حدیث نمبر: 5195
عَنْ وَاثِلَةَ أَنَّهُ كَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ وَكَانَ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهَا وَيَقُولُ : " تُعْرَضُ فِيهَا الْأَعْمَالُ عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُشَيْرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ۔ وہ یہ بات بیان کرتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ روزے رکھتے تھے ، اور ارشاد فرماتے تھے : ان دنوں میں اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن قشیری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن قشیری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 5196
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5197
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔