کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ( بلندی سے ) گرے ہوئے یا اس کی مانند جانور کو ذبح کرنا
حدیث نمبر: 6041
عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سُئِلَ : مَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ ؟ فَقَالَ : " لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَ عَنْكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ الشُّرُودِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ سے دریافت کیا گیا کہ کیا ذبح کرنا صرف حلق اور لبہ میں ہوتا ہے آپ نے فرمایا : اگر تم اس کے زانوں پر ( تیر یا نیزہ ) چبھو دو تو یہ بھی تمہاری طرف سے کفایت کر جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بکر بن الشرود ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6041
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6042
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ بَعِيرًا مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ نَدَّ فَطَلَبُوهُ ، فَلَمَّا أَعْيَاهُمْ أَنْ يَأْخُذُوهُ رَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَأَصَابَ مَقْتَلَهُ ، فَسَأَلُوهُ عَنْ أَكْلِهِ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهِ ، وَقَالَ : " إِنَّ لَهَا أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ ، فَإِذَا حَبَسْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَاصْنَعُوا بِهِ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ بِهَذَا ، ثُمَّ كُلُوهُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ ، وَهَذَا أَبْيَنُ أَيْضًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مِنْ ضَعْفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ سرکش ہو گیا لوگوں نے اس کا پیچھا کیا جب اس نے لوگوں کو تھکا دیا کہ وہ اسے نہیں پکڑ سکے تو ایک شخص نے اسے تیر مارا تو وہ تیر اس کے اس جگہ پر لگا جس کے ذریعے وہ مر گیا لوگوں نے اس کا گوشت کھانے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اس کو کھانے کی ہدایت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وحشی جانوروں کے بدکنے کی طرح یہ جانور بھی سرکش ہو جاتے ہیں تو جب تم ان میں سے کسی پر ق ابونہ پا سکو تو اس جانور کے ساتھ اسی طرح کرو جس طرح اس کے ساتھ کیا ہے اور پھر اس کا گوشت کھا لو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے اور یہ روایت زیادہ واضح ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں کچھ ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6042
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4387)»
حدیث نمبر: 6043
وَعَنْ رَافِعٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ . قَالَ رَافِعٌ : ثُمَّ إِنَّ نَاضِحًا تَرَدَّى فِي بِئْرٍ بِالْمَدِينَةِ فَذُكِّيَ مِنْ قِبَلِ شَاكِلَتِهِ - يَعْنِي خَاصِرَتَهُ - فَأَخَذَ مِنْهُ عُمَرُ عَشِيرًا بِدِرْهَمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم ذوالحلیفہ میں ، جو تہامہ کی جگہ ہے ، وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک اونٹنی مدینہ کے کنویں میں گر گئی تو اسے اس کی کوکھ کی طرف سے ذبح کیا گیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا دسواں حصہ ایک درہم کے عوض میں حاصل کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6043
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4380 مطولا)»
حدیث نمبر: 6044
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : اتَّبَعْنَا بَقَرَةً فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِنَسْرَكَ عَلَيْهَا فَانْفَلَتَتْ مِنَّا فَامْتَنَعَتْ عَلَيْنَا فَعَرَضَ لَهَا مَوْلًى لَنَا - يُقَالُ لَهُ : ذَكْوَانُ - بِسَيْفٍ فِي يَدِهِ وَهِيَ تَجُولُ بِالضِّمَادِ فَضَبَا إِلَى تَلٍّ فَلَمَّا مَرَّتْ بِهِ ضَرَبَهَا بِالسَّيْفِ فِي أَصْلِ عُنُقِهَا أَوْ عَلَى عَاتِقِهَا فَخَرَقَهَا بِالسَّيْفِ وَوَقَعَتْ فَلَمْ يُدْرِكْ ذَكَاتَهَا ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ الْجِذْعِ ، فَلَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْنَا لَهُ شَأْنَهَا ، فَقَالَ : " كُلُوا ؛ إِذَا فَاتَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْبَهَائِمِ شَيْءٌ فَاحْبِسُوهُ بِمَا تَحْبِسُونَ بِهِ الْوَحْشَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ حَرَامُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم ایک گائے کے پیچھے جا رہے تھے تاکہ اس کو پکڑ لیں لیکن وہ ہم سے چھوٹ جاتی تھی وہ ہمارے ق ابومیں نہیں آ رہی تھی ہمارا ایک غلام جس کا نام ذکوان تھا وہ اس کے سامنے آیا اس کے ہاتھ میں تلوار تھی ، وہ گائے گھومتی ہوئی ایک ٹیلے کی طرف چلی گئی ، جب وہ اس شخص کے پاس سے گزری تو اس نے اس گائے کی گردن پر تلوار ماری ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کندھے پر تلوار ماری تو تلوار نے اسے چیر دیا وہ گائے گر گئی اسے ذبح کرنے کا موقع نہیں ملا میں اور عبداللہ بن ثابت بن جذع نکلے ہماری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ہم نے اس گائے کا معاملہ آپ کے سامنے ذکر کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم اسے کھا لو جب اس طرح کا کوئی جانور تمہارے ق ابوسے نکل جائے تو تم اسے یوں پکڑو جس طرح وحشی جانوروں کو پکڑتے ہو ( یا رکنے پر مجبور کرتے ہو ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حرام بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6044
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1860)»