کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ولیمے کی دعوت کرنا اور اس کو قبول کرنا
حدیث نمبر: 6155
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَجِيبُوا الدَّاعِيَ ، وَلَا تَرُدُّوا الْهَدِيَّةَ ، وَلَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ - ، وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ الْبَزَّارِ : " أَجِيبُوا الدَّاعِيَ إِذَا دُعِيتُمْ " - ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرو اور تحفے کو واپس نہ کرو اور مسلمانوں کو مارو نہیں“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے امام بزار کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرو جب تمہیں بلایا جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6155
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1242) و(1243) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10444) اخرجه احمد فى المسند (3838)»
حدیث نمبر: 6156
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : الْوَلِيمَةُ حَقٌّ وَسُنَّةٌ فَمَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَالْخَرَسُ وَالْإِعْذَارُ وَالتَّوْكِيرُ أَنْتَ فِيهِ بِالْخِيَارِ . ¤ قَالَ : قُلْتُ : إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَدْرِي مَا الْخَرَسُ ، وَالْإِعْذَارُ ، وَالتَّوْكِيرُ ؟ قَالَ : الْخَرَسُ : الْوِلَادَةُ . وَالْإِعْذَارُ : الْخِتَانُ . وَالتَّوْكِيرُ : الرَّجُلُ يَبْنِي الدَّارَ وَيَنْزِلُ فِي الْقَوْمِ فَيَجْعَلُ الطَّعَامَ فَيَدْعُوهُمْ . فَهُمْ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءُوا جَاءُوا ، وَإِنْ شَاءُوا قَعَدُوا . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ التَّيْمِيُّ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ولیمہ حق اور سنت ہے ، جس شخص کو اس کی دعوت دی جائے اور وہ اس کو قبول نہ کرے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے جبکہ خرس اعزار اور توکیر کے بارے میں تمہیں اختیار ہے ( کہ تم چاہو ، تو چلے جاؤ ، چاہو ، تو نہ جاؤ ) ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم کہ خرس ، اعزار اور توکیر کا مطلب کیا ہوتا ہے ؟ تو انہوں نے ( یعنی میرے استاد نے ) بتایا خرس سے مراد ( بچے کی ) پیدائش کی دعوت ہے اعزار سے مراد ختنے کے وقت کی دعوت ہے اور توکیر سے مراد یہ ہے کہ جب آدمی کوئی گھر بناتا ہے ، تو اس میں لوگوں کو بلاتا ہے اور کھانا تیار کر کے ان کی دعوت کرتا ہے ، تو ان کے بارے میں لوگوں کو اختیار ہے کہ اگر وہ چاہیں تو چلے جائیں اور اگر چاہیں تو نہ جائیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عثمان تیمی ہے ، جسے ابوحاتم رازی اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6156
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6157
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص تمہاری دعوت کرے تم اسے جواب دو ! ( یعنی دعوت قبول کرو ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6157
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7904)»
حدیث نمبر: 6158
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ فَلْيُجِبْ ، فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَأْكُلْ ، وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کسی ایک کو کھانے کی دعوت دی جائے تو اسے جانا چاہیے اگر اس نے روزہ نہ رکھا ہوا ہو ، تو کھانا کھا لینا چاہیے اور اگر روزہ رکھا ہوا ہو تو برکت کی دعا دینی چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6158
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10563)»
حدیث نمبر: 6159
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ دُعِيَ إِلَى مَأْدُبَةٍ فَقَعَدَ صَائِمًا فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْكُلُونَ ، وَلَا يَطْعَمُ ، قِيلَ لَهُ : وَاللَّهِ لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ صَائِمٌ مَا دَعَيْنَاكَ ، قَالَ : لَا تَقُولُوا ذَاكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَجِبْ أَخَاكَ ، فَإِنَّكَ مِنْهُ عَلَى اثْنَتَيْنِ إِمَّا خَيْرٌ فَأَحِقَّ مَا شَهِدْتَهُ ، وَإِمَّا غَيْرُهُ فَتَنْهَاهُ عَنْهُ وَتَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہیں کھانے کی دعوت دی گئی وہ بیٹھ گئے ۔ انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا لوگوں نے کھانا شروع کیا لیکن انہوں نے نہیں کھایا انہیں اس بارے میں کہا: گیا : اللہ کی قسم ! اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ آپ نے روزہ رکھا ہوا ہے ، تو ہم آپ کو بلاتے ہی نہیں ، تو سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ نہ کہو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” اپنے بھائی کی دعوت قبول کرو کیونکہ تم اس کے حوالے سے دو چیزیں حاصل کر لو گے یا تو وہاں بھلائی ہو گی ، تو وہ اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ تم وہاں موجود ہو ، یا اس کے علاوہ ہو گا ، تو تم اُسے منع کر دو گے اور اسے بھلائی کے بارے میں حکم دو گے “ ۔

یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عبداللہ بن یعلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6159
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (271/22)»
حدیث نمبر: 6160
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ صَنَعَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ طَعَامًا ، فَدَعَاهُمْ ، فَلَمَّا دَخَلُوا وَضَعَ الطَّعَامَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعَاكُمْ أَخُوكُمْ وَتَكَلَّفَ لَكُمْ وَتَقُولُ : إِنِّي صَائِمٌ أَفْطِرْ وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ إِنْ شِئْتَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے لئے کھانا تیار کیا ۔ انہوں نے ان لوگوں کو بلایا جب یہ حضرات آئے تو انہوں نے کھانا رکھا حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے بھائی نے تمہیں بلایا ہے اور تمہارے لئے اہتمام کیا ہے اور تم کہہ رہے ہو میں نے روزہ رکھا ہوا ہے روزہ ختم کر دو اور پھر اس کی جگہ اگر تم چاہو ، تو روزہ رکھ لینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حماد بن ابوحمید ہے اور وہ ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6160
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6161
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : إِذَا عُرِضَ عَلَى أَحَدِكُمْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ ، وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم فرماتے ہیں : جب کسی شخص کو کھانے یا مشروب کی پیش کش کی جائے اور اس نے روزہ رکھا ہوا ہو ، تو اسے کہہ دینا چاہیے کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6161
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 6162
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنْ كَانَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْعَوَالِي لَيَدْعُو النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِصْفَ اللَّيْلِ عَلَى خُبْزِ الشَّعِيرِ فَيُجِيبُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو مُسْلِمٍ قَائِدِ الْأَعْمَشِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ . وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اگر نواحی علاقے کا رہنے والا کوئی شخص اگر نصف رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کی روٹی کھانے کے لئے بلاتا تھا تو آپ اس کی دعوت قبول کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومسلم ہے ، جو اعمش کو ساتھ لے کے چلا کرتا تھا ابن حبان نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6162
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (41) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (257) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11059)»
حدیث نمبر: 6163
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمِّلِ وَثَّقَهُ ابْنُ سَعْدٍ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ . وَابْنُ حِبَّانَ فِي رِوَايَتَيْنِ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر مجھے ایک پائے کی دعوت دی جائے تو میں وہ قبول کر لوں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مؤمل ہے ، جسے ابن سعد اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ابن حبان سے اس بارے میں دو روایات منقول ہیں ۔ ایک جماعت نے اس راوی کو ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6163
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11236)»