیرخواہی کرنا اور اچھی طرح کام کرنا
❮
❯
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَيْرُ الْكَسْبِ كَسْبُ يَدِ الْعَامِلِ إِذَا نَصَحَ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے بہترین کمائی کام کرنے والے کے ہاتھ کی کمائی ہے جبکہ وہ خیر خواہی کے ساتھ کام کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6459
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (334/2) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 8207»
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ إِذَا عَمِلَ أَحَدُكُمْ عَمَلًا أَنْ يُتْقِنَهُ " .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ یہ بات پسند کرتا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کوئی کام کرے تو اسے عمدگی کے ساتھ کرے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6460
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ أَبِيهِ إِلَى جِنَازَةٍ شَهِدَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا غُلَامٌ أَعْقِلُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُحِبُّ اللَّهُ الْعَامِلَ إِذَا عَمِلَ أَنْ يُتْقِنَ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ قُطْبَةُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . وَجَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ .
محمد محی الدین
عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے ہمراہ ایک جنازے میں شریک ہونے کے لئے نکلے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شریک ہوئے تھے راوی بیان کرتے ہیں : میں ان دنوں لڑکا تھا لیکن سمجھ دار تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کام کرنے والے شخص سے محبت رکھتا ہے جبکہ وہ کام کرتے ہوئے اچھی طرح کام کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قطبہ بن علاء ہے اور وہ ضعیف ہے ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6461
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (199/19)»
وَعَنْ سِيرِينَ قَالَتْ : وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فُرْجَةً فِي الْقَبْرِ فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُسَدَّ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ تَنْفَعُهُ ؟ قَالَ : " أَمَا إِنَّهَا لَا تَنْفَعُهُ ، وَلَا تَضُرُّهُ ، وَلَكِنْ تَعِرُ عَيْنَ الْحَيِّ " .
قُلْتُ : ذُكِرَ هَذَا فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي مَنَاقِبِ إِبْرَاهِيمَ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ .
محمد محی الدین
سیرین نامی خاتون بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر میں کشادگی دیکھی تو اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے بند کر دیا جائے عرض کی گئی یا رسول اللہ ! کیا یہ چیز اس مردے کو فائدہ دے گی ؟ آپ نے فرمایا : یہ چیز اسے فائدہ یا نقصان نہیں دے گی ؟ لیکن زندہ شخص کی آنکھوں کو ٹھنڈا کر دے گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی گئی ہے ، جو سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6462
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف