کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 6132
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَتْلِ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرِ ، فَإِنَّهُمَا يَكْمَهَانِ الْأَبْصَارَ وَتَخْدِجُ مِنْهُنَّ النِّسَاءُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے البتہ جو دو دھاری والا ہو یا دم کٹا ہو اس کا حکم مختلف ہے کیونکہ وہ دونوں بینائی کو زائل کر دیتے ہیں اور خواتین کا حمل ان کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فرج بن فضالہ اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6132
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (262/5)»
حدیث نمبر: 6133
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ قَتْلِ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ إِلَّا الْأَبْتَرَ ، وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ ، فَإِنَّهُمَا يَخْطِفَانِ - أَوْ يَطْمِسَانِ - الْبَصَرَ ، وَيَطْرَحَانِ الْحَمْلَ مِنْ بُطُونِ النِّسَاءِ ، وَمَنْ تَرَكَهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں موجود سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے البتہ دم کٹے کا اور دو دھاری والے کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہ دونوں بینائی کو ضائع کر دیتے ہیں اور خواتین کے پیٹ میں موجود حمل کو ضائع کر دیتے ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے : ) جو شخص ان دونوں کو چھوڑ دے گا وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6133
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (4776) اخرجه احمد فى المسند (29/5)»
حدیث نمبر: 6134
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَخَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ ، فَرَجَعَ مِنَ الطَّرِيقِ يَنْظُرُ إِلَى أَهْلِهِ ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَتِهِ قَائِمَةً فِي الْحُجْرَةِ ، فَبَوَّأَ إِلَيْهَا الرُّمْحَ فَقَالَتْ : ادْخُلْ ، فَانْظُرْ مَا فِي الْبَيْتِ ، فَدَخَلَ ، فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَانْتَظَمَهَا بِرُمْحِهِ ، ثُمَّ رَكَّزَ الرُّمْحَ فِي الدَّارِ ، فَانْتَفَضَتِ الْحَيَّةُ ، وَانْتَفَضَ الرَّجُلُ ، فَمَاتَتِ الْحَيَّةُ ، وَمَاتَ الرَّجُلُ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّهُ نَزَلَ بِالْمَدِينَةِ جِنٌّ مُسْلِمُونَ " . أَوْ قَالَ : " بِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَتَعَوَّذُوا مِنْهُ ، فَإِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کی نئی نئی شادی ہوئی تھی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلا راستے سے وہ واپس آیا اس نے اپنی بیوی کا جائزہ لینا تھا تو اس کی بیوی گھر کے دروازے پر کھڑی ہوئی تھی اس نے نیزہ اس کی طرف بڑھایا تو اس عورت نے کہا: اندر تو آؤ اور دیکھو کہ گھر میں کیا صورت حال ہے ؟ وہ اندر گیا تو گھر میں ایک سانپ اس کے بستر پر لیٹا ہوا تھا اس شخص نے نیزے میں اس سانپ کو پرو دیا اور پھر محلے میں لا کے وہ نیزہ گاڑ دیا اس سانپ نے حملہ کیا اور اس آدمی نے بھی حملہ کیا ، تو سانپ بھی مر گیا اور وہ آدمی بھی مر گیا ، اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : مدینہ میں کچھ مسلمان جنات آئے ہوئے تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ نے فرمایا : ان گھروں میں کچھ رہنے والے ہیں جب ان میں سے کسی کو تم دیکھو تو اس سے پناہ مانگو اگر وہ دوبارہ آئے تو اسے مار دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6134
درجۂ حدیث محدثین: إسناده رجالُہ
حدیث نمبر: 6135
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا كَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ ، فَبَعَثَ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثًا وَبَعَثَ فِيهِمْ ذَلِكَ الرَّجُلَ ، فَلَمَّا جَاءَ الْقَوْمُ تَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِهِ ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَتِهِ قَائِمَةً عَلَى بَابِهَا ، فَدَخَلَتْهُ غَيْرَةٌ فَهَيَّأَ إِلَيْهَا الرُّمْحَ لِيَطْعَنَهَا ، فَقَالَتْ : لَا تَعْجَلْ ، وَانْظُرْ مَا فِي الْبَيْتِ . فَدَخَلَ الْبَيْتَ ، فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى فِرَاشِهَا ، فَطَعَنَ الْحَيَّةَ ، فَمَاتَتْ ، وَمَاتَ الرَّجُلُ ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ مِنَ الْجِنِّ " . وَنَهَى عَنْ قَتْلِهِنَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک نوجوان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہم میں اس شخص کو بھی بھیجوایا جب وہ شخص واپس آیا تو وہ جلدی سے اپنے گھر کی طرف گیا تو وہاں اس کی بیوی گھر کے دروازے پر کھڑی ہوئی تھی اس شخص کو بڑا غصہ آیا اس نے نیزہ اس عورت کی طرف بڑھایا تاکہ اسے مار دے اس عورت نے کہا: جلدی نہ کرو اس بات کا جائزہ لو کہ گھر میں کیا ہے ؟ وہ گھر کے اندر گیا تو وہاں ایک سانپ اس کے بستر پر پڑا ہوا تھا اس نے اس سانپ کو نیزہ مارا تو وہ سانپ مر گیا اور وہ شخص بھی مر گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان گھروں میں کچھ جنات رہتے ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل کرنے سے منع کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے معجم اوسط کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6135
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1146)»
حدیث نمبر: 6136
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : نُهِيَ عَنْ قَتْلِهِنَّ ؛ يَعْنِي : الْحَيَّاتِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا إِبْرَاهِيمَ بْنَ صَالِحٍ الشِّيرَازِيَّ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ فَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہیں مارنے سے منع کیا گیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی وہ سانپ جو گھروں میں موجود ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابراہیم بن صالح شیرازی کا معاملہ مختلف ہے ، جو امام طبرانی کا استاد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6136
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف