کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عاشوراء کے روزے کا بیان
حدیث نمبر: 5105
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ وَقَدْ صَامُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ : " مَا هَذَا مِنَ الصَّوْمِ ؟ " . فَقَالُوا : هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي نَجَّى اللَّهُ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنَ الْغَرَقِ ، وَغَرِقَ فِيهِ فِرْعَوْنُ ، وَهَذَا يَوْمٌ اسْتَوَتْ فِيهِ السَّفِينَةُ عَلَى الْجُودِيِّ ، فَصَامَ نُوحٌ وَمُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى وَأَحَقُّ بِصَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ " . فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالصَّوْمِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کچھ یہودیوں کے پاس سے ہوا جنہوں نے عاشوراء کے دن روزہ رکھا ہوا تھا آپ نے دریافت کیا : یہ روزہ کسی وجہ سے ہے ؟ انہوں نے بتایا یہ وہ دن ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو ڈوبنے سے نجات دی تھی اور فرعون کو اس دن میں ڈبو دیا تھا یہ وہ دن ہے ، جس میں ( سیدنا نوح علیہ السلام کی ) کشتی جودی پہاڑ کے ساتھ لگ گئی تھی تو سیدنا نوح علیہ السلام نے اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے ( اس دن ) روزہ رکھا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زیادہ قریبی ہیں اور روزہ رکھنے کے زیادہ حق دار ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ( اس دن ) روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن عبداللہ ازدی ہے اس کے حوالے سے اس کے بیٹے کے علاوہ کسی اور نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5105
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (359/2 و360)»
حدیث نمبر: 5106
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " مَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، وَمَنْ أَكَلَ مِنْ غَدَاءِ أَهْلِهِ فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَيْضًا حَبِيبٌ وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ، اور اپنے اصحاب سے فرمایا کرتے تھے : جس نے روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کی ہے وہ اپنا روزہ مکمل کرے اور جس نے اپنے گھر میں ناشتہ کر لیا تھا ، تو وہ بقیہ دن میں اس ( روزے ) کو مکمل کرے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں بھی حبیب نامی راوی ہے ، جس کے حوالے سے اس کے بیٹے کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5106
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (359/2)»
حدیث نمبر: 5107
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ عَاشُورَاءَ وَيَأْمُرُ بِهِ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عاشوراء رضی اللہ عنہ کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ، اور اس کا حکم بھی دیتے تھے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5107
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5108
وَعَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ : هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُومُوهُ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَوْمِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَثُوَيْرٌ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ثویر بن ابوفاختہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ” یہ عاشوراء کا دن ہے تم اس دن روزہ رکھو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے روزے کا حکم دیا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ثویر نامی راوی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5108
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 5109
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ قَرْيَةٍ عَلَى أَرْبَعَةِ فَرَاسِخَ - أَوْ قَالَ : فَرْسَخَيْنِ - يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَأَمَرَ مَنْ أَكَلَ أَنْ لَا يَأْكُلَ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَأْكُلْ أَنْ يُتِمَّ صَوْمَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ; وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار فرسخ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو فرسخ کے فاصلے پر موجود بستی والوں کو پیغام بھیجا یہ عاشوراء کے دن کی بات ہے آپ نے یہ حکم دیا کہ جس نے کچھ کھا لیا ہے وہ باقی دن میں کچھ نہ کھائے اور جس نے کچھ نہیں کھایا ہے وہ باقی دن میں روزے کو مکمل کرے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5109
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (2058)»
حدیث نمبر: 5110
وَعَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُمْ يَوْمًا : " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَصُومُوهُ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي تَرَكْتُ قَوْمِي مِنْهُمْ صَائِمٌ وَمِنْهُمْ مُفْطِرٌ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ إِلَيْهِمْ فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
بعجہ بن عبدالله بن بدر بیان کرتے ہیں : ان کے والد نے انہیں یہ بات بتائی ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ارشاد فرمایا : یہ عاشوراء کا دن ہے ، تو تم اس میں روزہ رکھو بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اپنی قوم کو ایسی حالت میں چھوڑا ہے کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ان لوگوں کی طرف جاؤ اور ان میں سے جس نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا وہ اپنے روزے کو مکمل کرے ( یعنی باقی دن میں کچھ نہ کھائے پیئے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5110
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (467/6)»
حدیث نمبر: 5111
وَعَنْ هِنْدِ بْنِ أَسْمَاءَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِي مِنْ أَسْلَمَ فَقَالَ : " مُرْ قَوْمَكَ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَمَنْ وَجَدْتَهُ مِنْهُمْ قَدْ أَكَلَ فِي أَوَّلِ يَوْمِهِ فَلْيُتِمَّ آخِرَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ہند بن اسماء اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میری قوم اسلم قبیلے کی طرف بھیجا آپ نے ارشاد فرمایا : تم اپنی قوم کو یہ ہدایت کرو کہ اس دن یعنی عاشوراء کے دن روزہ رکھیں اور ان میں سے جس شخص کو تم پاؤ کہ اس نے دن کے ابتدائی حصے میں کچھ کھا لیا ہو تو وہ دن کے آخری حصے تک ( روزے کو ) مکمل کرے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5111
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (207/22) اخرجه احمد فى المسند (484/3)»
حدیث نمبر: 5112
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، وَكَانَ هِنْدُ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَأَخُوهُ الَّذِي بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ قَوْمَهُ بِصِيَامِ عَاشُورَاءَ ، وَهُوَ أَسْمَاءُ بْنُ حَارِثَةَ ، فَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ هِنْدٍ عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فَقَالَ : " مُرْ قَوْمَكَ بِصِيَامِ هَذَا الْيَوْمِ " . قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتَهُمْ قَدْ طَعِمُوا ؟ قَالَ : " فَلْيُتِمُّوا آخِرَ يَوْمِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا شَبَّهَ الْمُرْسَلِ ، وَرَوَاهُ ابْنُهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ هِنْدِ بْنِ حَارِثَةَ عَنْ أَبِيهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن ہند بن حارثہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ہند رضی اللہ عنہ کو غزوہ حدیبیہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، اور ان کے بھائی وہ شخص ہیں جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا کہ وہ اپنی قوم کو عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیں ان کا نام سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ ہے ، تو یحیی بن ہند نے سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات مجھے بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا اور ارشاد فرمایا : تم اپنی قوم کو اس دن روزہ رکھنے کا حکم دو ! انہوں نے عرض کی : آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟ اگر میں ان لوگوں کو پاتا ہوں کہ وہ کھانا کھا چکے ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر وہ دن کے آخری حصے تک ( روزے کو ) مکمل کریں ( یعنی پھر کچھ نہ کھائیں پیئیں ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے اسے اسی طرح ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ان سے ان کے صاحبزادے نے یحیی بن ہند بن حارثہ کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے اسے نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5112
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (484/3)»
حدیث نمبر: 5113
وَعَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ : " ائْتِ قَوْمَكَ فَمُرْهُمْ أَنْ يَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أُرَانِي آتِيهِمْ حَتَّى يَطْعَمُوا ؟ قَالَ : " فَمُرْ مَنْ طَعِمَ مِنْهُمْ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عاشوراء کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا اور ارشاد فرمایا : تم اپنی قوم کے پاس جاؤ اور انہیں یہ ہدایت کرو کہ وہ آج کے دن روزہ رکھیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اپنے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ جب میں ان کے پاس پہنچوں گا ، تو وہ لوگ کچھ کھا چکے ہوں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان میں سے جس نے کچھ کھا لیا ہو اس کو تم یہ ہدایت کرنا کہ وہ باقی دن میں روزہ رکھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5113
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5114
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَوْمِ عَاشُورَاءَ أَنْ نَصُومَهُ وَقَالَ : " هُوَ يَوْمٌ كَانَتِ الْيَهُودُ تَصُومُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عاشوراء کے دن کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ ہم اس دن روزہ رکھیں ۔ ( راوی کہتے ہیں : ) یہ وہ دن تھا جس میں یہودی روزہ رکھا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5114
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (340/3)»
حدیث نمبر: 5115
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَاشُورَاءُ عِيدُ نَبِيٍّ كَانَ قَبْلَكُمْ فَصُومُوهُ أَنْتُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عاشوراء تم سے پہلے کے ایک نبی کی عید کا دن ہے ، تو تم لوگ اس دن روزہ رکھو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم ہجری ہے ، جسے ابن عدی نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5115
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 5116
وَعَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَمِعْتُ مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ كَانَ صَائِمًا الْيَوْمَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ مَا بَقِيَ أَوْ لِيَصُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مجزاة بن زاہر نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو عاشوراء کے دن یہ کہتے ہوئے سنا : ” آج جس نے روزہ رکھا ہوا ہے وہ اپنے روزے کو مکمل کرے اور جس نے روزہ نہیں رکھا ہوا تو وہ باقی رہ جانے والے ( دن کے حصے کو مکمل کرے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) روزہ رکھنے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5116
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5312) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (593) اخرجه البزار فى المسند (1047)»
حدیث نمبر: 5117
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَوْمِ عَاشُورَاءَ ، وَكَانَ لَا يَصُومُهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو هَارُونَ الْعَبْدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا اور آپ خود یہ روزہ نہیں رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہارون عبدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5117
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1132)»
حدیث نمبر: 5118
وَعَنْ عُلَيْلَةَ عَنْ أُمِّهَا قَالَتْ : قُلْتُ لِأَمَةِ اللَّهِ بِنْتِ رُزَيْنَةَ : يَا أَمَةَ اللَّهِ ، حَدَّثَتْكِ أُمُّكِ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ صَوْمَ عَاشُورَاءَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، وَكَانَ يُعَظِّمُهُ حَتَّى يَدْعُوَ بِرُضَعَائِهِ وَرُضَعَاءِ ابْنَتِهِ فَاطِمَةَ فَيَتْفُلُ فِي أَفَوَاهِهِنَّ ، وَيَقُولُ لِلْأُمَّهَاتِ : " لَا تُرْضِعُوهُنَّ إِلَى اللَّيْلِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَلَفْظُهُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَظِّمُهُ حَتَّى إِنْ كَانَ لَيَدْعُوَ بِصِبْيَانِهِ وَصِبْيَانِ فَاطِمَةَ الْمَرَاضِعِ ذَلِكَ الْيَوْمَ فَيَتْفُلُ فِي أَفْوَاهِهِمْ وَيَقُولُ لِأُمَّهَاتِهِمْ : " لَا تُرْضِعُوهُمْ إِلَى اللَّيْلِ " . وَكَانَ رِيقُهُ يُجْزِئُهُمْ . ¤ وَعُلَيْلَةُ وَمَنْ فَوْقَهَا لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُنَّ ، وَسَمَّى الطَّبَرَانِيُّ فَقَالَ : عُلَيْلَةُ بِنْتُ الْكُمَيْتِ ، عَنْ أُمِّهَا أَمِينَةَ . ¤
محمد محی الدین
علیلہ نامی خاتون اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں : میں نے امتہ اللہ بنت رزینہ سے کہا: اے امتہ اللہ ! کیا آپ کی والدہ نے آپ کو یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عاشوراء کے روزے کے بارے میں کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ تو اس خاتون نے جواب دیا : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کی تعظیم کرتے تھے ، یہاں تک کہ آپ اپنے اور اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے دودھ پیتے بچوں کو بلاتے تھے ، اور ان کے منہ میں لعاب دہن ڈال دیتے تھے اور ان کی ماؤں سے یہ فرماتے تھے کہ رات ہونے تک انہیں دودھ نہ پلانا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے الفاظ یہ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعظیم کرتے تھے ، یہاں تک کہ آپ اپنے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے دودھ پیتے بچوں کو بھی بلواتے تھے ، اور ان کے منہ میں لعاب دہن ڈال دیتے تھے ، اور ان کی ماؤں سے یہ کہتے تھے : رات ہونے تک تم انہیں دودھ نہ پلانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن ان بچوں کے لئے کفایت کر جاتا تھا “ ۔ علیلہ نامی خاتون اور اس سے اوپر کی خواتین کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔ امام طبرانی نے یہ بات بیان کی ہے علیلہ بنت کمیت نے اپنی والدہ امینہ کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5118
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7162)»
حدیث نمبر: 5119
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَعَظَّمَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ : " مَنْ كَانَ لَمْ يَطْعَمْ مِنْكُمْ فَلْيَصُمْ يَوْمَهُ هَذَا ، وَمَنْ كَانَ قَدْ طَعِمَ مِنْكُمْ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن کا ذکر کرتے ہوئے اس کی عظمت کا اظہار کیا ، اور اپنے آس پاس موجود افراد سے یہ فرمایا : ” تم میں سے جس شخص نے کچھ نہ کھایا ہو تو وہ آج کے دن روزہ رکھ لے اور تم میں سے جس شخص نے کچھ کھا لیا ہو تو وہ باقی دن میں روزہ رکھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5119
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5120
وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ : صُومُوا هَذَا الْيَوْمَ ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِصَوْمِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَزِيدَةُ بْنُ جَابِرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے عاشوراء کے دن ارشاد فرمایا : تم اس دن روزہ رکھو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مزیدہ بن جابر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5120
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 5121
وَعَنْ خَبَّابٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَكَلَ فَلَا يَأْكُلْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ ، وَمَنْ يَرَى مِنْكُمُ الصَّوْمَ فَلْيَصُمْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! تم میں سے جس شخص نے کچھ کھا لیا ہو تو وہ باقی دن میں کچھ نہ کھائے اور تم میں سے جس شخص نے روزہ رکھنا ہو وہ روزہ رکھ لے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن جابر ہے ، جسے امام أحمد نے اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5121
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3692)»
حدیث نمبر: 5122
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَتَوَخَّى فَضْلَ صَوْمِ يَوْمٍ عَلَى يَوْمٍ بَعْدَ رَمَضَانَ إِلَّا عَاشُورَاءَ . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَكْرٍ الْعَلَّافُ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی دن کے روزے کو رمضان کے بعد کسی دوسرے دن پر فضیلت نہیں دیتے تھے البتہ عاشوراء کا معاملہ مختلف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن بکر علاف ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5122
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5123
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ لِيَوْمٍ فَضْلٌ عَلَى يَوْمٍ فِي الصِّيَامِ إِلَّا شَهْرَ رَمَضَانَ وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” روزہ رکھنے میں کسی دن کو دوسرے دن پر فضیلت حاصل نہیں ہے ، البتہ رمضان کے مہینے اور عاشوراء کے دن کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5123
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5124
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْحَلَبِيُّ ، وَتُكُلِّمَ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ مِنْهَا . ¤
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو عاشوراء کے دن منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہوئے سنا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ہشام حلبی ہے ۔ ابن مبارک سے اس کے روایت کرنے کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور یہ حدیث ان میں سے نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5124
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 5125
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ وَمَنْ لَمْ يُصْبِحْ صَائِمًا فَلَا يَأْكُلْ شَيْئًا فَإِنَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ أَبُو زُرْعَةَ : مَحَلُّهُ الصِّدْقُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ نُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن فجر کی نماز ادا کی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے جس شخص نے روزہ رکھا ہوا ہے وہ اپنا روزہ مکمل کرے اور جس شخص نے روزہ نہیں رکھا ہوا تو اب وہ کچھ نہ کھائے کیونکہ آج عاشوراء کا دن ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے ابوزرعہ کہتے ہیں : اگر اللہ نے چاہا تو اس کا محل صدق ہو گا اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی نسبت کی جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5125
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 5126
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَاءَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ : " ائْتِ قَوْمَكَ ; فَمَنْ أَدْرَكْتَ مِنْهُمْ لَمْ يَأْكُلْ فَلْيَصُمْ ، وَمَنْ طَعِمَ فَلْيَصُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْحَاقُ لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسماء بن عبداللہ کو عاشوراء کے دن بھیجا اور ارشاد فرمایا : تم اپنی قوم کے پاس جاؤ اور ان میں سے جس شخص کو تم پاؤ کہ اس نے کچھ نہ کھایا ہو تو وہ روزہ رکھ لے اور جس شخص نے کچھ کھا لیا ہو اسے بھی روزہ رکھ لینا چاہے ( یعنی وہ بقیہ دن میں کچھ نہ کھائے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5126
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 5127
وَعَنْ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيِّ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُدَيْدٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَطَعِمْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا ؟ " لِيَوْمِ عَاشُورَاءَ . قَالَ : لَا إِلَّا أَنِّي شَرِبْتُ مَاءً . قَالَ : " فَلَا تَطْعَمْ شَيْئًا حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَأْمُرْ مَنْ وَرَاءَكَ أَنْ يَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
معبد قرشی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قدید کے مقام پر موجود تھے ایک شخص آپ کے پاس آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : کیا تم نے آج کچھ کھایا ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یہ عاشوراء کے دن کی بات ہے اس شخص نے جواب دیا : جی نہیں میں نے صرف پانی پیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب تم سورج غروب ہونے تک کچھ نہ کھانا اپنے پیچھے موجود افراد کو بھی یہ ہدایت کر دو کہ وہ آج کے دن روزہ رکھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5127
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (342/20)»
حدیث نمبر: 5128
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعْدٍ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو فِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ : احْلِبْ لَهُمْ يَا غُلَامُ . فَقَامَ الْغُلَامُ إِلَى نَعْجَةٍ فَحَلَبَهَا ، فَجَاءَهُمْ فَقَالَ لِلَّذِي عَنْ يَمِينِهِ : اشْرَبْ . فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ . فَقَالَ : قَبِلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكَ . ثُمَّ قَالَ لِلثَّانِي ، فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ . فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ . فَقَالَ لِلثَّالِثِ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ . فَقَالَ : أَكُلُّكُمْ صَائِمُونَ ؟ يُوشِكُ أَنْ تَتَّخِذُوا هَذَا الْيَوْمَ بِمَنْزِلَةِ رَمَضَانَ إِنَّمَا كُنَّا نَصُومُ هَذَا الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْنَا رَمَضَانُ ، فَلَمَّا افْتُرِضَ عَلَيْنَا رَمَضَانُ نَسَخَ صَوْمُ رَمَضَانَ صَوْمَ هَذَا الْيَوْمِ ، وَهَذَا الْيَوْمُ تَطَوُّعٌ لَيْسَ بِفَرِيضَةٍ ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَصُمْ ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ . فَلَمَّا سَمِعَ الْقَوْمُ ذَلِكَ أَفْطَرُوا جَمِيعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَشْرَجُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوسعد بیان کرتے ہیں : ہم لوگ عاشوراء کے دن عائذ بن عمرو کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا : اے غلام تم ان کے لئے دودھ دوہ لو ! وہ غلام اٹھ کر ایک بکری کے پاس گیا اس نے اس کا دودھ دوہ لیا پھر وہ ان لوگوں کے پاس آیا تو عائذ نے اپنے دائیں طرف موجود فرد سے کہا: تم پی لو اس نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے عائذ نے کہا: اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے اور تمہاری طرف سے قبول کرے پھر انہوں نے دوسرے شخص سے کہا: تو اس نے بھی کہا: کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ، تو عائذ نے اس کی مانند کلمات کہے ۔ انہوں نے تیسرے سے کہا: تو اس نے اس کی مانند کلمات کہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : کیا تم سب لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے ؟ عنقریب ایسا ہو گا کہ تم اس دن کو رمضان کی مانند سمجھنا شروع کر دو گے ہم اس دن کا روزہ رمضان کا فرض لازم ہونے سے پہلے رکھا کرتے تھے ، جب رمضان ہم پر فرض ہو گیا تو رمضان کے روزے نے اس دن کے روزے کو منسوخ کر دیا تو آج کا دن نفلی روزے کا ہے فرض نہیں ہے ، جو شخص چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو شخص چاہے ، تو وہ روزہ ترک کر دے جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ان سب نے روزہ ترک کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حشرج بن عبداللہ ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5128
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «. اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (20;19/18)»
حدیث نمبر: 5129
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : لَيْسَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ بِالْيَوْمِ الَّذِي يَقُولُهُ النَّاسُ إِنَّمَا كَانَ يَوْمٌ تُسْتَرُ فِيهِ الْكَعْبَةُ وَتَقْلِسُ فِيهِ الْحَبَشَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَدُورُ فِي السَّنَةِ وَكَانَ النَّاسُ يَأْتُونَ فُلَانًا الْيَهُودِيَّ فَيَسْأَلُونَهُ فَلَمَّا مَاتَ الْيَهُودِيُّ أَتَوْا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَلَا أَدْرِي مَا مَعْنَاهُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عاشوراء کے دن سے مراد وہ دن نہیں ہے ، جس کے بارے میں لوگ یہ کہتے ہیں : یہ ایک ایسا دن ہے ، جس دن میں خانہ کعبہ کو غلاف پہنایا گیا اور حبشیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اس دن کرتب دکھائے تھے ، وہ قحط سالی میں گھوما کرتے تھے ، پہلے لوگ فلاں یہودی کے پاس جا کر اس سے سوال کرتے ( یعنی مانگتے ) تھے ، جب وہ یہودی مر گیا ، تو وہ لوگ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے سوال کیا ( یا کچھ مانگا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس کا مفہوم کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5129
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4876)»
حدیث نمبر: 5130
وَعَنْ عَمَّارٍ قَالَ : أُمِرْنَا بِصَوْمِ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ لَمْ نُؤْمَرْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رمضان کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہمیں عاشوراء کا حکم دیا گیا تھا ، جب رمضان کا حکم نازل ہو گیا تو پھر ہمیں اس کا حکم نہیں دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5130
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 5131
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَبْدٍ قَالَ : اخْتَلَفْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ سَنَةً فَمَا رَأَيْتُهُ مُصَلِّيًا الضُّحَى وَمَا رَأَيْتُهُ صَائِمًا يَوْمًا تَطَوُّعًا إِلَّا يَوْمَ عَاشُورَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَيْسُ بْنُ عَبْدٍ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ الشَّعْبِيِّ ابْنِ أَخِيهِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن عبد بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک سال تک آتا جاتا رہا ہوں میں نے انہیں کبھی بھی چاشت کی نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور کبھی بھی نفلی روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا البتہ عاشوراء کے دن کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ قیس بن عبد کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے شعبی جو ان کے بھتیجے ہیں ان کے علاوہ اور کسی نے ان سے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5131
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم ا الكبير (8877)»
حدیث نمبر: 5132
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ - قَالَ عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَجَبٌ شَهْرٌ عَظِيمٌ يُضَاعِفُ اللَّهُ فِيهِ الْحَسَنَاتِ فَمَنْ صَامَ يَوْمًا مِنْ رَجَبٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ سَنَةً وَمَنْ صَامَ مِنْهُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ غُلِّقَتْ عَنْهُ سَبْعَةُ أَبْوَابِ جَهَنَّمَ وَمَنْ صَامَ مِنْهُ ثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَمَنْ صَامَ مِنْهُ عَشَرَةَ أَيَّامٍ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ، وَمَنْ صَامَ مِنْهُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا نَادَى مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ : قَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى فَاسْتَأْنِفِ الْعَمَلَ . وَمَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ ، وَفِي رَجَبٍ حَمَلَ اللَّهُ نُوحًا فِي السَّفِينَةِ فَصَامَ رَجَبَ وَأَمَرَ مَنْ مَعَهُ أَنْ يَصُومُوا فَجَرَتْ بِهِمُ السَّفِينَةُ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ أُخَرَ ، ذَلِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ أُهْبِطَ عَلَى الْجُودِيِّ فَصَامَ نُوحٌ وَمَنْ مَعَهُ وَالْوَحْشُ شُكْرًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَفِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَلَقَ اللَّهُ الْبَحْرَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَفِي يَوْمِ عَاشُورَاءَ تَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى آدَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مَدِينَةِ يُونُسَ ، وَفِيهِ وُلِدَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفُورِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالعزیز بن سعید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن مطر رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رجب ایک عظیم مہینہ ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ نیکیوں کا بدلہ کئی گنا دیتا ہے ، جو شخص رجب کے ایک دن روزہ رکھتا ہے ، تو گویا اس نے ایک سال روزہ رکھا اور جو شخص اس کے سات روزے رکھتا ہے اس کے لئے جہنم کے ساتوں دروازے بند کر دیے جاتے ہیں جو شخص اس کے آٹھ روزے رکھتا ہے اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جو شخص اس کے دس روزے رکھتا ہے وہ اللہ تعالٰی سے جو بھی چیز مانگے گا اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کرے گا ، جو شخص اس کے پندرہ روزے رکھتا ہے ، تو آسمان میں ایک منادی اعلان کر کے یہ کہتا ہے تمہارے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو گئی ہے اب تم نئے سرے سے عمل کرو جو شخص جتنا زیادہ کرتا ہے اللہ تعالی اسے مزید اجر و ثواب عطا کرتا ہے رجب کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام کو کشتی پر سوار کرایا انہوں نے رجب کے روزے رکھے تھے ، اور اپنے ساتھیوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا ان کی کشتی سات ماہ تک چلتی رہی تھی اور پھر عاشوراء کے دن وہ جودی پہاڑ کے ساتھ آ کر لگ گئی تھی تو سیدنا نوح علیہ السلام نے اور ان کے ساتھیوں نے اور جانوروں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھا تھا اور عاشوراء کے دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے سمندر ( دریائے نیل ) کو چیر دیا تھا اور عاشوراء کے دن اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی اور سیدنا یونس علیہ السلام کے شہر والوں کی ، توبہ قبول کی تھی اور اسی دن میں سیدنا ابرہیم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفور ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5132
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5538)»
حدیث نمبر: 5133
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فُلِقَ الْبَحْرُ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بنی اسرائیل کے لئے عاشوراء کے دن سمندر کو چیر دیا گیا تھا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5133
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4094)»