کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خانہ کعبہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 5724
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ إِلَى الْأَرْضِ بَكَى عَلَى الْجَنَّةِ مِائَةَ خَرِيفٍ ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى سِعَةِ الْأَرْضِ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ أَمَا لِأَرْضِكَ عَامِرٌ يَسْكُنُهَا غَيْرِي ؟ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ بَلَى فَإِنَّهَا سَتُرْفَعُ بُيُوتٌ يُذَكَرُ فِيهَا اسْمِي وَسَأُبَوِّئُكَ مِنْهَا بَيْتًا أَخْتَصُّهُ بِكَرَامَتِي ، وَأُحْلِلْهُ عَظَمَتِي وَأُسَمِّيهِ بَيْتِي ، وَأُنْطِقُهُ بِعَظَمَتِي ، وَلَسْتُ أَسْكُنُهُ وَلَيْسَ يَنْبَغِي لِي أَنْ أَسْكُنَ الْبُيُوتَ وَلَا يَسَعُنِي ، وَلَكِنْ عَلَى عَرْشِي وَكُرْسِيِّ عَظَمَتِي وَلَيْسَ يَنْبَغِي لِشَيْءٍ مِمَّا خَلَقْتُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ قَبْضَتِي وَلَا مِنْ قُدْرَتِي وَتُعَمِّرُهُ يَا آدَمُ مَا كُنْتَ حَيًّا ثُمَّ تُعَمِّرُهُ الْقُرُونُ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً بَعْدَ أُمَّةٍ قَرْنًا بَعْدَ قَرْنٍ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى وَلَدٍ مِنْ أَوْلَادِكَ يُقَالُ لَهُ : إِبْرَاهِيمُ أَجْعَلُهُ مِنْ عُمَّارِهِ وَسُكَّانِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ وَكِلَاهُمَا فِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو زمین کی طرف نازل کیا ، تو وہ ایک سو سال تک جنت کے حوالے سے روتے رہے پھر انہوں نے زمین کی وسعت کی طرف دیکھا اور بولے : اے میرے پروردگار کیا تیری زمین کو آباد کرنے والا میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہے ، تو اللہ تعالی نے ان کی طرف وحی کی جی ہاں ! عنقریب گھر بنائے جائیں گے جن میں میرے نام کا ذکر ہو گا اور میں ان میں سے ایک گھر میں تمہیں ٹھہراؤں گا جسے میں نے اپنی عزت افزائی کے حوالے سے مخصوص کیا ہے میں نے اپنی عظمت اسے عطا کی ہے اور اسے اپنے گھر کا نام دیا ہے اور میں نے اسے اپنی عظمت سے نوازا ہے ، میں اس میں نہیں رہتا ہوں اور یہ چیز میرے لائق بھی نہیں ہے کہ میں گھروں میں رہوں اور نہ ہی یہ میری شان کے لائق ہے میں تو اپنے عرش اور اپنی کرسی پر ہوں میں نے جو چیز پیدا کی ہے اس میں سے کسی چیز کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ میرے قبضے سے نکل جائے یا میری قدرت سے نکل جائے اے آدم جب تک تم زندہ رہو گے تم اسے آباد کرو گے پھر تمہارے بعد ایک امت کے بعد دوسری امت مختلف زمانوں تک اسے آباد کرتی رہے گی یہاں تک کہ تمہاری اولاد میں سے ایک شخص تک بات پہنچے گی جس کا نام ابراہیم ہو گا میں اسے اس کو آباد کرنے والا اور اس کا رہائشی بناؤں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی اور ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ان دونوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اور ان دونوں کی توثیق بھی کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5724
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 5725
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : لَمَّا أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ مِنَ الْجَنَّةِ قَالَ : إِنِّي مُهْبِطٌ مَعَكَ بَيْتًا - أَوْ مَنْزِلًا - يُطَافُ حَوْلَهُ كَمَا يُطَافُ حَوْلَ عَرْشِي وَيُصَلَّى عِنْدَهُ كَمَا يُصَلَّى حَوْلَ عَرْشِي ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ الطُّوفَانِ رُفِعَ وَكَانَ الْأَنْبِيَاءُ يَحُجُّونَهُ ، وَلَا يَعْلَمُونَ مَكَانَهُ ، فَبَوَّأَهُ لِإِبْرَاهِيمَ ، فَبَنَاهُ مِنْ خَمْسَةِ أَجْبُلٍ : حِرَاءَ وَثُبَيْرٍ وَلُبْنَانَ وَجَبَلِ الطُّورِ وَجَبَلِ الْخَيْرِ ; فَتَمَتَّعُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالٰی نے سیدنا آدم علیہ السلام کو جنت سے نازل کیا ، تو فرمایا : میں تمہارے ساتھ ایک گھر ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک ٹھکانہ نازل کر رہا ہوں جس کے ارد گرد طواف کیا جائے گا جس طرح میرے عرش کے اردگرد طواف کیا جاتا ہے اور اس کے پاس نماز ادا کی جائے گی جس طرح میرے عرش کے اردگرد نماز ادا کی جاتی ہے پھر جب طوفان کا زمانہ آیا تو اسے اٹھا لیا گیا انبیاء کرام اس کا حج کرتے رہے لیکن انہیں اس کی جگہ کا پتہ نہیں تھا پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اسے تعمیر کیا انہوں نے پانچ پہاڑوں سے ( پتھر حاصل کر کے ) اسے تعمیر کیا ( وہ پہاڑ ) یہ ہیں حراء ، ثبیر ، لبنان ، جبل طور اور جبل خیر ( سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا ) تم سے جہاں تک ہو سکے اس گھر سے نفع حاصل کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5725
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحیح
حدیث نمبر: 5726
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ[و] قَالَ : لَمَّا أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ بِأَرْضِ الْهِنْدِ وَمَعَهُ غَرْسٌ مِنْ غَرْسِ الْجَنَّةِ فَغَرَسَ بِهَا ، وَكَانَ رَأْسُهُ بِالسَّمَاءِ وَرِجْلَاهُ بِالْأَرْضِ ، وَكَانَ يَسْمَعُ كَلَامَ الْمَلَائِكَةِ ، فَكَانَ ذَلِكَ يُهَوِّنُ عَلَيْهِ وَحْدَتَهُ ، فَغَمَرَ غَمْرَةَ فَتَطَأْطَأَ إِلَى سَبْعِينَ ذِرَاعًا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنِّي مُنْزِلٌ عَلَيْكَ بَيْتًا يُطَافُ حَوْلَهُ كَمَا تَطُوفُ حَوْلَ عَرْشِي الْمَلَائِكَةُ ، وَيُصَلَّى عِنْدَهُ كَمَا تُصَلِّي الْمَلَائِكَةُ حَوْلَ عَرْشِي ، فَأَقْبَلَ نَحْوَ الْبَيْتِ فَكَانَ مَوْضِعَ كُلِّ قَدَمٍ قَرْيَةٌ ، وَمَا بَيْنَ قَدَمَيْهِ مَفَازَةٌ ، حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ ، فَدَخَلَ مِنْ بَابِ الصَّفَا ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى عِنْدَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَمَاتَ بِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو ہند کی سرزمین پر اتارا تو ان کے ہمراہ جنت کے پودے بھی تھے ۔ انہوں نے وہاں وہ پودے لگائے ان کا سر آسمان میں تھا اور پاؤں زمین میں تھے وہ فرشتوں کا کلام سنا کرتے تھے اکیلے ہونا ان کو گراں گزرتا تھا ، انہیں بے چینی محسوس ہوتی ، ان کا قد ستر گز تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ چیز نازل کی کہ میں تم پر ایک گھر کو نازل کروں گا جس کے ارد گرد طواف کیا جائے گا جس طرح فرشتے میرے عرش کے اردگرد طواف کرتے ہیں اور اس کے پاس نماز ادا کی جائے گی جس طرح فرشتے میرے عرش کے ارد گرد نماز ادا کرتے ہیں تو سیدنا آدم علیہ السلام بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے ان کا ایک قدم اتنی دور پڑتا تھا جتنی بستی ہوتی ہے اور ان کے دو قدموں کے درمیان ویرانہ عبور ہو جاتا تھا یہاں تک کہ وہ مکہ آ گئے وہ صفا کے دروازے کی طرف سے داخل ہوئے ۔ انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اس کے پاس نماز ادا کی پھر وہ وہاں سے شام تشریف لے گئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5726
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 5727
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : وُضِعَ الْبَيْتُ قَبْلَ الْأَرْضِ بِأَلْفَيْ سَنَةٍ فَكَانَ الْبَيْتُ رُبْدَةً بَيْضَاءَ حَتَّى كَانَ الْعَرْشُ عَلَى الْمَاءِ ، وَكَانَتِ الْأَرْضُ تَحْتَهُ كَأَنَّهَا حَسْفَةٌ فَدُحِيَتْ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بیت اللہ کو زمین سے دو ہزار سال پہلے رکھا گیا تھا بیت اللہ سفید جگہ پر تھا ، یہاں تک کہ عرش پانی پر تھا اور زمین اس کے نیچے یوں تھی جیسے وہ باریک سا بادل ہو ، پھر اسی ( بیت اللہ ) سے اس ( زمین ) کو پھیلایا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5727
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5728
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : وُضِعَ الْحَرَمُ قَبْلَ الْأَرْضِ بِأَلْفَيْ عَامٍ وَدُحِيَتِ الْأَرْضُ مِنْ تَحْتِهِ . ¤ قَالَ مُجَاهِدٌ : قَوْلُهُ : فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ قَالَ : لَوْ قَالَ : أَفْئِدَةَ النَّاسِ لَازْدَحَمَتْ عَلَيْهِ فَارِسُ وَالرُّومُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حرم کو زمین سے دو ہزار سال پہلے رکھا گیا اور اس کے نیچے سے زمین کو پھیلایا گیا ۔ مجاہد بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” تو کچھ لوگوں کے دلوں کو یوں بنا دے کہ وہ اس کی طرف آئیں “ ۔ مجاہد فرماتے ہیں : اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہوتا : ” لوگوں کے دلوں کو “ تو پھر اہل فارس اور رومیوں نے بھی اس کے اردگرد ہجوم کر لینا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5728
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5729
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : كَانَتِ الْكَعْبَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَبْنِيَّةً بِالرَّضْمِ وَكَانَتْ قَدْرَ مَا يَفْتَحُهُمَا الْعَنَاقُ ، وَكَانَتْ غَيْرَ مَسْقُوفَةٍ ، وَإِنَّمَا تُوضَعُ ثِيَابُهَا عَلَيْهَا ثُمَّ تُسْدَلُ سَدْلًا عَلَيْهَا ، وَكَانَ الرُّكْنُ الْأَسْوَدُ مَوْضُوعًا عَلَى سُورِهَا تَأَدُّبًا ، وَكَانَتْ ذَاتَ رُكْنَيْنِ كَهَيْأَةِ الْحَلْقَةِ فَأَقْبَلَتْ سَفِينَةٌ مِنْ أَرْضِ الرُّومِ حَتَّى إِذَا كَانُوا قَرِيبًا مِنْ جَدَّةَ تَكَسَّرَتِ السَّفِينَةُ فَخَرَجَتْ قُرَيْشٌ لِيَأْخُذُوا خَشَبَهَا فَوَجَدُوا رُومِيًّا عِنْدَهَا فَأَخَذُ[وا] الْخَشَبَ أَعْطَاهُمْ إِيَّاهُ ، وَكَانَتِ السَّفِينَةُ تُرِيدُ الْحَبَشَةَ ، وَكَانَ الرُّومِيُّ الَّذِي فِي السَّفِينَةِ نَجَّارًا فَقَدِمُوا ، وَقَدِمُوا بِالرُّومِيِّ فَقَالَتْ قُرَيْشٌ : نَبْنِي بِهَذَا الْخَشَبِ الَّذِي فِي السَّفِينَةِ بَيْتَ رَبِّنَا . فَلَمَّا أَرَادُوا هَدْمَهُ إِذَا هُمْ بِحَيَّةٍ عَلَى سُورِ الْبَيْتِ مِثْلِ قِطْعَةِ الْحَائِرِ سَوْدَاءِ الظَّهْرِ بَيْضَاءِ الْبَطْنِ فَجَعَلَتْ كُلَّمَا دَنَا أَحَدٌ إِلَى الْبَيْتِ لِيَهْدِمَهُ أَوْ لِيَأْخُذَ مِنْ حِجَارَتِهِ سَعَتْ إِلَيْهِ فَاتِحَةً فَاهَا . فَاجْتَمَعَتْ قُرَيْشٌ عِنْدَ الْمَقَامِ فَعَجُّوا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالُوا : رَبَّنَا لَمْ نُرَعْ أَرَدْنَا تَشْرِيفَ بَيْتِكَ ، وَتَزْيِينَهُ فَإِنْ كُنْتَ تَرْضَى بِذَلِكَ فَافْعَلْ مَا بَدَا لَكَ ؟ فَسَمِعُوا خُوَارًا فِي السَّمَاءِ فَإِذَا هُمْ بِطَائِرٍ أَسْوَدِ الظَّهْرِ أَبْيَضِ الْبَطْنِ وَالرِّجْلَيْنِ أَعْظَمَ مِنَ الْبَشَرِ فَغَرَزَ مَخَالِيبَهُ فِي رَأْسِ الْحَيَّةِ حَتَّى انْطَلَقَ بِهَا يَجُرُّ ذَنَبَهَا أَعْظَمَ مِنْ كَذَا وَكَذَا سَاقِطًا ، فَانْطَلَقَ نَحْوَ أَجْنَادٍ فَهَدَمَتْهَا قُرَيْشٌ ، وَجَعَلُوا يَبْنُونَهَا بِحِجَارَةِ الْوَادِي تَحْمِلُهَا قُرَيْشٌ عَلَى رِقَابِهَا فَرَفَعُوهَا فِي السَّمَاءِ عِشْرِينَ ذِرَاعًا فَبَيْنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْمِلُ حِجَارَةً مِنْ أَجْنَادَ ، وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ فَضَاقَتْ عَلَيْهِ النَّمِرَةُ فَذَهَبَ يَضَعُ النَّمِرَةَ عَلَى عَاتِقِهِ فَتُرَى عَوْرَتُهُ مِنْ صِغَرِ النَّمِرَةِ فَنُودِيَ : يَا مُحَمَّدُ خَمِّرْ عَوْرَتَكَ ، فَلَمْ يُرَ عُرْيَانًا بَعْدَ ذَلِكَ ، وَكَانَ يَرَى بَيْنَ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ ، وَبَيْنَ مَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ خَمْسَ سِنِينَ ، وَبَيْنَ مُخْرَجِهِ ، وَبُنْيَانِهَا خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِطُولِهِ ، وَرَوَى أَحْمَدُ طَرَفًا مِنْهُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ چٹانوں پر بنا ہوا تھا ، اور اتنا اونچا تھا ، کہ بکری کا بچہ اس پر چڑھ سکتا ہے ، اس کی چھت نہیں تھی اس پر کپڑے ڈالے جاتے تھے اور پھر لٹکا دیے جاتے تھے اس کے کونے پر حجر اسود رکھا ہوا تھا اور وہ حلقے کی طرح دو کونوں والا تھا روم کی سرزمین سے ایک کشتی آ رہی تھی جب وہ جدہ کے قریب پہنچی تو وہ کشتی ٹوٹ گئی قریش نکلے تاکہ اس کی لکڑی کو حاصل کر لیں انہیں اس کے پاس ایک رومی شخص ملا قریش نے وہ لکڑی حاصل کی وہ لکڑی اس شخص کو دی وہ کشتی حبشہ کی طرف جا رہی تھی اور کشتی میں موجود رومی شخص بڑھئی تھا جب قریش واپس آئے تو وہ اپنے ساتھ رومی کو بھی لے آئے قریش نے کہا: ہم اس لکڑی کے ذریعے جو اس کشتی میں تھی اس کے ذریعے اپنے پروردگار کا گھر بنائیں گے جب انہوں نے خانہ کعب کو منہدم کرنے کا ارادہ کیا ، تو خانہ کعبہ کی دیوار پر کمزور چیز کی مانند ایک سانپ موجود تھا جس کی پشت سیاہ تھی اور پیٹ سفید تھا ، جب بھی کوئی شخص منہدم کرنے کے لئے بیت اللہ کے قریب ہونا چاہتا یا اس کے پتھر کو اتارنا چاہتا تو وہ ساپ منہ کھول کر اس کی طرف بڑھ جاتا تھا قریش مقام ابراہیم کے پاس اکٹھے ہوئے ۔ انہوں نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں گریہ وزاری کی اور عرض کی اے ہمارے پروردگار ہمارا مقصد صرف تیرے گھر کی عزت کرنا اور اس کی آرائش و زیبائش کرنا ہے اگر تو اس سے راضی ہے ، تو پھر جو تجھے اچھا لگے وہ کر لے پھر انہوں نے آسمان میں ایک آواز سنی تو وہاں ایک سیاہ رنگ کی پشت والا اور سفید پیٹ والا پرندہ موجود تھا جس کے دو پاؤں تھے وہ انسان سے بڑا تھا اس نے اپنے پنجے سانپ کے سر میں گاڑے اور اس کو لے کے چلا گیا اس سانپ کی دم فلاں فلاں چیز سے زیادہ بڑی تھی وہ اجناد کی طرف چلا گیا قریش نے خانہ کعبہ کو منہدم کر دیا اور پھر وادی کے پتھروں کے ذریعے اس کی تعمیر کرنا شروع کی قریش اپنی گردنوں پر وہ پتھر اٹھا کے لاتے تھے ۔ انہوں نے اسے بیس گز بلند کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اجناد سے پتھر اٹھا کے لایا کرتے تھے آپ نے چادر اوڑھی ہوئی تھی وہ چادر چھوٹی تھی آپ نے وہ چادر کندھے پر رکھنا چاہی تو چادر چھوٹی ہونے کی وجہ سے آپ کی شرمگاہ ظاہر ہو گئی تو پکار کر کہا: گیا : اے محمد ! اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ لو اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی برہنہ نہیں دیکھا گیا خانہ کعبہ کی اس تعمیر اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے کے درمیان پانچ سال کا فرق ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے نکلنے اور اس تعمیر کے درمیان پندرہ سال کا فرق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے امام أحمد نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5729
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5730
وَفِي رِوَايَةٍ : رُومِيٌّ يُقَالُ لَهُ : بُلْعُومُ ، وَقَالَ : فَنُودِيَ : يَا مُحَمَّدُ اسْتُرْ عَوْرَتَكَ ، وَذَلِكَ أَوَّلُ مَا نُودِيَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ : فَاسْتَعْرَضَتْ قُرَيْشٌ بَعْضَ الْخَشَبِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اس روی شخص کا نام بلعوم تھا اور اس روایت میں یہ الفاظ ہیں : پکار کر کہا: گیا : اے محمد ! اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ لو یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی مرتبہ ندا کی گئی تھی باقی اللہ بہتر جانتا ہے ابوطفیل بیان کرتے ہیں : قریش نے کچھ لکڑی کو استعمال کیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5730
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 5731
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : كُنَّا نَنْقُلُ الْحِجَارَةَ إِلَى الْبَيْتِ حِينَ كَانَتْ قُرَيْشٌ تَبْنِي الْبَيْتَ فَانْفَرَدَتْ قُرَيْشٌ رَجُلَانِ رَجُلَانِ يَنْقُلَانِ الْحِجَارَةَ ، وَكَانَتِ النِّسَاءُ تَنْقُلُ النَّسِيلَ فَكُنْتُ أَنَا ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَنْقُلُ الْحِجَارَةَ عَلَى رِقَابِنَا ، وَأَرْدِيَتُنَا تَحْتَ الْحِجَارَةِ فَإِذَا غَشِينَا النَّاسَ ائْتَزَرْنَا فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي ، وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَامِي لَيْسَ عَلَيْهِ إِزَارٌ خَرَّ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْبَطَحَ ، فَأَلْقَيْتُ حَجَرِي ، وَجِئْتُ أَسْعَى فَإِذَا هُوَ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُ قُلْتُ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَقَامَ فَأَخَذَ إِزَارَهُ ، وَقَالَ : " نُهِيتُ أَنْ أَمْشِيَ عُرْيَانًا " ، فَكُنْتُ أَكْتُمُهَا النَّاسَ مَخَافَةَ أَنْ يَقُولُوا : مَجْنُونٌ ، حَتَّى أَظْهَرَ اللَّهُ نُبُوَّتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ ، وَالطَّيَالِسِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب قریش خانہ کعبہ تعمیر کر رہے تھے تو ہم بیت اللہ تک پتھر منتقل کر رہے تھے قریش کے دو دو آدمی پتھر منتقل کرتے تھے اور خواتین ( گارا وغیرہ بنانے کے لیے ) پانی منتقل کرتی تھیں میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم اپنی گردن پر رکھ کر پتھر منتقل کر رہے تھے ہماری چادریں پتھروں کے نیچے ہوتی تھیں جب لوگ قریب آ جاتے تھے تو ہم انہیں تہبند کے طور پر باندھ لیتے تھے ایک مرتبہ میں جا رہا تھا سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے آگے تھے ان کے جسم پر تہبند نہیں تھا اسی دوران سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم گر گئے میں نے پتھر ایک طرف رکھا اور دوڑتا ہوا آیا تو وہ آسمان کی طرف اوپر کی طرف دیکھ رہے تھے میں نے کہا: آپ کو کیا ہوا ہے ؟ تو وہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اپنا تہبند لیا اور بولے : مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ میں برہنہ ہو کر چلوں ( سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) میں لوگوں سے یہ بات چھپا کے رکھتا تھا اس اندیشے کے تحت کہ وہ یہ کہیں گے : یہ مجنوں ہے یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے آپ کی نبوت کو ظاہر کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ ، ثوری طیاسی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5731
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1158 و 1159)»
حدیث نمبر: 5732
وَعَنْ مَرْثَدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَنَّهُ حَضَرَ ذَلِكَ قَالَ : أَدْخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ عَلَى عَائِشَةَ نَاسًا مِنْ خِيَارِ قُرَيْشٍ ، وَكُبَرَائِهِمْ فَأَخْبَرَتْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالشِّرْكِ لَبَنَيْتُ الْبَيْتَ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْمَاعِيلَ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - هَلْ تَدْرُونَ لِمَ قَصَّرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْمَاعِيلَ ؟ " ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " قَصَّرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ " ، قَالَ : " وَكَانَتِ الْكَعْبَةُ قَدْ وَهَتْ مِنْ حَرِيقِ أَهْلِ الشَّامِ فَهَدَمَهَا ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ فَكَشَفَ عَنْ رُبْضٍ فِي الْحِجْرِ أَخَذَ بَعْضُهُ بِبَعْضٍ فَتَرَكَهُ مَكْشُوفًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ يَشْهَدُ عَلَيْهِ " ، قَالَ : " فَرَأَيْتُ رُبْضَةَ ذَلِكَ كَحِلْفِ الْإِبِلِ خَمْسَ حِجَارَاتٍ : وَجْهٌ حَجَرٌ ، وَوَجْهٌ حَجَرٌ ، وَوَجْهٌ حَجَرٌ ، وَوَجْهٌ حَجَرَانِ " ، قَالَ : " فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يُدْخِلُ الْعَتَلَةَ فَيُهْرِقُهَا مِنْ نَاحِيَةِ الرُّكْنِ فَيَهْتَزُّ الرُّكْنُ الْآخَرُ " ، قَالَ : " فَبَنَاهُ عَلَى ذَلِكَ الرُّبُضِ ، وَوَضَعَ فِيهِ بَابَيْنِ لَاصِقَيْنِ بِالْأَرْضِ شَرْقِيًّا ، وَغَرْبِيًّا " . ¤ فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهُ الْحَجَّاجُ مِنْ نَحْوِ الْحِجْرِ ثُمَّ أَعَادَهُ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ : وَدِدْتُ أَنَّكَ تَرَكْتَ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، وَمَا عَمِلَ . ¤ قَالَ مَرْثَدٌ : وَسَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : لَوْ وَلِيتُ مِنْهُ مَا وَلِيَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَدْخَلْتُ الْحِجْرَ كُلَّهُ فِي الْبَيْتِ ، فَلِمَ يُطَفْ بِهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ مِنَ الْبَيْتِ ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَمَرْثَدٌ هَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مرثد بن شرحبیل جو اس موقع پر موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے قریش کے کچھ معززین اور اکابرین کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کو بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر تمہاری قوم زمانہ شرک کے قریب نہ ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کرتا کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ان لوگوں نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی بنیادوں میں کمی کیوں کی تھی “ ۔ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کے پاس خرچ ختم ہو گیا تھا راوی بیان کرتے ہیں : اہل شام کے جلانے کی وجہ سے خانہ کعبہ کی عمارت کمزور ہو گئی تھی تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اسے منہدم کروا دیا میں ان دنوں مکہ میں موجود تھا انہوں نے حطیم میں بنیادوں سے ہٹایا تو اس کا حصہ ایک دوسرے کے ساتھ ملا ہوا تھا انہوں نے تیس دن تک اس جگہ کو کھلا رکھا تاکہ اس پر گواہ بنا لیں راوی کہتے ہیں : میں نے اس کو دیکھا کہ وہ اونٹ کی کوہان کی مانند پانچ پتھر تھے ایک طرح کا ایک پتھر تھا ایک طرح کا ایک پتھر تھا ایک طرح کا ایک پتھر تھا اور ایک طرح کے دو پتھر تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے پتھر اکھاڑنے والی لکڑی کو داخل کیا اور رکن کی طرف سے حرکت دی ، تو دوسری طرف کا رکن ہل گیا ، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان بنیادوں پر اسے تعمیر کیا اور اس کے دو دروازے بنائے جو زمین سے ملے ہوئے تھے ایک مشرق کی سمت میں تھا اور ایک مغرب کی سمت میں تھا ۔ جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کر دیا گیا تو حجاج نے حطیم والے حصے کو مہندم کروا دیا اور اسے پہلے کی طرح دوبارہ کر دیا عبدالملک نے اسے خط میں لکھا میری یہ خواہش تھی کہ تم ابن زبیر اور جو کچھ اس نے کیا ہے اسے ویسے ہی رہنے دیتے ۔ مرثد بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اگر میں اس چیز کا نگران بنتا جس کے نگران ابن زبیر بنے تھے تو میں پوری حطیم کو بیت اللہ میں داخل کر دیتا کیونکہ اگر یہ بیت اللہ کا حصہ نہ ہوتی تو اس کا طواف نہ کیا جاتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے مرثد نامی اس راوی کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح ذکر نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5732
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 5733
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : لَمَّا حُرِّقَتِ الْكَعْبَةُ تَثَلَّمَتْ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : لَوْ مَسْكَنُ أَحَدِكُمْ كَانَ هَكَذَا مَا رَضِيَ حَتَّى يُغَيِّرَهُ ، وَقَدْ ثَبَتَ مِنْ رَأْيِي نَقْضُهَا وَبِنَاؤُهَا ، وَشَاوَرَ النَّاسَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : دَعْهَا عَلَى مَا تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّمَا بِكَ الْبُخْلُ فِي النَّفَقَةِ فَأَنَا أُنْفِقُ عَلَيْهَا مِنْ مَالِي ، قَالَ : ثُمَّ ثَبَتَ فَنَقَضَهَا ، قَالَ : وَهَرَبَ النَّاسُ عَنْ مَكَّةَ ، وَارْتَقَى فِي الْكَعْبَةِ ، وَمَعَهُ مَوْلًى لَهُ حَبَشِيٌّ أَسْوَدُ فَجَعَلَ يَهْدِمُ ، وَأَعَانَهُمَا النَّاسُ ، فَمَا تَرَجَّلَتِ الشَّمْسُ حَتَّى أَلْزَقُوهَا بِالْأَرْضِ ، ثُمَّ سَأَلَ مِنْ أَيْنَ حُمِلَتْ حِجَارَتُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ فَوُصِفَ لَهُ فَأَمَرَ بِحَمْلِهَا مِنْ ذَلِكَ الْجَبَلِ حَتَّى حَمَلَ مِنْ ذَلِكَ مَا يُرِيدُ ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ عَهْدُهُمْ بِالْجَاهِلِيَّةِ حَدِيثٌ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ ، وَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ فَإِنَّ قَوْمَكِ إِنَّمَا رَفَعُوهَا لِأَنْ لَا يَدْخُلَهَا إِلَّا مَنْ شَاءُوا ، وَ [ لَـ ]ـجَعَلْتُ لَهَا بَابًا غَرْبِيًّا " - وَذَكَرَ الْآخَرَ بِمَا لَا أَحْفَظُهُ : يُدْخَلُ مِنْ هَذَا ، وَيُخْرَجُ مِنْ هَذَا - " وَلَأَلْحَقْتُهَا بِأَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ فَإِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا فِي شَأْنِهَا ، وَتَرَكُوا مِنْهَا فِي الْحِجْرِ " ، قَالَ : ثُمَّ حَفَرَ الْأَسَاسَ حَتَّى ، وَقَعَ عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ : فَكَانَ يُدْخِلُ الْعَتَلَةَ مِنْ جَانِبٍ مِنْ جَوَانِبِهَا فَتَهْتَزُّ جَوَانِبُهَا جَمِيعًا ثُمَّ بَنَاهَا عَلَى مَا زَادَ مِنْهَا فِي الْحِجْرِ فَرَفَعَهَا ، وَكَانَ طُولُهَا يَوْمَ هَدْمِهَا ثَمَانِيَةَ عَشَرَ ذِرَاعًا فَلَمَّا زَادَ فِيهَا اسْتَقْصَرَتْ فَقَالَ ابْنٌ لَهُ : زِدْ فِيهَا تِسْعَةَ أَذْرُعٍ ، وَزَادَ فِيهَا ثَلَاثَ دَعَائِمَ ، فَلَمَّا وَلِيَ عَبْدُ الْمَلِكِ قَتْلَ ابْنِ الزُّبَيْرِ كَتَبَ إِلَيْهِ الْحَجَّاجُ : أَنْ سُدَّ بَابَهَا الَّذِي زَادَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، وَيُكْسِفُهَا عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهَا ، وَتُطْرَحُ عَنْهَا الزِّيَادَةُ الَّتِي زَادَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنَ الْحَجَرِ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ، وَبِنَاؤُهُ الَّذِي فِيهِ الْيَوْمَ بِنَاءُ ابْنِ الزُّبَيْرِ إِلَّا مَا غَيَّرَ الْحَجَّاجُ مِنْ نَاحِيَةِ الْحِجْرِ ، وَلُبْسَهُ الَّذِي لَبِسَهُ الْحَجَّاجُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : جب خانہ کعبہ کو جلا دیا گیا تو وہ کمزور ہو گیا ( یعنی اس کی عمارت کمزور ہو گئی ) ، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر تم میں سے کسی ایک کی رہائش گاہ کی یہ حالت ہو جائے تو وہ اسے ٹھیک کیے بغیر راضی نہیں ہو گا میں نے اس بارے میں پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو توڑ کے اس کی تعمیر نو کی جائے ۔ انہوں نے اس بارے میں لوگوں سے مشورہ بھی لیا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا آپ اسے ویسے ہی رہنے دیں جس حال پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑا تھا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: خرچ کرنے کے حوالے سے آپ بخل کا شکار ہو رہے ہیں میں اپنے مال میں سے اس پر خرچ کروں گا راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے طے کر لیا اور اس کو توڑ دیا کچھ لوگ مکہ چھوڑ کے چلے گئے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما خانہ کعبہ پر چڑھے ان کے ساتھ ان کا ایک سیاہ فام حبشی غلام تھا انہوں نے اسے توڑنا شروع کیا کچھ لوگوں نے ان دونوں کی مدد کی تو سورج غروب ہونے تک انہوں نے اسے زمین کے ساتھ ملا دیا پھر انہوں نے دریافت کیا : زمانہ جاہلیت میں اس کے پتھر کہاں سے لائے گئے تھے تو انہیں یہ بات بتائی گئی کہ وہ کون سے پہاڑ سے لائے گئے تھے ۔ انہوں نے اسی پہاڑ سے وہ پتھر منگوائے پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عائشہ ! اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت کے قریب نہ ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو تڑوا دیتا ہے اور اسے زمین کے ساتھ ملا دیتا تمہاری قوم نے اسے بلند اس لئے کیا تھا تاکہ وہ جسے چاہیں اسے اندر جانے دیں اور میں اس کا ایک مغربی دروازہ بھی بناتا“ ۔ اس کے بعد انہوں نے ایک اور چیز بھی ذکر کی تھی جو مجھے یاد نہیں رہی اس میں یہ الفاظ ہیں : ” کوئی شخص اس دروازے سے داخل ہوتا اور اس دروازے سے نکل جاتا اور میں اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے ساتھ ملا دیتا کیونکہ تمہاری قوم نے ان بنیادوں میں کمی کر دی تھی اور حطیم والے حصے کو اس میں سے چھوڑ دیا تھا “ ۔ رادی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے بنیادوں کی کھدائی کی ، یہاں تک کہ وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں تک پہنچ گئے ۔ انہوں نے اس کے تمام اطراف میں پتھر اکھیڑنے والی لکڑی کو داخل کیا ، تو اس کے تمام حصے ہلنے لگے ، پھر انہوں نے اس کو تعمیر کیا اور حطیم والے حصے میں اضافہ کر دیا اور اسے بھی بلند کر دیا ، تو جس دن اس کو منہدم کیا گیا تھا ، اس وقت اس کی لمبائی دس گز تھی ، جب اس میں اضافہ کیا گیا ، تو وہ کم ہو گئی ان کے بیٹے نے ان سے کہا: آپ اس میں نو گز کا اضافہ کریں اور اس میں تین ستونوں کا اضافہ کریں ۔ جب عبدالملک نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کر دیا ، تو حجاج نے اسے خط لکھا کہ تم وہ دروازہ بند کروا دو ! جو ابن زبیر نے اضافہ کروایا تھا اور اسے ویسے ہی کر دو ، جیسے وہ پہلے تھا اور جو ابن زبیر نے حطیم کے حوالے سے اضافہ کیا تھا ، اس اضافے کو الگ کر دو تو اس نے ایسا ہی کیا ، تو اب اس کی تعمیر اس دن کی مانند ہے ، جو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی تعمیر سے پہلے تھی ، البتہ حجاج نے حطیم والے حصے کو تبدیل کر دیا تھا اور اس کا غلاف وہ ہے ، جو حجاج نے اُسے پہنایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5733
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5734
وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ : مَرَّ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْمَسْجِدِ ، وَأَهْلُ الشَّامِ يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِ أَبِي قَبِيسٍ الْجَبَلِ بِالْمَنْجَنِيقِ بِالْحِجَارَةِ فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ صَاعِقَةً فَأَحْرَقَتْ مَنْجَنِيقَهُمْ ، وَأَحْرَقَتْ تَحْتَهُ أَرْبَعَةً وَأَرْبَعِينَ رَجُلًا قَالَ أُنَاسٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ : لَا يَهُولَنَّكُمْ فَإِنَّهَا أَرْضُ صَوَاعِقَ ! فَأَرْسَلَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أُخْرَى فَأَحْرَقَتْ مَنْجَنِيقَهُمْ ، وَأَحْرَقَتْ تَحْتَهُ أَرْبَعِينَ رَجُلًا ، قَالَ : فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ أَتَاهُمْ مَوْتُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَتَفَرَّقَ أَهْلُ الشَّامِ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا يَأْتِي فِي كِتَابِ الْفِتَنِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
عکرمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا گزر مسجد سے ہوا اس وقت اہل شام جبل ابوقبیس سے ان لوگوں پر منجنیق کے ذریعے پتھر پھینک رہے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر بجلی بھیجی جس نے ان کی منجنیق کو جلا دیا اور اس کے نیچے چالیس افراد بھی جل گئے بنوامیہ سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے کہا: تم لوگ پریشان نہ ہو یہاں پر بجلی گرتی رہتی ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک اور بجلی بھیجی اس نے ان کی منجنیق کو جلا دیا اور اس کے نیچے چالیس افراد کو جلا دیا راوی کہتے ہیں : ابھی وہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ ان کے پاس یزید بن معاویہ کے مرنے کی اطلاع آ گئی تو اہل شام ادھر ادھر بکھر گئے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے وہ حدیث ذکر کی ہے ، جو آگے چل کے فتنوں سے متعلق کتاب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن خباب ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5734
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 5735
وَعَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ مَوْلَاهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُ : أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ بَنَى الْكَعْبَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَ : وَلِي حَجَرٌ أَنَا أَنْحِتُهُ بِيَدِي أَعْبُدُهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ تَعَالَى ، وَأَجِيءُ بِاللَّبَنِ الْخَاتِرِ الَّذِي أُنْفِسُهُ عَلَى نَفْسِي فَأَصُبُّهُ عَلَيْهِ فَيَجِيءُ الْكَلْبُ فَيَلْحَسُهُ ثُمَّ يَشْغَرُ فَيَبُولُ فَبَنَيْنَا حَتَّى بَلَغْنَا مَوْضِعَ الْحَجَرِ ، وَمَا يَرَى الْحَجَرَ أَحَدٌ فَإِذَا هُوَ ، وَسَطَ حِجَارَتِنَا مِثْلُ رَأْسِ الرَّجُلِ يَكَادُ يَتَرَاءَى مِنْهُ ، وَجْهُ الرَّجُلِ ، فَقَالَ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ : نَحْنُ نَضَعُهُ ، وَقَالَ آخَرُونَ : نَحْنُ نَضَعُهُ ، قَالَ : اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ حَكَمًا ، قَالُوا : أَوَّلُ رَجُلٍ يَطْلُعُ مِنَ الْفَجِّ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : أَتَاكُمُ الْأَمِينُ ، فَقَالُوا لَهُ ، فَوَضَعَهُ فِي ثَوْبٍ ثُمَّ دَعَا بُطُونَهُمْ فَأَخَذُوا بِنَوَاحِيهِ مَعَهُ فَوَضَعَهُ هُوَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد نے اپنے آقا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ انہوں نے انہیں بتایا کہ وہ ان افراد میں شامل تھے جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں خانہ کعبہ کی تعمیر میں حصہ لیا تھا وہ بیان کرتے ہیں : میرا ایک پتھر ہوتا تھا ، جسے میں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے تیار کیا تھا اور میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتا تھا میں تازہ دودھ لے کے آیا میں نے اپنے اوپر ایثار کر کے وہ بت کے لئے مخصوص کیا وہ دودھ میں نے اس بت کے پاس رکھ دیا ایک کتا آیا اور اسے چاٹنے لگا پھر اس نے ٹانگ اوپر کی اور بت پر پیشاب کر دیا ( پھر ہم نے خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کی یہاں تک کہ جب ہم حجر اسود والی جگہ پر پہنچے ، تو حجر اسود کو کوئی دیکھ نہیں پا رہا تھا کیونکہ وہ ہمارے پتھروں کے درمیان یوں تھا جیسے آدمی کا سر ہوتا ہے ، ( اتنی سی جگہ خالی تھی کہ ) اس میں سے آدمی کا سر بمشکل نظر آ سکتا تھا ، قریش کے ہر ایک قبیلے کے افراد نے کہا: ہم اسے رکھیں گے دوسروں نے کہا: ہم اسے رکھیں گے پھر کسی نے کہا: کہ تم اس بارے میں اپنے درمیان کسی کو ثالث بنا لو ان لوگوں نے کہا: اس راستے سے جو شخص سب سے پہلے آئے گا ( وہ ثالث ہو گا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے لوگوں نے کہا: امین شخص تمہارے پاس آئے ہیں ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ( تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس حجر اسود کو ایک کپڑے میں رکھوایا اور پھر قریش کی تمام شاخوں کو بلوا کر اس کپڑے کے کونے انہیں پکڑوا دیے اور پھر اسے اس جگہ پر خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن خباب ہے اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5735
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن