کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سانپ اور حشرات الارض کو مار دینا
حدیث نمبر: 6114
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَتَلَ حَيَّةً فَلَهُ سَبْعُ حَسَنَاتٍ ، وَمَنْ قَتَلَ وَزَغًا فَلَهُ حَسَنَةٌ ، وَمَنْ تَرَكَ حَيَّةً مَخَافَةَ عَاقِبَتِهَا فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْمُسَيَّبَ بْنَ رَافِعٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص سانپ کو مار دیتا ہے اسے سات نیکیاں ملتی ہیں جو شخص چھپکلی کو مار دیتا ہے اسے ایک نیکی ملتی ہے اور جو شخص سانپ اس اندیشے کے تحت چھوڑ دیتا ہے کہ اس کا انجام کیا ہو گا تو وہ ہم میں سے نہیں“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ مسیب بن رافع نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6114
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10492) اخرجه احمد فى المسند (3984)»
حدیث نمبر: 6115
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَيَّةَ فَقَالَ : " خُلِقَتْ هِيَ وَالْإِنْسَانُ سَوَاءً ، فَإِنْ رَأَتْهُ أَفْزَعَتْهُ ، وَإِنْ لَدْغَتْهُ أَوْجَعَتْهُ ، فَاقْتُلُوهَا حَيْثُ وَجَدْتُمُوهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ غَيْرُ مُسَمًّى ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ الْجُعْفِيُّ ، وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ : أَحْمَدُ ، وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سانپ کا ذکر کیا آپ نے ارشاد فرمایا : اسے اور انسان کو برابر پیدا کیا گیا ہے اگر یہ انسان کو دیکھتا ہے ، تو اسے خوف زدہ کر دیتا ہے اگر اسے ڈس لے تو اسے تکلیف پہنچاتا ہے ، تو تم جہاں بھی اس کو پاؤ اسے مار دو“ ۔

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ جابر جعفی ہے سفیان ثوری اور شعبہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ائمہ نے یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6115
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6116
وَعَنْ سَرَّاءَ بِنْتِ نَبْهَانَ الْغَنَوِيَّةُ قَالَتْ : سَأَلَ نُصَيْبٌ غُلَامُنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحَيَّاتِ مَا يُقْتَلُ مِنْهَا ؟ قَالَتْ : فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " اقْتُلُوا مَا ظَهَرَ مِنْهَا كَبِيرَهَا وَصَغِيرَهَا ، أَسْوَدَهَا ، وَأَبْيَضَهَا ، فَإِنَّ مَنْ قَتَلَهَا مِنْ أُمَّتِي كَانَتْ فِدَاءَهُ مِنَ النَّارِ وَمَنْ قَتَلَتْهُ كَانَ شَهِيدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ الْغَسَّانِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ سراء بنت نبھان غنویہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہمارے ایک غلام نصیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سانپوں کے بارے میں دریافت کیا کہ ان میں سے کس کو مارا جائے ؟ وہ خاتون بیان کرتی ہیں تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ان میں سے جو بھی ظاہر ہوتا ہے اسے مار دو ! خواہ وہ بڑا ہو چھوٹا ہو یا سفید ہو کیونکہ میری امت میں سے جو شخص اسے مارے گا تو یہ اس کے لئے جہنم سے فدیہ بن جائے گا اور جسے وہ ( سانپ ) مار دے گا تو وہ شخص شہید ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن حارث غسانی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6116
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (308/24 و 309)»
حدیث نمبر: 6117
وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ قَالَ : بَيْنَمَا ابْنُ مَسْعُودٍ يَخْطُبُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ تَمْشِي عَلَى الْجِدَارِ فَقَطَعَ خُطْبَتَهُ ، ثُمَّ ضَرَبَهَا بِقَضِيبِهِ أَوْ بِقَصَبَةٍ - قَالَ يُونُسُ : بِقَصَبَتِهِ - حَتَّى قَتَلَهَا ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَتَلَ حَيَّةً فَكَأَنَّمَا قَتَلَ [ رَجُلًا ] مُشْرِكًا قَدْ حَلَّ دَمُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَرْفُوعًا ، وَمَوْقُوفًا ، قَالَ الْبَزَّارُ فِي حَدِيثِهِ ، وَهُوَ مَرْفُوعٌ : " مَنْ قَتَلَ حَيَّةً أَوْ عَقْرَبًا " . وَهُوَ فِي مَوْقُوفِ الطَّبَرَانِيِّ . وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوا حوص جشمی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے اسی دوران دیوار پر ایک سانپ چلتا ہوا نظر آیا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خطبہ درمیان میں چھوڑا اور پھر لاٹھی کے ذریعے یا چھڑی کے ذریعے اسے مار کر قتل کر دیا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” جس شخص نے سانپ کو مارا ، اُس نے گویا کسی ایسے مشرک شخص کو قتل کیا جس کا خون بہانا حلالی تھا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” مرفوع “ اور ” موقوف “ ( دونوں طرح سے نقل کی ہے ) امام بزار نے اپنی روایت میں یہ کہا: ہے کہ یہ ” مرفوع “ ہے : ” جس شخص نے سانپ یا بچھو کو قتل کیا “ ۔ تو امام طبرانی کی روایت میں یہ ” موقوف “ ہے امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6117
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1229 و1230) اخرجه أبو يعلى فى المسند (5320)، اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10109) اخرجه احمد فى المسند (3746)»
حدیث نمبر: 6118
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَذَكَرَ الْحَيَّاتِ : " مَنْ خَشِيَ ثَأْرَهُنَّ فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو شَيْبَةَ الْوَاسِطِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” جو شخص ان کے حملے سے ڈر جائے وہ ہم میں سے نہیں“ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحن بن اسحاق ابوشیبہ واسطی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6118
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1231) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8244)»
حدیث نمبر: 6119
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ ، فَمَنْ خَافَ ثَأْرَهُنَّ فَلَيْسَ مِنِّي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سانپوں کو مار دو ! جو شخص ان کے حملے سے ڈر جائے وہ ہم میں سے نہیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6119
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9747)»
حدیث نمبر: 6120
وَعَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ قَالَ : كُنْتُ مَعَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ فِي جِنَازَةٍ ، وَكَانَ رَاكِبًا فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمَقْبَرَةَ خَرَجَتْ حَيَّةٌ فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ : حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ رَأَى حَيَّةً فَلَمْ يَقْتُلْهَا خَوْفًا مِنْهَا فَلَيْسَ مِنِّي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَدَاوُدُ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
داؤد بن عبدالجبار بیان کرتے ہیں : میں ابراہیم بن جریر کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھا وہ سوار تھے جب ہم قبرستان پہنچے تو وہاں ایک سانپ نکل آیا ابراہیم نے بتایا کہ میرے والد نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص کوئی سانپ دیکھے اور پھر اس کے خوف کی وجہ سے اسے قتل نہ کرے اس کا مجھ سے تعلق نہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے داؤد نامی راوی انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6120
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (816 مختصرا) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2294)»
حدیث نمبر: 6121
وَعَنْ جَرِيرٍ أَيْضًا ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهَا ، مَنْ تَرَكَهَا خَشْيَةَ ثَأْرِهَا فَلَيْسَ مِنِّي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ دَاوُدُ أَيْضًا ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ ہی کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے : ” تم ہر قسم کا سانپ مار دو جو شخص ان کے حملے کے ڈر کی وجہ سے انہیں چھوڑے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں بھی داؤد نامی راوی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6121
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2396)»
حدیث نمبر: 6122
وَعَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ رَأَى حَيَّةً فَلَمْ يَقْتُلْهَا مَخَافَةَ طَلَبِهَا فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابولیلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص سانپ کو دیکھتا ہے اور پھر اس کی طلب سے خوف زدہ ہو کر اسے مارتا نہیں ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6122
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4625)»
حدیث نمبر: 6123
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ ، وَالْأَبْتَرَ ، فَإِنَّهُمَا يَلْتِحَسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ ، فَمَنْ لَمْ يَقْتُلْهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : فَمْنَ لَمْ يَقْتُلْهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سانپوں کو مار دو خاص طور پر دو دھاری والے اور دم کٹے کو مار دو ! کیونکہ وہ بینائی کو اچک لیتے ہیں اور حمل کو ضائع کر دیتے ہیں جو شخص ان دونوں کو نہیں مارے گا وہ ہم میں سے نہیں“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تاہم میں یہ الفاظ نہیں ہیں : جو شخص ان دونوں کو نہیں مارے گا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6123
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13205)»
حدیث نمبر: 6124
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْحَيَّاتُ مَسْخُ الْجِنِّ كَمَا مُسِخَتِ الْقِرَدَةُ ، وَالْخَنَازِيرُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِالِاخْتِصَارِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سانپ ، جنات کی مسخ شدہ شکل ہے ، جس طرح بندر اور خنزیر بنی اسرائیل کی مسخ شدہ شکل ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے جبکہ امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6124
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1232) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11946) اخرجه احمد فى المسند (3254)»
حدیث نمبر: 6125
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْحَيَّاتُ مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ ، فَمَنْ رَأَى مِنْهُنَّ شَيْئًا فَلْيَقْتُلْهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَبْدُو لَكُمْ مُسْلِمُوهُمْ وَمَنْ تَرَكَ شَيْئًا مِنْهُنَّ خِيفَةً فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سانپوں کے ساتھ جب سے ہم نے جنگ شروع کی ہے ہم نے جنگ ختم نہیں کی جو شخص ان میں سے کسی کو دیکھتا ہے اسے چاہیے کہ اسے مار دے کیونکہ ان سانپوں میں سے مسلمان تمہارے سامنے نہیں آئیں گے جو شخص خوف کی وجہ سے ان میں سے کسی کو چھوڑے گا وہ ہم میں سے نہیں“ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عجلان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6125
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6126
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ إِلَّا الْجَانَّ الْأَبْتَرَ [ مِنْهَا ] وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَإِنَّهُمَا يَقْتُلَانِ الصَّبِيَّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ، وَيُغَشِّيَانِ الْبَصَرَ ، وَمَنْ تَرَكَهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر قسم کے سانپ کو قتل کر دو ! البتہ گھر میں نکل آنے والے دم کئے ہوئے کا ، اور جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوتی ہیں ، اس کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ یہ دونوں ماں کے پیٹ میں موجود بچے کو مار دیتے ہیں اور بینائی کو ختم کر دیتے ہیں ’ جو شخص ان دونوں کو چھوڑے گا وہ ہم میں سے نہیں“ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6126
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (157/6)»
حدیث نمبر: 6127
وَعَنْ عُثْمَانَ - يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَكْفِيكُمْ مِنَ الْحَيَّةِ ضَرْبَةُ سَوْطٍ أَصَبْتُمُوهَا أَوْ أَخْطَأْتُمُوهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ الشَّاذَكُونِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سانپ کے مقابلے میں لاٹھی کی ایک ضرب تمہارے لئے کافی ہے خواہ وہ اسے لگے یا اسے نہ لگے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان شاذ کونی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6127
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (2840)»
حدیث نمبر: 6128
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْتُلُوا الْوَزَغَ وَلَوْ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چھپکلی کو مار دو خواہ وہ خانہ کعبہ کے اندر ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیس مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6128
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6129
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ فَاكِهٍ قَالَ : خَرَجْتُ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، فَخَرَجَ إِلَيَّ مُبْرِزًا بِيَدِهِ الرُّمْحَ فَقُلْتُ : يَا أَبَا خَارِجَةَ ، مَا بَالُ الرُّمْحِ هَذِهِ السَّاعَةَ ؟ قَالَ : كُنْتُ أَطْلُبُ هَذِهِ الدَّابَّةَ الْخَبِيثَةَ الَّتِي يَكْتُبُ اللَّهُ بِقَتْلِهَا الْحَسَنَةَ ، وَيَمْحُو بِهَا السَّيِّئَةَ ، وَهِيَ الْوَزَغُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ الْفَاكِهِ تَفَرَّدَ عَنْهُ : أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عقبہ بن فاکہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف گیا وہ میرے سامنے آئے تو ان کے ہاتھ میں نیزہ تھا میں نے کہا: اے ابوخارجہ اس وقت آپ کے ہاتھ میں نیزے کا کیا کام ؟ انہوں نے فرمایا : میں اس خبیث جانور کو تلاش کر رہا ہوں جس کو مارنے پر اللہ تعالیٰ نیکیاں نوٹ کرتا ہے اور اس کی وجہ سے گناہ مٹا دیتا ہے اور وہ چھپکلی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عقبہ بن فاکہ ہے ابوجعفر خطمی اس سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6129
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4738)»
حدیث نمبر: 6130
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً مَحَا اللَّهُ عَنْهُ سَبْعَ خَطِيئَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص چھپکلی کو مار دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سات خطائیں مٹا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6130
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 6131
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ حَتَّى أَخْبَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ . ¤ وَحَدَثَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَهَبَ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ فَلَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ فَقَالَ : " مَا لَكِ ؟ لَعَنَكِ اللَّهُ ! لَوْ كُنْتِ تَارِكَةً أَحَدًا لَتَرَكْتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ قُلْتُ : قَتْلُ الْحَيَّاتِ فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ سانپوں کو مار دینے کا حکم دیا کرتے تھے یہاں تک کہ سیدنا ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے ، جو گھروں میں ہوتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بات بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کا استلام کرنے کے لئے بڑھے تو ایک بچھو نے آپ کو ڈنک مار لیا آپ نے فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ اللہ تعالیٰ تم پر لعنت کرے اگر تم نے کسی کو چھوڑنا ہوتا تو تم نبی کو چھوڑ دیتے “ ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سانپوں کو مارنے کی روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6131
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف