حدیث نمبر: 6137
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : لَمَّا خَطَبَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ لَا بُدَّ لِلْعَرُوسِ مِنْ وَلِيمَةٍ " . ¤ قَالَ : فَقَالَ سَعْدٌ : عَلَيَّ كَبْشٌ . وَقَالَ فُلَانٌ : عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا مِنْ ذُرَةٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ سَلِيطٍ ، وَلَمْ يَجْرَحْهُ أَحَدٌ ، وَهُوَ مَسْتُورٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے شادی کا پیغام دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شادی میں ولیمہ بھی ضروری ہوتا ہے “ ۔ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: دنبہ فراہم کرنا میرے ذمہ ہے فلاں شخص نے کہا: اتنا ، اتنا آٹا فراہم کرنا میری ذمہ داری ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن سلیط ہے کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے یہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن سلیط ہے کسی نے اس پر جرح نہیں کی ہے یہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6138
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " طَعَامُ يَوْمٍ فِي الْعُرْسِ سُنَّةٌ ، وَطَعَامُ يَوْمَيْنِ فَضْلٌ ، وَطَعَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ رِيَاءٌ وَسُمْعَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شادی پر ایک دن کھانا کھلانا سنت ہے دو دن کھلانا اضافی ہے اور تین دن کھلانا ریاکاری اور دکھاوا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6139
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : الْوَلِيمَةُ أَوَّلُ يَوْمٍ حَقٌّ ، وَالثَّانِيَةُ فَضْلٌ ، وَالثَّالِثَةُ رِيَاءٌ وَسُمْعَةٌ ، وَمَنْ يُسَمِّعْ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پہلے دن ولیمہ حق ہے دوسرے دن فضیلت ہے اور تیسرے دن ریاکاری اور دکھاوا ہے اور جو شخص دکھاوا کرتا ہے اللہ تعالی اس کے دکھاوے کو ظاہر کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 6140
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَفِيَّةَ ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا ، وَجَعَلَ الْوَلِيمَةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، وَبَسَطَ نِطْعًا جَاءَتْ بِهِ أُمُّ سُلَيْمٍ ، وَأَلْقَى عَلَيْهِ أَقِطًا ، وَتَمْرًا ، وَأَطْعَمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ [ الْأَيَّامِ ] . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عِيسَى بْنَ أَبِي عِيسَى مَاهَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، تو ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا اور آپ نے ولیمہ تین دن کیا آپ نے ایک دسترخوان بچھوایا جو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ لے کے آئی تھیں آپ نے اس پر پنیر اور کھجوریں رکھوا دیں اور لوگوں کو تین دن کھانا کھلایا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جس میں یہ اختصار موجود ہے کہ اس میں دنوں کا ذکر ہے ( یعنی تین دن کا ذکر نہیں ہے ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عیسیٰ بن ابوعیسی ماھان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عیسیٰ بن ابوعیسی ماھان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 6141
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُولِمْ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ إِلَّا عَلَى صَفِيَّةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ شَيْخَ الْبَزَّارِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج میں سے کسی بھی خاتون ( کے ساتھ شادی کے بعد ) ولیمہ نہیں کیا تھا صرف سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ( شادی کے بعد ) ایسا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمر بن خطاب نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، جو امام بزار کا استاد ہے وہ ثقہ ہے اور کسی نے اس کے بارے میں کلام نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمر بن خطاب نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، جو امام بزار کا استاد ہے وہ ثقہ ہے اور کسی نے اس کے بارے میں کلام نہیں کیا ہے ۔