عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْكَعْبَةِ فَقَالَ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا أَطْيَبَكِ ، وَأَطْيَبَ رِيحَكِ ، وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ ، وَالْمُؤْمِنُ أَعْظَمُ حُرْمَةً مِنْكِ ، إِنَّ اللَّهَ جَعَلَكِ حَرَامًا ، وَحَرَّمَ مِنَ الْمُؤْمِنِ مَالَهُ ، وَدَمَهُ ، وَعِرْضَهُ ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ ظَنًّا سَيِّئًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو کتنا پاکیزہ ہے تیری خوشبو کتنی پاکیزہ ہے تیری حرمت کتنی عظیم ہے لیکن مومن کی حرمت تجھ سے زیادہ ہے بے شک اللہ تعالی نے تجھے حرمت والا بنایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مومن اور اس کے مال اور اس کی عزت کو حرمت والا بنایا ہے اور اس بات کو بھی کہ ہم اس کے بارے میں برا گمان رکھیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اسے ثقہ قرار دیا گیا ہے ۔
وَعَنْ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَتَتِ امْرَأَةٌ الْبَيْتَ تَعَوَّذُ بِهِ مِنْ زَوْجِهَا فَمَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا فَيَبِسَتْ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ ، وَإِنَّهُ لَأَشَلُّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حویطلب بن عبدالعزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم زمانہ جاہلیت میں بیت اللہ کے باہر بیٹھے ہوئے تھے ایک عورت بیت اللہ کے پاس آئی وہ اپنے شوہر سے بچنا چاہ رہی تھی اس کے شوہر نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تو اس کا ہاتھ خشک ہو گیا راوی کہتے ہیں : میں نے زمانہ اسلام میں بھی اس شخص کو دیکھا کہ اس کا ہاتھ شل تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔