حدیث نمبر: 6463
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَقُولُ - ، وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ - : كُنْتُ أَبْتَاعُ التَّمْرَ مِنْ بَطْنٍ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُمْ : بَنُو قَيْنُقَاعَ ، وَابْتَعْتُهُ بِرِبْحٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ ، إِذَا اشْتَرَيْتَ فَاكْتَلْ ، وَإِذَا بِعْتَ فَكِلْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر خطبے کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ” میں یہودیوں کے خاندان سے کھجوریں خریدا کرتا تھا جنہیں بنو قینقاع کہا: جاتا تھا میں منافع کے عوض میں انہیں فروخت کر دیتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے عثمان ! جب تم خریداری کرو تو ماپ لیا کرو اور جب فروخت کرو تو ماپ کر دو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 6464
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں ” جو شخص اناج خریدے تو وہ اسے اس وقت تک آگے فروخت نہ کرے جب تک وہ اسے پورا ( ناپ ) نہیں لیتا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمری ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمری ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 6465
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَجْرِيَ فِيهِ الصَّاعَانِ فَيَكُونَ لِصَاحِبِهِ الزِّيَادَةُ وَعَلَيْهِ النُّقْصَانُ . ¤ قُلْتُ : لِأَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَكْتَالَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ نے اناج کو اس وقت تک فروخت کرنے سے منع کیا ہے جب تک اس میں دو ( طرف سے ) صاع جاری نہیں ہوتے کہ متعلقہ فرد کو اضافی چیز واپس مل جائے اور نقصان ( یا کمی ) اس کے ذمہ ہو ۔ ( علاہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جو اناج کو ماپنے سے پہلے فروخت کرنے کی ممانعت کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن ابومسلم جرمی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن ابومسلم جرمی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔