کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ہر نوکیلے دانتوں والے اور پنجوں والے جانور کا بیان اور اس سے جو منع کیا گیا ہے ، اس کا بیان
حدیث نمبر: 6077
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ السَّعْدِيِّ قَالَ : أَمَرَنِي نَاسٌ مِنْ قَوْمِي أَنْ أَسْأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبَ ، عَنْ سِنَانٍ يُحَدِّدُونَهُ [ وَ ] يُرَكِّزُونَهُ فِي الْأَرْضِ يُصْبِحُ ، وَقَدْ قَتَلَ الضَّبُعَ أَفَتَرَاهُ ذَكَاتَهُ ؟ قَالَ : فَجَلَسْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، فَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ شَيْخٌ أَبْيَضُ الرَّأْسِ ، وَاللِّحْيَةِ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَاكَ فَقَالَ : وَإِنَّكَ لَتَأْكُلُ الضَّبُعَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : مَا أَكَلْتُهَا قَطُّ ، وَإِنَّ نَاسًا مِنْ قَوْمِي لَيَأْكُلُونَهَا . فَقَالَ : أَكْلُهَا لَا يَحِلُّ . فَقَالَ الشَّيْخُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَرْوِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : [ فَإِنِّي ] سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ كُلِّ ذِي نُهْبَةٍ ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مُجَثَّمَةٍ ، وَعَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ . ¤ قَالَ : فَقَالَ سَعِيدٌ : صَدَقَ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ كُلِّ ذِي خِطْفَةٍ . بَدَلَ : نُهْبَةٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَالَ الْبَزَّارُ : إِسْنَادُهُ حَسَنٌ . قُلْتُ : لِأَنَّهُ رَوَاهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَلَيْسَ فِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ هَذَا ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ النَّهْيَ عَنِ الْمُجَثَّمَةِ فَقَطْ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن یزید سعدی بیان کرتے ہیں : میری قوم کے کچھ افراد نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں سعید بن مسیب سے ان نوکیلے نیزوں (سنان) کے بارے میں جنہیں تیز کر کے وہ زمین میں گاڑ دیتے ہیں اور صبح کے وقت اس سے لگڑبھگا (ضبع) ہلاک ہو جاتا ہے ، تو کیا یہ اس کا ذبح کرنا شمار ہوگا ؟ راوی کہتے ہیں : میں سعید بن مسیب کے پاس آ کے بیٹھا ان کے پاس ایک عمر رسیدہ صاحب موجود تھے جن کے بال اور داڑھی سفید ہو چکی تھی ان کا تعلق اہل شام سے تھا میں نے ان سے اس مسئلہ کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگ «الضَّبُعَ» (لگڑبھگا / Hyena) کھاتے ہو ؟ میں نے جواب دیا میں نے تو وہ کبھی نہیں کھایا لیکن میری قوم کے کچھ افراد وہ کھاتے ہیں ۔ سعید بن مسیب نے کہا: اسے کھانا تو حلال ہی نہیں ہے ، تو ان بزرگ نے کہا: اے اللہ کے بندے ! کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کروں جو میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سنی ہے ، جسے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے روایت کیا ہے میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : میں نے سیدنا ابودرادہء کو یہ بیان کرتے ہوئے کرتے ہوئے سنا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اچک لینے والے اور ہر مجثمہ ( یعنی ہر وہ جانور یا پرندہ ، جس کو نشانہ بازی کا ہدف بنا کر مار دیا جائے ) اور ہر نوکیلے دانتوں والے درندے ( کا گوشت کھانے ) سے منع کیا ہے ۔
راوی بیان کرتے ہیں : تو سعید بن مسیب نے کہا: انہوں نے ٹھیک کہا: ہے ۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ہر اچک لینے والے کے لئے لفظ ” ذی خطفہ“ نقل ہوا ہے ، جو لفظ ” نھبہ“ کی جگہ پر ہے ۔

یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام بزار کہتے ہیں اس کی نقل کردہ سند حسن ہے میں یہ کہتا ہوں : اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اسے سعید بن مسیب کے حوالے سے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے اور اس کی سند میں عبداللہ بن یزید نامی یہ راوی نہیں ہے امام ترمذی نے اس روایت میں سے صرف ” مجثمہ“ کی ممانعت والا حکم نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6077
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1213) اخرجه احمد فى المسند (445/6)»
حدیث نمبر: 6078
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى : " إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ ، أَلَا وَإِنَّ الْحُمُرَ الْأَهْلِيَّةَ حَرَامٌ ، وَكُلَّ ذِي نَابٍ - أَوْ قَالَ : - ذِي ظُفُرٍ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " وَكُلُّ سَبُعٍ ذِي ظُفُرٍ ، أَوْ نَابٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ - تَقَدَّمَ فِي الْجَنَائِزِ - ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلے آپ نے منادی کو یہ حکم دیا تو اس نے یہ اعلان کیا : جنت کسی نافرمان کے لئے حلال نہیں ہے ۔ خبردار ! پالتو گدھے حرام ہیں اور ہر نوکیلے دانتوں والا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) نوکیلے پنجوں والا جانور حرام ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ہر وہ درندہ جو ناخنوں والا ہو یا دانتوں والا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ، جو جنائز سے متعلق باب میں پہلے گزر چکی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6078
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7792 و 7793)»
حدیث نمبر: 6079
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، وَكَانَ أَحَدَ النُّقَبَاءِ قَالَ : حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَحْمَ الضَّبِّ ، وَالْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ ، وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ أَبُو دَاوُدَ النَّهْيَ عَنْ لَحْمِ الضَّبِّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ ، جو نقباء میں سے ایک ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کے گوشت کو پالتو گدھوں کو اور ہر نوکیلے دانتوں والے درندے ( کے گوشت ) کو حرام قرار دیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے ان کے حوالے سے صرف گوہ کے گوشت کی ممانعت والا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالواہاب بن ضحاک ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6079
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
حدیث نمبر: 6080
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُغَفَّلٍ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قُلْتُ : مَا تَقُولُ فِي الضَّبُعِ ؟ قَالَ : " لَا آكُلُهُ ، وَلَا أَنْهَى عَنْهُ " . قُلْتُ : مَا لَمْ يَنْهَ عَنْهُ ، فَإِنِّي آكُلُ مِنْهُ . ¤ قُلْتُ : مَا تَقُولُ فِي الْأَرْنَبِ ؟ قَالَ : " لَا آكُلُهَا ، وَلَا أُحَرِّمُهَا " . قُلْتُ : مَا لَمْ تُحَرِّمْهُ ، فَإِنِّي آكُلُهُ . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي الثَّعْلَبِ ؟ قَالَ : " وَيَأْكُلُ ذَلِكَ أَحَدٌ ؟ " . ¤ قُلْتُ : مَا تَقُولُ فِي الذِّئْبِ ؟ قَالَ : " وَيَأْكُلُ ذَلِكَ أَحَدٌ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ وَوَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ ، وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن مغفل سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا وہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : گوہ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میں اسے کھاتا بھی نہیں ہوں اور میں اس سے منع بھی نہیں کرتا ہوں ( راوی کہتے ہیں ) تو میں یہ کہتا ہوں کہ جس چیز سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں کیا میں اسے کھا لیتا ہوں ۔ میں نے دریافت کیا : خرگوش کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس کو کھاتا بھی نہیں ہوں اور میں اسے حرام بھی قرار نہیں دیتا ہوں میں نے عرض کی : جسے آپ حرام قرار نہیں دیتے ہیں تو میں اسے کھا لیتا ہوں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لومڑی کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا کوئی اسے کھاتا ہے ؟ میں نے عرض کی : بھیڑیئے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا کوئی اسے کھاتا ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے ائمہ کی ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ابن عدی اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6080
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6081
وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَتَّخِذُوا ظُهُورَ الدَّوَابِّ مَنَابِرَ " . ¤ وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " شَرُّ الدَّوَابِّ الثَّعْلُ " . يَعْنِي : الثَّعْلَبَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جانوروں کی پشت کو منبر نہ بنا لو ( یعنی جب وہ کھڑے ہوئے ہوں اس وقت ان پر سواری نہ کرو ) “ ۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جانوروں میں سب سے برا ( جانور ) لومڑی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مبشر بن عبید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6081
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (144/22)»