مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ حَجٌّ . باب: جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ حج لازم ہو
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحُجُّ عَنْ أُمِّي وَقَدْ مَاتَتْ ؟ قَالَ : " أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِيهِ أَلَيْسَ كَانَ مَقْبُولًا مِنْكِ ؟ " ، قَالَتْ : بَلَى ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَحُجَّ عَنْهَا . ¤ وَجَاءَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ : أَحُجُّ بِابْنِي ، وَهُوَ مُرْضَعٌ أَوْ صَغِيرٌ قَالَ : " نَعَمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی والدہ کی طرف سے حج کر لوں جن کا انتقال ہو چکا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے اگر تمہاری ماں کے ذمہ قرض ہوتا اور تم اسے ادا کر دیتی تو کیا وہ تمہاری طرف سے مقبول نہیں ہونا تھا ؟ اس خاتون نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی ہونا تھا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو یہ ہدایت کی کہ وہ اس ( اپنی والدہ ) کی طرف سے حج کر لے ۔ ایک خاتون آئی اور اس نے عرض کی : میں اپنے بیٹے کے ساتھ حج کرتی ہوں وہ دودھ پیتا بچہ تھا یا کسن تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سوید ابوحاتم ہے ، جسے ابوزرعہ نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے امام نسائی رحمہ اللہ نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا ہے ۔