کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جو مدینہ منورہ میں انتقال کرتا ہے
عَنْ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ ، فَإِنَّهُ لَا يَمُوتُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَرَوَى عَنْهُ جَمَاعَةٌ ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهِ أَحَدٌ بِسُوءٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ سبعیہ اسلمیہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” تم میں سے جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ وہ مدینہ میں انتقال کرے تو اسے ( مدینہ میں ) مرنا چاہیے کیونکہ جو بھی شخص یہاں مرے گا تو قیامت کے دن میں اس کا شفاعت کرنے والا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کا گواہ ہوؤں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن عکرمہ کا معاملہ مختلف ہے ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ایک جماعت نے اس سے روایت نقل کی ہے کسی نے اس کے بارے میں برائی کے حوالے سے کلام نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5820
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (294/24)»
وَعَنِ امْرَأَةٍ يَتِيمَةٍ كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ ثَقِيفٍ أَنَّهَا حَدَّثَتْ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ ; فَإِنَّهُ مَنْ مَاتَ بِهَا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
ایک یتیم خاتون ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں رہتی تھیں اور وہ ثقیف قبیلے تعلق رکھتی تھی ۔ انہوں نے سیدہ صفیہ بنت ابوعبید رضی اللہ عنہما کو یہ بات بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے جو شخص مدینہ منورہ میں مر سکتا ہو اسے ( مدینہ میں ) مرنا چاہیے کیونکہ جو شخص یہاں مرے گا قیامت کے دن میں اس کا گواہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کا شفاعت کرنے والا ہوؤں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5821
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (331/24332)»