کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ولیمہ میں کیا رکھا جائے ؟
حدیث نمبر: 6142
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى صَفِيَّةَ ، فَقُلْتُ : أَيُّ شَيْءٍ كَانَ فِي وَلِيمَتِهِ ؟ قَالَ : مَا كَانَ إِلَّا التَّمْرُ ، وَالسَّوِيقُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کے بعد ولیمہ کیا تھا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میں نے دریافت کیا : اس ولیمے میں کیا چیز تھی ؟ انہوں نے بتایا کہ صرف کھجوریں اور ستو تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سلیمان ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6142
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 6143
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : لَمَّا أُدْخِلَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فُسْطَاطَهُ حَضَرَهُ نَاسٌ ، وَحَضَرْتُ مَعَهُمْ لِيَكُونَ لِي فِيهِمْ قَسْمٌ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رِدَائِهِ نَحْوٌ مِنْ مُدٍّ وَنِصْفٍ مِنْ تَمْرٍ عَجْوَةٍ قَالَ : " كُلُوا مِنْ وَلِيمَةِ أُمِّكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شادی ہوئی اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے میں آئیں تو کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے میں بھی ان لوگوں کے ساتھ موجود تھا تاکہ مجھے بھی ان میں سے حصہ ملے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے چادر میں تقریباً ڈیڑ مد عجوہ کھجوریں رکھی ہوئی تھیں آپ نے فرمایا : اپنی والدہ کے ولیمے ( کی کھجوریں ) کھاؤ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6143
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2251) اخرجه احمد فى المسند (333/3)»
حدیث نمبر: 6144
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْلَمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک زوجہ محترمہ کے ولیمے میں جو کے دو مد کے ساتھ ولیمہ کیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6144
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (4686) اخرجه احمد فى المسند (113/6)»
حدیث نمبر: 6145
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْلَمَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ بِقِدْرٍ مِنْ هَرِيسٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَرْوَلٌ ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ : صَدُوقٌ . قَالَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ : رَوَى مَنَاكِيرَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک زوجہ محترمہ کے ولیمے میں ”حریسہ“ کی ایک ہنڈیا کھلائی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جرول ہے ذہبی کہتے ہیں : وہ صدوق ہے ابن مدینی کہتے ہیں : اس نے منکر روایات نقل کی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6145
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2949)»
حدیث نمبر: 6146
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ الْوَلِيمَةُ عَلَى صَفِيَّةَ ، وَهَذَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں کھجوریں اور گھی کھلایا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں کہ ” صحیح “ میں یہ بات منقول ہے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں ایسا ہوا تھا اور یہاں یہ ذکر ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں ایسا ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6146
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6147
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : حَضَرْنَا عُرْسَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا رَأَيْنَا عُرْسًا كَانَ أَحْسَنَ مِنْهُ حُسْنًا . هَيَّأَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَبِيبًا وَتَمْرًا فَأَكَلْنَا . وَكَانَ فِرَاشُهَا لَيْلَةَ عُرْسِهَا إِهَابَ كَبْشٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی میں شریک ہوئے ہم نے اس سے زیادہ اچھی شادی اور کوئی نہیں دیکھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے کشمش اور کھجوریں تیار کروائی تھیں ہم نے وہ کھائیں اس شادی کی رات ان کا بستر دنبے کی کھال کا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6147
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 6148
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عُرْسِهِ ، فَكَانَتِ امْرَأَتُهُ تَقُومُ عَلَيْنَا وَهِيَ الْعَرُوسُ فَسَقَتْنَا نَبِيذَ التَّمْرِ قَدِ انْتَبَذَتْهُ مِنَ اللَّيْلِ وَصَفَّتْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا اسید رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی ، تو انہوں نے اپنی شادی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بلایا تو ان کی اہلیہ نے ہماری دیکھ بھال کی ( یعنی کھانے پینے کا بندوبست کیا ) وہ دلہن تھیں ، لیکن انہوں نے ہمیں کھجور کی نبیذ پلائی جو انہوں نے گزشتہ رات ہی تیار کر لی تھی اور اسے صاف ( یا تیار کر لیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6148
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5925)»
حدیث نمبر: 6149
وَعَنْ أَسْمَاءَ - يَعْنِي بِنْتَ عُمَيْسٍ - قَالَتْ : أَهْدَيْتُ جَدَّتَكِ فَاطِمَةَ إِلَى جَدِّكِ عَلِيٍّ فَمَا كَانَ حَشْوُ فِرَاشِهَا وَوِسَادَتِهَا إِلَّا لِيفٌ ، وَلَقَدْ أَوْلَمَ عَلِيٌّ بِفَاطِمَةَ فَمَا كَانَتْ وَلِيمَةٌ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ أَفْضَلَ مِنْ وَلِيمَتِهِ ؛ رَهَنَ دِرْعَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِشَطْرِ شَعِيرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَوْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے تمہاری دادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تمہارے دادا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رخصتی کروائی تھی ان کے بستر اور تکیہ میں صرف پتے بھرے ہوئے تھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ کروایا تھا اس زمانے میں ان کے ولیمے سے زیادہ فضیلت والا ولیمہ کوئی نہیں ہوا انہوں نے اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس کچھ جو کے عوض میں رہن رکھوائی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عون بن محمد بن حنفیہ ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6149
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير 146,145/24»
حدیث نمبر: 6150
وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ - إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ - دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ طَعَامًا فَقَالَ : لَا أَشْتَهِيهِ . فَقَالَتْ : إِنِّي قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، ثُمَّ جِئْتُهُ فَدَعَوْتُهُ لَجِلْوَتِهَا ، فَجَاءَ ، فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِهَا فَأُتِيَ بِعُسِّ لَبَنٍ فَشَرِبَ ، ثُمَّ نَاوَلَهَا [ النَّبَيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا وَاسْتَحْيَتْ . قَالَتْ أَسْمَاءُ : فَانْتَهَرْتُهَا وَقُلْتُ لَهَا : خُذِي مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَتْ : فَأَخَذَتْ ، فَشَرِبَتْ شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَعْطِي تِرْبَكِ " . قَالَتْ أَسْمَاءُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَلْ خُذْهُ فَاشْرَبْ مِنْهُ ، ثُمَّ نَاوِلْنِيهِ مِنْ يَدِكَ ، فَأَخَذَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ ، ثُمَّ نَاوَلَنِيهِ ، قَالَتْ : فَجَلَسْتُ ، ثُمَّ وَضَعْتُهُ عَلَى رُكْبَتِي ، ثُمَّ طَفِقْتُ أُدِيرُهُ وَأُتْبِعُهُ شَفَتَيَّ لِأُصِيبَ مِنْهُ مَشْرَبَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، ثُمَّ قَالَ لِنِسْوَةٍ عِنْدِي : " نَاوِلِيهِنَّ " . فَقُلْنَ : لَا نَشْتَهِيهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا " . ¤ فَهَلْ أَنْتَ مُنْتَهِيًا أَنْ تَقُولَ : لَا نَشْتَهِيهِ ؟ قُلْتُ : أَيْ أُمَّهْ لَا أَعُودُ أَبَدًا . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : وَأَبْصَرَ [ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] عَلَى إِحْدَاهُنَّ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ : " يَا هَذِهِ ، أَتُحِبِّينَ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ مَكَانَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ ؟ " . فَنَزَعْنَاهُ فَرَمَيْنَا بِهِ فَمَا نَدْرِي أَيْنَ هُوَ حَتَّى السَّاعَةِ . [ ثُمَّ ] قَالَ : [ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] " : إِنَّمَا يَكْفِي إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ جُمَانًا مِنْ فِضَّةٍ - وَرُبَّمَا قَالَ : سُوَارًا مِنْ فِضَّةٍ - ثُمَّ تَأْخُذَ شَيْئًا مِنْ زَعْفَرَانَ فَتُدِيفَهُ ، ثُمَّ تُلَطِّخَهُ عَلَيْهِ ، فَإِذَا هُوَ كَأَنَّهُ ذَهَبٌ " . ¤ وَقَدْ رَوَى قِصَّةَ السِّوَارِ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ . وَشَهْرٌ فِيهِ كَلَامٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا جن کا تعلق بنی عبد اشہل کی خواتین سے ہے ایک مرتبہ شہر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اس خاتون نے ان کے سامنے کھانا رکھا تو انہوں نے کہا: مجھے اس کی خواہش نہیں ہے اس خاتون نے بتایا میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شادی کے موقع پر تیار کروایا تھا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو بلوایا تاکہ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر بیٹھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پہلو میں بیٹھ گئے پھر دودھ کا برتن لایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھایا تو انہوں نے سر جھکا لیا اور وہ شرما گئیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے انہیں ڈانٹا اور میں نے ان سے کہا: تم اللہ کے رسول کے ہاتھ سے اسے لے لو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ انہوں نے لے لیا اور کچھ پیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی سہیلی کو بھی کچھ دو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ بلکہ آپ لے کر آپ اس میں سے پیئیں اور پھر اپنے دست مبارک کے ذریعے یہ مجھے پکڑائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر اس میں سے پیا پھر آپ نے وہ مجھے پکڑایا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں بیٹھی اور میں نے اسے اپنے گھٹنے پر رکھا اور پھر اسے گھمایا اور اپنے ہونٹ اس جگہ پر رکھے جہاں پر سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس موجود خواتین کے بارے میں فرمایا کہ انہیں بھی دو ! ان خواتین نے کہا: ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھوک اور غلط بیانی کو جمع نہ کرو ۔
یہ روایت بیان کرنے کے بعد سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے شہر بن حوشب سے کہا: ) تو کیا تم یہ کہنے سے باز آتے ہو کہ ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے ؟ میں نے کہا: اے امی جان اب میں دوبارہ کبھی ایسا نہیں کروں گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین میں سے ایک کے ہاتھ میں سونے کا کنگن دیکھا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے خاتون ! کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اس کی جگہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کا بنا ہوا کنگن پہنائے ؟ راوی خاتون کہتی ہیں تو ہم نے اپنے زیور اتار دیے اور انہیں رکھ دیا اور اس وقت تک ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم خواتین میں سے کسی ایک کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ چاندی کا کڑا بنوائے پھر تھوڑا زعفران لے کر اسے گیلا کر کے اس پر لگا دے تو وہ سونے کی مانند ہو جائے گا ۔ امام ابوداؤد نے کنگن والا واقعہ بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے شہر نامی راوی کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6150
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (458/6)»
حدیث نمبر: 6151
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ : كُنْتُ صَاحِبَةَ عَائِشَةَ الَّتِي هَيَّأَتْهَا وَأَدْخَلَتْهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعِي نِسْوَةٌ قَالَتْ : فَوَاللَّهِ مَا وَجَدْنَا عِنْدَهُ قِرًى إِلَّا قَدَحًا مِنْ لَبَنٍ ، فَشَرِبَ مِنْهُ ، ثُمَّ نَاوَلَهُ عَائِشَةَ فَاسْتَحْيَتِ الْجَارِيَةُ ، فَقُلْنَا : لَا تَرُدِّي يَدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُذِي مِنْهُ ، فَأَخَذَتْهُ عَلَى حَيَاءٍ ، فَشَرِبَتْ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : " نَاوِلِي صَوَاحِبَكِ " . فَقُلْنَا : لَا نَشْتَهِيهِ . فَقَالَ : " لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا " . قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ قَالَتْ إِحْدَانَا لِشَيْءٍ تَشْتَهِيهِ : لَا أَشْتَهِيهِ يُعَدُّ ذَلِكَ كَذِبًا ؟ قَالَ : " إِنَّ الْكَذِبَ يُكْتَبُ كَذِبًا حَتَّى تُكْتَبَ الْكُذَيْبَةُ كُذَيْبَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو شَدَّادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ رَوَى عَنْهُ ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ كَانَتْ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ مَعَ زَوْجِهَا جَعْفَرٍ حِينَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَائِشَةَ ، وَالصَّوَابُ حَدِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ والی ان خواتین میں سے ایک تھی جنہوں نے انہیں تیار کیا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی رخصتی کروائی تھی میرے ساتھ کچھ اور خواتین بھی تھیں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ اللہ کی قسم ہم نے آپ کی مہمان نوازی کے لئے صرف دودھ کا ایک پیالہ پایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پی لیا پھر وہ آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھایا تو وہ شرما گئیں ہم نے کہا: تم اللہ کے رسول کے ہاتھ کو واپس نہ کرو اور اسے لے لو تو انہوں نے شرماتے ہوئے وہ لے لیا اور اس میں سے وہ پی لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی سہیلیوں کو بھی دو ہم نے کہا: ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھوک اور غلط بیانی کو جمع نہ کرو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر ہم میں سے کوئی ایک عورت کسی چیز کی خواہش مند ہو ، اور پھر وہ یہ کہے کہ مجھے اس کی خواہش نہیں ہے ، تو یہ چیز بھی جھوٹ شمار ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جھوٹ کو جھوٹ لکھا جائے گا یہاں تک کہ چھوٹے جھوٹ کو چھوٹا جھوٹ نوٹ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوشداد ہے اس نے مجاہد کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے ان سے یہ روایت ابن جریج اور یونس بن یزید نے نقل کی ہے اور اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ یہ بات ہے کہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے وقت اپنے شوہر اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حبشہ کی سرزمین پر موجود تھیں درست یہ ہے کہ حدیث سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے منقول ہے باقی اللہ بہتر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6151
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (710) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (155/24 و 156) اخرجه احمد فى المسند (438/6)»
حدیث نمبر: 6152
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمِّلِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ ، وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَتَيْنِ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوہریرہ ! تم ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ( ذبح کر کے دعوت کرو ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے یحیی بن معین سے اس کے بارے میں دو روایات منقول ہیں ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6152
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (850)»
حدیث نمبر: 6153
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَقَدْ خُضِّبَ بِالصُّفْرَةِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا هَذَا الْخِضَابُ ؟ أَعْرَسْتَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " أَوْلَمْتَ ؟ " . قَالَ : لَا . فَرَمَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَقَالَ : " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ انہوں نے زرد رنگ کا خضاب لگایا ہوا تھا نی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : یہ خضاب کس وجہ سے ہے ؟ کیا تم نے شادی کر لی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے ولیمہ کر لیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک گٹھلی ان کی طرف بڑھائی اور فرمایا : تم ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ( ذبح کر کے دعوت کرو ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوبکر بن ابوملیکہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6153
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 6154
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ ثَوْبُ صُفْرَةٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَهْيَمْ " . وَكَانَتْ كَلِمَةً إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الشَّيْءِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ . قَالَ : " عَلَى كَمْ ؟ " . قَالَ : عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ : " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " . ¤ قَالَ أَنَسٌ : حَرَّرْنَاهَا رُبُعَ دِينَارٍ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قِيمَةَ النَّوَاةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے زرد لباس پہنا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : میہم ؟ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ جب کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا جائے تو یہ استعمال ہوتا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے شادی کر لی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کتنے ( مہر ) کے عوض میں ؟ انہوں نے عرض کی : ایک گٹھلی کے وزن جتنے سونے کے عوض ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ( ذبح کر کے دعوت کرو ) ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے ایک چوتھائی دینار کے عوض میں اسے آزاد کیا تھا ( یعنی اس سونے کو ایک چوتھائی دینار کے عوض میں فروخت کیا تھا ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تا ہم اس میں گٹھلی کی قیمت کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن معن ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6154
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف