حدیث نمبر: 5180
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " صَامَ نُوحٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ الدَّهْرَ إِلَّا يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ، وَصَامَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ نِصْفَ الدَّهْرِ ، وَصَامَ إِبْرَاهِيمُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، صَامَ الدَّهْرَ ، وَأَفْطَرَ الدَّهْرَ " . ¤ قُلْتُ : صِيَامُ نُوحٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ . وَصِيَامُ دَاوُدَ فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو قَنَانٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” سیدنا نوح علیہ السلام ہمیشہ روزہ رکھتے تھے صرف عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن نہیں رکھتے تھے سیدنا داؤد علیہ السلام نصف زمانہ ( یعنی ایک دن روزہ رکھتے تھے ، اور ایک دن نہیں رکھتے تھے ) سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرتے تھے یوں پورا زمانہ رکھا بھی گیا اور پورا زمانہ نہیں بھی رکھا گیا ( یعنی ہر دن کے روزے کا بدلہ دس گنا ہوتا ہے ، تو یوں تین دن پورے مہینے کے برابر ہوں گے ) “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا نوح علیہ السلام کے روزہ رکھنے سے متعلق روایت کو امام ابن ماجہ نے نقل کیا ہے ، اور سیدنا داؤد علیہ السلام کے روزہ رکھنے سے متعلق روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوقتان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوقتان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 5181
وَعَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ قَالَ : أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِطَعَامٍ فَدَعَا إِلَيْهِ رَجُلَيْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا : إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ : وَأَيُّ الصِّيَامِ تَصُومُ ؟ لَوْلَا كَرَاهِيَةُ أَنْ أَزِيدَ أَوْ أَنْتَقِصَ لَحَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَهُ الْأَعْرَابِيُّ بِالْأَرْنَبِ ، وَلَكِنْ أَرْسِلُوا إِلَى عَمَّارٍ ، فَجَاءَ عَمَّارٌ فَقَالَ : أَشَاهِدٌ أَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جَاءَهُ الْأَعْرَابِيُّ بِالْأَرْنَبِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا فَقَالَ : " كُلُوهَا " . فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ : " وَأَيُّ الصِّيَامِ تَصُومُ ؟ " . قَالَ : أَوَّلُ الشَّهْرِ وَآخِرُهُ . قَالَ : " إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الثَّلَاثَ عَشْرَةَ وَالْأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَالْخَمْسَ عَشْرَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
ابن حوتکیہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا لایا گیا انہوں نے دو آدمیوں کو کھانے کی دعوت دی تو ان میں سے ایک نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے کون سا روزہ رکھا ہوا ہے اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ میں کچھ اضافہ کر دوں گا یا کمی کر دوں گا ، تو میں تم لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا جب ایک دیہاتی خرگوش لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، لیکن تم ایسا کرو کہ عمار بن یاسر کو پیغام بھیج کر بلواؤ جب سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم اس وقت موجود تھے ، جب ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش ( کا گوشت ) لے کر آیا تھا ، تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اس نے یہ بتایا تھا کہ میں نے اس کا خون دیکھا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : تم لوگ اسے کھا لو ! اس نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے کون سا روزہ رکھا ہوا ہے اس نے جواب دیا : مہینے کا ابتدائی اور اس کا آخری ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم نے روزہ رکھنا ہی ہے ، تو ( ہر مہینے میں ) تین روزے رکھا کرو تیرہ ، چودہ اور پندرہ ( تاریخ ) کو روزہ رکھا کرو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 5182
وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِأَبِي ذَرٍّ وَعَمَّارٍ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ أَتَذْكُرُونَ يَوْمَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِأَرْنَبٍ بِهَا دَمٌ فَأَمَرَنَا فَأَكَلْنَا وَلَمْ يَأْكُلْ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ لَهُ : " ادْنُهُ فَاطْعَمْ " . قَالَ : إِنِّي صَائِمٌ أَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ كَمَا تَيَسَّرَ عَلَيَّ . قَالَ عُمَرُ : هَلْ تَدْرُونَ مَا الَّذِي أَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالُوا : أَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ . فَقَالَ عُمَرُ : هَكَذَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ وَحْدَهُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَالَ أَبُو زُرْعَةَ : مَحَلُّهُ الصِّدْقُ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ لوگوں کو وہ دن یاد ہے ، جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں فلاں مقام پر موجود تھے ایک دیہاتی خرگوش ( کا گوشت ) لے کر آپ کے پاس آیا تھا جس کا خون نکلا ہوا تھا ( یعنی وہ مادہ خرگوش تھی اور اسے حیض آتا تھا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم اسے کھا لیں اس دیہاتی نے اسے نہیں کھایا تھا ، تو ان حضرات نے جواب دیا : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تھا : تم آگے ہو کے کھاؤ تو اس نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے میں ہر مہینے میں تین روزے رکھتا ہوں مہینے کے آغاز میں ، یا اس کے آخر میں جس طرح مجھے سہولت ہو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو کیا حکم دیا تھا ، تو ان حضرات نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا تھا کہ وہ تیرہ ، چودہ اور پندرہ ( تاریخ ) کو روزہ رکھا کرے تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح ارشاد فرمایا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کو امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جبیر بن حکیم ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ابوزرعہ کہتے ہیں : اس کا محل صدق ہے اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جبیر بن حکیم ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ابوزرعہ کہتے ہیں : اس کا محل صدق ہے اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 5183
وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ أَنَّهُ دَفَعَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَهُوَ يُغَدِّي النَّاسَ ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ أَوْ سَلَّمَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : هَلُمَّ . فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ : وَأَيُّ الشَّهْرِ تَصُومُ ؟ قَالَ : مِنْ كُلِّ شَهْرٍ أَوَّلَهُ وَأَوْسَطَهُ . قَالَ عُمَرُ : ادْعُوا إِلَيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَسَمَّى رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءُوا فَقَالَ : هَلْ تَحْفَظُونَ يَوْمَ جَاءَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَرْنَبِ فِي وَادِي كَذَا وَكَذَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو اس وقت لوگوں کو ناشتہ کروا رہے تھے ایک شخص ان کے پاس سے گزرا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک شخص نے انہیں سلام کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آگے آ جاؤ اس نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم مہینے کے کون سے حصے میں روزہ رکھتے ہو ؟ اس نے کہا: مہینے کے ہر حصے میں رکھ لیتا ہوں آغاز میں بھی درمیان میں بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بلا کر لاؤ انہوں نے چند دیگر صحابہ کرام کے نام بھی لئے وہ حضرات آ گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا آپ لوگوں کو وہ دن یاد ہے ، جب ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فلاں وادی میں خرگوش ( کا گوشت ) لے کے آیا تھا ان حضرات نے جواب دیا : جی ہاں ۔ ( اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی حدیث کو امام نسائی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سہل بن عمار نیشا پوری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سہل بن عمار نیشا پوری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5184
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنِ الْأَعْرَابِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : ثَنَا رَجُلٌ مِنْ عُكْلٍ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن عبداللہ بن شخیر نے ایک دیہاتی کا یہ بیان نقل کیا ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” صبر والے مہینے کے روزے اور ہر مہینے کے تین روزے سینے کے کھوٹ ( یا وسوسے ) کو ختم کر دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : عکل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : عکل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5185
وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرِ صِيَامُ الدَّهْرِ وَإِفْطَارُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا ہمیشہ روزہ رکھنے کی مانند ہے ، اور ہمیشہ روزہ نہ رکھنا بھی ہے ( یعنی اجر ہمیشہ روزہ رکھنے کا ملے گا ، اور عملی طور پر روزہ ہمیشہ نہیں رکھا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5186
وَعَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الصِّيَامِ ؟ فَقَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ; أَوَّلُهَا الِاثْنَيْنِ وَالْجُمُعَةُ وَالْخَمِيسُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ خَلَا : وَالْجُمُعَةُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأُمُّ هُنَيْدَةَ لَمْ أَعْرِفْهَا . ¤
محمد محی الدین
ھنیدہ خزاعی اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے ان سے روزے کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ حکم دیتے تھے کہ میں ہر مہینے میں تین دن روزے رکھا کروں جس کا آغاز پیر کے دن ہو ، پھر جمعہ اور جمعرات ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے نقل کی ہے ۔ اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جمعہ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ام ہنیدہ کو میں نہیں جانتا ہوں ۔
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے نقل کی ہے ۔ اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جمعہ “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ام ہنیدہ کو میں نہیں جانتا ہوں ۔
حدیث نمبر: 5187
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ يَذْهَبْنَ بِوَحَرِ الصَّدْرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” صبر والے مہینے کے روزے اور ( ہر مہینے کے ) تین روزے سینے کے کھوٹ ( یا وسوسے ) کو ختم کر دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5188
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صبر والے مہینے کے روزے اور ہر مہینے کے تین روزے ، سینے کے کھوٹ ( یا وسوسے ) کو ختم کر دیتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5189
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنِ الصِّيَامِ فَشُغِلَ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : صُمْ رَمَضَانَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَقَالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَا تَبْغِي ؟ صُمْ رَمَضَانَ كُلَّهُ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے روزے کے بارے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف توجہ نہیں کی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم رمضان کے روزے رکھو اور ہر مہینے کے تین روزے رکھ لو اس شخص نے کہا: اے اللہ کے بندے ! میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم کیا چاہتے ہو ؟ تم پورا رمضان روزے رکھو اور ہر مہینے کے تین روزے رکھ لیا کرو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5190
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصِّيَامِ ؟ فَقَالَ : " عَلَيْكَ بِالْبِيضِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے بارے میں سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر چمک دار لازم ہے ہر مہینے کے تین روزے ( رکھنا لازم ہے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 5191
وَعَنْ أَبِي الْعَلَاءِ قَالَ : كُنَّا بِالْمِرْبَدِ فَأَتَانَا أَعْرَابِيٌّ وَمَعَهُ قِطْعَةُ أَدِيمٍ فَقَالَ : انْظُرُوا مَا فِيهَا . فَإِذَا كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ حَيٍّ مِنْ عُكْلٍ : " إِنَّكُمْ إِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ ، وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ ، وَأَدَّيْتُمْ خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ ، وَسَهْمَ النَّبِيِّ وَالصَّفِيِّ ، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ " . قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " شَهْرُ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَغَرَ الصَّدْرِ " . فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَقِيلَ : هَذَا النَّمِرُ بْنُ تَوْلَبٍ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا ذِكْرِ الصَّوْمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ خَلَّادِ بْنِ قُرَّةَ بْنِ خَلَّادٍ عَنْ أَبِيهِ ، وَكِلَاهُمَا لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
ابوالعلاء بیان کرتے ہیں : ہم لوگ مربد میں موجود تھے ایک دیہاتی ہمارے پاس آیا اس کے پاس چمڑے کا ایک ٹکڑا موجود تھا اس نے کہا: تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ اس میں کیا تحریر ہے ، تو اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب تھا جو بنوز ہیر بن اقیش کے نام تھا جو عکل قبیلے کی ایک شاخ ہے ( اس میں یہ تحریر تھا : ) ” اگر تم لوگ نماز قائم کرو زکوۃ ادا کرو جو غنیمت تمہیں حاصل ہوتی ہے اس کا خمس ادا کرو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ہے ، اور منتخب شدہ حصہ ہے ( وہ ادا کرو ) تو تم لوگ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امان کے تحت محفوظ رہو گے “ ۔ ( راوی کہتے ہیں ) میں نے دریافت کیا : کیا آپ نے یہ بات خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” صبر والے مہینے اور ہر مہینے کے تین روزے سینے کے کھوٹ ( یا وسوسے ) کو رخصت کر دیتے ہیں “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے ان صاحب کے بارے میں دریافت کیا ، تو بتایا گیا ان کا نام نمر بن تولب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے تاہم اس میں روزے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں خلاد بن قرہ بن خلاد کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے تاہم اس میں روزے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں خلاد بن قرہ بن خلاد کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 5192
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ : جَلَسْتُ فِي الْمِرْبَدِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ بِحَلْبٍ لَهُ مِنْ إِبِلٍ فَأَقَامَهَا عِنْدَنَا فَغَشِيَتْنَا إِبِلُهُ فَقُمْنَا مِنْ مَجْلِسِنَا وَغَشِيَتْنَا الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنِّي لَأَرَاكَ مَجْنُونًا ، قَالَ : مَا أَنَا بِمَجْنُونٍ وَإِنَّ مَعِي كِتَابًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَأَخْرَجَهُ فَإِذَا هُوَ كُرَاعٌ مِنْ أَدِيمٍ فَقَرَأْنَاهُ فَإِذَا فِيهِ : " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ " . فَقُلْنَا : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ لَكَ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ لِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں مربد میں بیٹھا ہوا تھا ایک دیہاتی اپنے اونٹ کا دودھ لے کر آیا اور ہمارے پاس وہاں ٹھہر گیا اس کے اونٹ ہمارے پاس آ گئے تو ہم اپنی جگہ سے اٹھ گئے پھر دوسری مرتبہ اس کے اونٹ ہمارے پاس آ گئے تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: میں سمجھتا ہوں تم پاگل ہو اس نے کہا: میں پاگل نہیں ہوں میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مکتوب موجود ہے پھر اس نے وہ نکالا تو وہ چمڑے کے ایک ٹکڑے میں موجود تھا اس میں لکھا ہوا تھا ہم نے اسے پڑھا تو اس میں یہ تحریر تھا ۔ ” صبر والے مہینے کے روزے اور ہر مہینے کے تین روزے سینے کے کھوٹ ( یا وسوسے ) کو رخصت کر دیتے ہیں “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) ہم نے دریافت کیا : کیا یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تمہیں لکھ کر دیا تھا اس نے کہا: میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مجھے لکھ کے دیا تھا ( یا لکھوا کے دیا تھا ۔ )
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس کا تعلق بنو سلیم سے ہے میں اس سے واقف ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس کا تعلق بنو سلیم سے ہے میں اس سے واقف ہوں ۔
حدیث نمبر: 5193
وَعَنْ كَهْمَسٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ : قَدُمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقَمْتُ عِنْدَهُ ثُمَّ خَرَجْتُ عَنْهُ فَأَتَيْتُهُ بَعْدَ حَوْلٍ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَا تَعْرِفُنِي ؟ قَالَ : " لَا " . قُلْتُ : أَنَا الَّذِي كُنْتُ عِنْدَكَ عَامَ الْأَوَّلِ . قَالَ : " فَمَا غَيَّرَكَ بَعْدِي ؟ " . قَالَ : مَا أَكَلْتُ طَعَامًا مُنْذُ فَارَقْتُكَ ! قَالَ : " فَمَنْ أَمَرَكَ بِتَعْذِيبِ نَفْسِكَ ؟ صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ " . قُلْتُ : زِدْنِي . فَزَادَنِي حَتَّى قَالَ : " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْمِنْقَرِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کہمس ہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا پھر آپ کے پاس ٹھہرا رہا پھر میں آپ کے پاس سے نکلا پھر میں ایک سال بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے مجھے پہچانا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں میں نے عرض کی : میں وہ شخص ہوں جو ایک سال پہلے آپ کے ہاں ٹھہرا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا حلیہ کیوں تبدیل ہو گیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جب سے میں آپ سے جدا ہوا ہوں میں نے کبھی کھانا نہیں کھایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کس نے یہ حکم دیا تھا کہ تم اپنے آپ کو عذاب کا شکار کرو تم ہر مہینے میں ایک دن روزہ رکھ لیا کرو میں نے عرض کی : آپ مجھے مزید کی اجازت دیجیے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مزید کی اجازت دی یہاں تک کہ آپ نے ارشاد فرمایا : ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن یزید منقری ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن یزید منقری ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5194
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفْتِنَا عَنِ الصَّوْمِ ؟ فَقَالَ : " مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَصُومَهُنَّ فَإِنَّ كُلَّ يَوْمٍ يُكَفِّرُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَأَنَّهُ يُنَقِّي مِنَ الْإِثْمِ كَمَا يُنَقِّي الْمَاءُ الثَّوْبَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں روزے کے بارے میں حکم دیجیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص انہیں رکھنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرے کیونکہ ہر ایک دن اس کے دس گناہوں کا کفارہ بن جائے گا ، اور وہ اپنے گناہوں سے یوں پاک ہو جائے گا جس طرح پانی کپڑے کو پاک ( صاف ) کر دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند ضعیف ہے ۔