کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اُس کا بیان
حدیث نمبر: 5822
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَمِيرًا مِنْ أُمَرَاءِ الْفِتْنَةِ قَدِمَ الْمَدِينَةَ ، وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُ جَابِرٍ فَقِيلَ لِجَابِرٍ : لَوْ تَنَحَّيْتَ عَنْهُ ، فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ فَنُكِبَ فَقَالَ : تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ ابْنَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا : يَا أَبَتِ ، وَكَيْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ مَاتَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَقَدْ أَخَافَ مَا بَيْنَ جَنْبَيَّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : فتنے کے زمانے میں ایک امیر مدینہ آیا اس وقت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی بینائی رخصت ہو چکی تھی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا اگر آپ ذرا ہٹ کے چلیں تو یہ مناسب ہو گا وہ اپنے دونوں صاحبزادوں کے درمیان چلتے ہوئے جا رہے تھے انہیں پیچھے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : وہ شخص برباد ہو جائے جس نے اللہ کے رسول کو خوف زدہ کیا ان دو صاحبزادوں یا دونوں صاحبزادوں میں سے ایک نے کہا: ابا جان اس شخص نے اللہ کے رسول کو کیسے خوف زدہ کیا جبکہ ان کا وصال ہو چکا ہے ؟ تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” جو شخص اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے گا اس نے میرے دونوں پہلوؤں کے درمیان موجود چیز ( یعنی مجھے ) خوف زدہ کیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5822
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (354/3 مطولا و 393/3 مختصرا)»
حدیث نمبر: 5823
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ مَنْ ظَلَمَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ ، وَأَخَافَهُمْ فَأَخِفْهُ ، وَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے اللہ ! جو شخص اہل مدینہ پر ظلم کرے اور انہیں خوف زدہ کرے تو اسے خوف کا شکار کر ! ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5823
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5824
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَخَافَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ [ لَعَنَهُ ] وَغَضِبَ عَلَيْهِ ، وَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُ صَرْفًا ، وَلَا عَدْلًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
خالد بن خلاد بن سائب نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے خوف کا شکار کرے گا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس پر غضبناک ہو گا اور اس شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5824
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( 6637)»
حدیث نمبر: 5825
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اللَّهُمَّ مَنْ ظَلَمَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ وَأَخَافَهُمْ فَأَخِفْهُ ، وَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا تَقْبَلْ مِنْهُ صَرْفًا ، وَلَا عَدْلًا " ، قُلْتُ : عَزَاهُ الشَّيْخُ فِي الْأَطْرَافِ إِلَى النَّسَائِيِّ ، وَلَمْ أَرَهُ فِي الْمُجْتَبَى فَلَعَلَّهُ فِي الْكَبِيرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے اللہ ! جو شخص اہل مدینہ پر ظلم کرے اور انہیں خوف کا شکار کرے تو اسے خوف کا شکار کر ! ایسے شخص پر اللہ تعالی اور فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی اور اس شخص کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں ہو گی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : شیخ نے کتاب ” اطراف “ میں اس روایت کی نسبت امام نسائی رحمہ اللہ کی طرف ہے میں نے سنن نسائی میں
یہ روایت نہیں دیکھی یہ ہو سکتا ہے وہ سنن نسائی کبری میں موجود ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5825
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( 6636)»
حدیث نمبر: 5826
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ آذَى أَهْلَ الْمَدِينَةِ آذَاهُ اللَّهُ ، وَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ; لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا ، وَلَا عَدْلًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اہل مدینہ کو اذیت پہنچائے گا اللہ تعالٰی اسے اذیت کا شکار کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہو گی اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5826
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5827
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اكْفِهِمْ مَنْ دَهَمَهُمْ بِبَأْسٍ - يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ - وَلَا يُرِيدُهَا أَحَدٌ بِسُوءٍ إِلَّا أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " ، قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ آخِرِهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! تو اس شخص کے حوالے سے ان لوگوں کے لئے کفایت کر لے جو انہیں مشکل کا شکار کرتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اہل مدینہ تھے ( آپ نے فرمایا : ) جو بھی شخص اس ( یعنی مدینہ منورہ ) کے بارے میں برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالٰی اسے ( جہنم میں ) یوں گھول دے گا جس طرح نمک پانی میں حل ہو جاتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا آخری حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5827
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔