مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ نُصْحِ الْأَجِيرِ وَإِتْقَانِ الْعَمَلِ . باب: مزدور کا خیرخواہی کرنا اور اچھی طرح کام کرنا
وَعَنْ سِيرِينَ قَالَتْ : وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فُرْجَةً فِي الْقَبْرِ فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُسَدَّ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ تَنْفَعُهُ ؟ قَالَ : " أَمَا إِنَّهَا لَا تَنْفَعُهُ ، وَلَا تَضُرُّهُ ، وَلَكِنْ تَعِرُ عَيْنَ الْحَيِّ " . ¤ قُلْتُ : ذُكِرَ هَذَا فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي مَنَاقِبِ إِبْرَاهِيمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیرین نامی خاتون بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر میں کشادگی دیکھی تو اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے بند کر دیا جائے عرض کی گئی یا رسول اللہ ! کیا یہ چیز اس مردے کو فائدہ دے گی ؟ آپ نے فرمایا : یہ چیز اسے فائدہ یا نقصان نہیں دے گی ؟ لیکن زندہ شخص کی آنکھوں کو ٹھنڈا کر دے گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی گئی ہے ، جو سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے مناقب کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔