حدیث نمبر: 6034
عَنْ سَفِينَةَ أَنَّ رَجُلًا أَشَاطَ نَاقَتَهُ بِجِذْلٍ فَسَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے درخت کی جڑ ( یعنی لکڑی ) کے ذریعے اپنی اونٹنی کو ذبح کر دیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اس کا گوشت کھانے کا حکم دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 6035
وَلِسَفِينَةَ عِنْدَ الْبَزَّارِ أَنَّهُ أَشَاطَ دَمَ جَزُورٍ بِجِذْلٍ فَسَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : " أَنْهَرَ الدَّمَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ سَفِينَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے امام بزار نے یہ بات نقل کی ہے ۔ انہوں نے درخت کے تنے کے ذریعے ایک اونٹ کو ذبح کیا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے دریافت کیا : کیا اس نے خون بہا دیا تھا اس نے جواب دیا : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صاحب کو اس کے کھانے کا حکم دیا ( یعنی اجازت دی ) ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ یہ یحیی بن ابوکثیر کی سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت ہے ۔
حدیث نمبر: 6036
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَرْعَى عَلَى آلِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ غَنَمًا بِسَلْعٍ فَخَافَتْ عَلَى شَاةٍ مِنْهَا الْمَوْتَ فَذَبَحَتْهَا بِحَجَرٍ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ جَارِيَةٍ ذَبَحَتْ بِلِيطَةٍ ، فَقَالَ : " كُلْهُ " . ¤ رِجَالُ أَحْمَدَ ، وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک عورت ” سلع “ پہاڑ کے پاس آل کعب بن مالک کی بکریاں چرا رہی تھی اسے ایک بکری کے حوالے سے مرنے کا اندیشہ ہوا تو اس نے پتھر کے ذریعے اسے ذبح کر دیا اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے ان لوگوں کو اس کا گوشت کھانے کا حکم دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات منقول ہے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کنیز کے بارے میں دریافت کیا : جس نے پتھر کے ذریعے جانور کو ذبح کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کو کھا لو ۔ امام أحمد اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات منقول ہے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کنیز کے بارے میں دریافت کیا : جس نے پتھر کے ذریعے جانور کو ذبح کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کو کھا لو ۔ امام أحمد اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6037
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : ذَبَحْتُ شَاةً بِوَتِدٍ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ذَبَحْتُ شَاةً بِوَتِدٍ ؟ فَقَالَ : " كُلُوهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَفِي رِوَايَةٍ فِي الْكَبِيرِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكَلَ مِنْهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے کیل کے ذریعے بکری ذبح کر دی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے کیل کے ذریعے بکری ذبح کر لی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے کھا لو ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں معجم کبیر کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کا گوشت کھایا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال ثقہ ہیں معجم کبیر کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کا گوشت کھایا تھا ۔
حدیث نمبر: 6038
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْبَحُوا بِكُلِّ شَيْءٍ فَرَى الْأَوْدَاجَ مَا خَلَا السِّنَّ وَالظُّفُرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : رُبَّمَا أَخْطَأَ . وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر اس چیز کے ذریعے ذبح کر لو جو رگوں کو کاٹ دیتی ہے البتہ سن اور ظفر کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 6039
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَتْ جَارِيَةٌ لِأَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو تَرْعَى غَنَمًا فَعَطِبَتْ مِنْهَا شَاةٌ فَكَسَرَتْ حَجَرًا مِنَ الْمَرْوَةِ فَذَكَّتْهَا . فَأَتَتْ بِهَا إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ، فَأَخْبَرَتْهُ ، فَقَالَ : اذْهَبِي بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا أَنْتِ . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ أَفْرَيْتِ الْأَوْدَاجَ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " كُلُّ مَا فَرَى الْأَوْدَاجَ مَا لَمْ يَكُنْ مَرْمَى سِنٍّ أَوْ حَدَّ ظُفُرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی کنیز بکریاں چرا رہی تھی ان میں سے ایک بکری مرنے لگی تو اس کنیز نے ایک پتھر توڑا اور اس کے ذریعے بکری کو ذبح کر لیا پھر وہ اس کو لے کے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : تم اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اسی حالت میں جس طرح تم ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے دریافت کیا : کیا تم نے رگوں کو کاٹ دیا تھا ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر وہ چیز جو رگوں کو کاٹ دے بشرطیکہ وہ ہڈی (سن) یا ناخن (ظفر) نہ ہو۔ ( تو وہ جائز ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 6040
وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ : خَرَجَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ فِي مَشْهَدٍ لَهُمْ فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ أَصْلَعَ أَعْسَرَ أَيْسَرَ قَدْ أَشْرَفَ فَوْقَ النَّاسِ بِذِرَاعٍ ، عَلَيْهِ إِزَارٌ غَلِيظٌ وَبُرْدٌ مَطَرٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَاجِرُوا ، وَلَا تَهْجُرُوا ، وَلَا يَخْذِفَنَّ أَحَدُكُمُ الْأَرْنَبَ بِعَصَاةٍ ، أَوْ بِحَجَرٍ ، ثُمَّ يَأْكُلْهَا ، وَلْيُذَكِّ عَلَيْكُمُ الْأَسَلُ الرِّمَاحَ وَالنَّبْلَ . فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
زربن حبیش بیان کرتے ہیں : اہل مدینہ ایک جنگ کے سلسلے میں نکلے میں نے ایک شخص کو دیکھا جو آگے سے گنجا تھا اور لمبا تڑنگا تھا ، وہ لوگوں سے ایک بالشت لمبا محسوس ہوتا تھا ، اس نے تہبند باندھا ہوا تھا اور چادر لی ہوئی تھی وہ یہ کہہ رہا تھا : اے لوگو ! روانہ ہو جاؤ اور تم کوئی غلط بات نہ کہنا اور کوئی شخص لاٹھی یا پتھر کے ذریعے خرگوش کو نہ مارے کہ پھر اس کو کھا لے بلکہ چھوٹے یا بڑے نیزے کے ذریعے ذبح کرنا ، میں نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ سیدنا عمر بن خطاب ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔