حدیث نمبر: 6208
عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : دُعِيَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ إِلَى خِتَانٍ فَأَبَى [ أَنْ يُجِيبَ ] ، فَقِيلَ لَهُ ، فَقَالَ : إِنَّا كُنَّا لَا نَأْتِي الْخِتَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَلَا نُدْعَى لَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کو ختنہ کے موقع پر کی جانے والی دعوت میں بلایا گیا تو انہوں نے جانے سے انکار کر دیا ان سے کہا: گیا تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں نہ تو ہم ختنے کی دعوت میں جایا کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں اس کے لئے بلایا جاتا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 6209
وَفِي رِوَايَةٍ لِلطَّبَرَانِيِّ أَيْضًا قَالَ : دُعِيَ عُثْمَانُ إِلَى طَعَامٍ ، فَقِيلَ لَهُ : هَلْ تَدْرِي مَا هَذَا ؟ هَذَا خِتَانُ جَارِيَةٍ ، فَقَالَ : هَذَا شَيْءٌ مَا كُنَّا نَرَاهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ . ¤ وَرِجَالُ الْأَوَّلِ فِيهِمْ [ مُحَمَّدُ بْنُ ] إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . وَرِجَالُ الثَّانِي فِيهِمْ أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو کھانے کی دعوت دی گئی ان سے کہا: گیا کیا آپ جانتے ہیں ؟ یہ کس چیز کا کھانا ہے ؟ یہ ایک لڑکی کے ختنے کا کھانا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : یہ ایک ایسی چیز ہے ، جو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں دیکھی تو انہوں نے وہ کھانا کھانے سے انکار کر دیا ۔ پہلی روایت کے رجال میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے جبکہ دوسری روایت کے رجال میں ایک راوی ابوحمزہ عطار ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔