مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحج— حج کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ حَجٌّ . باب: جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ حج لازم ہو
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَجَّ عَنْ مَيِّتٍ فَلِلَّذِي حَجَّ عَنْهُ مِثْلُ أَجْرِهِ ، وَمَنْ فَطَّرَ صَائِمًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ ، وَمَنْ دَعَا إِلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ بْنِ بَهْرَامَ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی میت کی طرف سے حج کرتا ہے ، تو جس کی طرف سے حج کیا گیا ہے اسے بھی اس شخص کی مانند اجر ملتا ہے اور جو شخص روزہ دار کو افطاری کرواتا ہے ، تو اسے بھی اس ( روزہ دار ) کی مانند اجر ملتا ہے اور جو شخص بھلائی کی طرف دعوت دیتا ہے ، تو اس پر عمل کرنے والے کے اجر کی مانند اسے بھی اجر ملتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید بن بہرام ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔