عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ تَقْضِيهِ عَنْهُ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَإِنَّهُ دَيْنٌ عَلَيْهِ فَاقْضِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے وہ فرض حج نہیں کر سکے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ اگر تمہارے والد کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم نے اس کی طرف سے اسے ادا کر دینا تھا ؟ اس شخص نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر یہ بھی اس کے ذمہ لازم قرض ہے تم اسے ادا کرو ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحُجُّ عَنْ أُمِّي وَقَدْ مَاتَتْ ؟ قَالَ : " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِيهِ أَلَيْسَ كَانَ مَقْبُولًا مِنْكِ ؟ " ، قَالَتْ : بَلَى ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا . ¤ وَجَاءَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ : أَحُجُّ بِابْنِي ، وَهُوَ مُرْضَعٌ أَوْ صَغِيرٌ قَالَ : " نَعَمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی والدہ کی طرف سے حج کر لوں جن کا انتقال ہو چکا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے اگر تمہاری ماں کے ذمہ قرض ہوتا اور تم اسے ادا کر دیتی تو کیا وہ تمہاری طرف سے مقبول نہیں ہونا تھا ؟ اس خاتون نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی ہونا تھا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس ( اپنی والدہ ) کی طرف سے حج کر لے ۔ ایک خاتون آئی اور اس نے عرض کی : میں اپنے بیٹے کے ساتھ حج کرتی ہوں وہ دودھ پیتا بچہ تھا یا کسن تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سوید ابوحاتم ہے ، جسے ابوزرعہ نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے امام نسائی رحمہ اللہ نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سوید ابوحاتم ہے ، جسے ابوزرعہ نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے امام نسائی رحمہ اللہ نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا ہے ۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَجَّ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ أُمِّهِ أَجْزَأَ ذَلِكَ عَنْهُ وَعَنْهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے باپ یا اپنی ماں کی طرف سے حج کرتا ہے ، تو یہ اس شخص کی طرف سے اور ان دونوں کی طرف سے ادا ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَجَّ عَنْ مَيِّتٍ فَلِلَّذِي حَجَّ عَنْهُ مِثْلُ أَجْرِهِ ، وَمَنْ فَطَّرَ صَائِمًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ ، وَمَنْ دَعَا إِلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ بْنِ بَهْرَامَ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی میت کی طرف سے حج کرتا ہے ، تو جس کی طرف سے حج کیا گیا ہے اسے بھی اس شخص کی مانند اجر ملتا ہے اور جو شخص روزہ دار کو افطاری کرواتا ہے ، تو اسے بھی اس ( روزہ دار ) کی مانند اجر ملتا ہے اور جو شخص بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے ، تو اس پر عمل کرنے والے کے اجر کی مانند اسے بھی اجر ملتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید بن بہرام ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید بن بہرام ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔