حدیث نمبر: 5073
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِي الْجَنَّةِ بَابٌ يُقَالُ لَهُ : الرَّيَّانُ لَا يَدْخُلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا الصَّائِمُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْعَدَوِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں ایک دروازہ ہے ، جس کا نام ” ریان “ ہے قیامت کے دن اس میں سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن حبیب عددی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن حبیب عددی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5074
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يُصْبِحُ صَائِمًا إِلَّا فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَسَبَّحَتْ لَهُ أَعْضَاؤُهُ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ أَهْلُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا إِلَى أَنْ تَوَارَى بِالْحِجَابِ ، فَإِنْ صَلَّى رَكْعَةً أَوْ رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا أَضَاءَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ نُورًا ، وَقُلْنَ أَزْوَاجُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ : اللَّهُمَّ اقْبِضْهُ إِلَيْنَا فَقَدِ اشْتَقْنَا إِلَى رُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ هُوَ هَلَّلَ أَوْ سَبَّحَ أَوْ كَبَّرَ تَلَقَّتْهُ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَهَا إِلَى أَنْ تَوَارَى بِالْحِجَابِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جو بھی بندہ روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کرتا ہے اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اس کے اعضاء اس کے لئے تسبیح کرتے ہیں آسمان دنیا والے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ حجاب کے پیچھے چھپ جاتے ہیں یہاں تک کہ اگر وہ ایک یا دو رکعات نفل ادا کر لے تو اس کے لئے آسمان نور کو روشن کر دیتا ہے ، اور حورعین سے تعلق رکھنے والی اس کی بیویاں کہتی ہیں : اے اللہ ! اسے ہماری طرف لے آ ! کیونکہ ہم اسے دیکھنے کی مشتاق ہیں اگر وہ شخص «لا اله الا الله» پڑھتا ہے ، یا «سبحان الله» پڑھتا ہے ، یا «الله اكبر» پڑھتا ہے ، تو فرشتے اس سے ملتے ہیں اور ان کلمات کو نوٹ کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ حجاب کے پیچھے اوجھل ہو جاتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5075
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ قَالَ : صَامَ هَذَا مِنْ أَجْلِي وَتَرَكَ شَهْوَةَ الطَّعَامِ مِنْ أَجْلِي فَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ بْنُ سَعْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے “ ۔ ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اس نے میرے لئے روزہ رکھا اور میری خاطر کھانے کی خواہش کو ترک کیا ، تو روزہ میرے لئے ہے ، اور میں اس کی جزا دوں گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ بن سعد ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ بن سعد ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5076
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصِّيَامُ جُنَّةٌ وَحِصْنٌ حَصِينٌ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ : " وَحِصْنٌ حَصِينٌ مِنَ النَّارِ " وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” روزہ ڈھال ہے ، اور جہنم سے بچاؤ کے لئے مضبوط قلعہ ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ ” صحیح “ میں بھی منقول ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جہنم سے بچاؤ کے لئے مضبوط قلعہ ہے “ ۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ ” صحیح “ میں بھی منقول ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جہنم سے بچاؤ کے لئے مضبوط قلعہ ہے “ ۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5077
وَعَنْ جَابِرٍ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَالَ اللَّهُ : الصِّيَامُ جُنَّةٌ يَسْتَجِنُّ بِهَا الْعَبْدُ مِنَ النَّارِ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : روزہ ڈھال ہے ، جس کے ذریعے بندہ جہنم سے بچاؤ کرتا ہے وہ میرے لئے ہے ، اور میں اس کی جزا دوں گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5078
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَهُوَ حِصْنٌ مِنْ حُصُونِ الْمُؤْمِنِ ، وَكُلُّ عَمَلٍ لِصَاحِبِهِ ، وَالصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ مُدْرِكٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” روزہ ڈھال ہے ، اور یہ مؤمن کا مضبوط قلعہ ہے ہر عمل اپنے کرنے والے کے لئے ہوتا ہے ، ہر عمل اپنے کرنے والے کے لئے ہوتا ہے ، ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ) روزہ رکھنا میرے لئے ہے ، اور میں اس کی جزا دوں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن مدرک ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن مدرک ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5079
وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَهُوَ حِصْنٌ مِنْ حُصُونِ الْمُؤْمِنِ ، وَكُلُّ عَمَلٍ لِصَاحِبِهِ إِلَّا الصِّيَامَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عَوْنٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” روزہ ڈھال ہے ، اور یہ مؤمن کا مضبوط قلعہ ہے ہر عمل اپنے کرنے والے کے لئے ہوتا ہے صرف روزے کا معاملہ مختلف ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : روزہ میرے لیے ہے ، اور میں اس کی جزا دوں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عون ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عون ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5080
وَعَنْ قَتَادَةَ عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَةِ قَالَ : وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ تَعَالَى قَالَ : " الصَّوْمُ جُنَّةٌ يُجَنُّ بِهَا عَبْدِي مِنَ النَّارِ ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، يَدَعُ طَعَامَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي . ¤ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ بِنَحْوِ هَذَا ، وَحَدِيثُ بَشِيرٍ أَخْرَجْتُهُ ; لِأَنَّ إِسْنَادَهُمَا وَاحِدٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَجُرَيُّ بْنُ كُلَيْبٍ وَثَّقَهُ قَتَادَةُ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ نے جریر بن کلیب کے حوالے سے بشیر بن خصاصیہ کا یہ بیان نقل کیا ہے ہمارے اصحاب نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نقل کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” روزہ ایک ڈھال ہے ، جس کے ذریعے میرا بندہ جہنم سے بچاؤ کرتا ہے روزہ میرے لئے ہے ، اور میں اس کی جزا دوں گا وہ میری خاطر اپنے کھانے اور خواہش کو ترک کر دیتا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہو گی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں بھی منقول ہے ، جو اس کی مانند ہے ، اور سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کو میں پہلے نقل کر چکا ہوں ، کیونکہ ان دونوں کی سند ایک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ جری بن کلیب نامی راوی کو قتادہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ جری بن کلیب نامی راوی کو قتادہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 5081
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ الصِّيَامُ : أَيْ رَبِّ مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهْوَةَ فَشَفِّعْنِي فِيهِ ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ : مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ قَالَ : فَيَشْفَعَانِ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی شفاعت کریں گے روزہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! میں نے اسے کھانے سے اور خواہش پوری کرنے سے روکے رکھا تو اس کے بارے میں میری شفاعت کو قبول فرما ! قرآن کہے گا میں نے اسے رات کے وقت سونے سے روک کے رکھا تو اس کے بارے میں میری شفاعت قبول فرما ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو وہ دونوں اس کی شفاعت کریں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5082
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَأُنْبِئُكَ بِأَبْوَابٍ مِنَ الْخَيْرِ : الصَّوْمُ جُنَّةٌ ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ ، وَقِيَامُ الْعَبْدِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ " . ¤ ثُمَّ قَرَأَ : " تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ " . الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں بھلائی کے کچھ دروازوں کے بارے میں بتاؤں گا ۔ روزہ ڈھال ہے صدقہ گناہوں کو اس طرح بجھا دیتا ہے ، جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ، اور نصف رات کے وقت بندے کا قیام کرنا “ ۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں “ الآیہ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور شہر بن حوشب نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور شہر بن حوشب نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5083
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الصَّوْمُ ؟ قَالَ : " فَرْضٌ مُجْزِئٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِتَمَامِهِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! روزہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک ایسا فرض ، جو کفایت کر جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ، جو آگے چل کر ایک مکمل طور پر آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا اس کی سند میں ایک رادی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے ، جو آگے چل کر ایک مکمل طور پر آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا اس کی سند میں ایک رادی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5084
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي أَخْتَصِيَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خِصَاءُ أُمَّتِي الصِّيَامُ وَالْقِيَامُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیں کہ میں خصی ہو جاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کے خصی ہونے کا طریقہ روزے رکھنا اور قیام کرنا ہے ( یعنی ایسا کرنے سے شہوت ختم ہو جائے گی ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5085
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْصَرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ بَاعَدَهُ اللَّهُ مِنْ جَهَنَّمَ كَبُعْدِ غُرَابٍ طَارَ وَهُوَ فَرْخٌ حَتَّى مَاتَ هَرِمًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : سَلَامَةُ بْنُ قَيْصَرٍ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن قیصر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : “” “” جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے اتنی دور کر دیتا ہے ، جس طرح اگر کوئی کوا ، جو بچہ ہو وہ اڑنا شروع کرے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کے مر جائے ( یعنی جتنا فاصلہ وہ طے کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس بندے کو جہنم سے اتنا دور کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : سلامہ بن قیصر اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : سلامہ بن قیصر اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5086
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ بَعَّدَهُ اللَّهُ مِنْ جَهَنَّمَ كَبُعْدِ غُرَابٍ طَارَ ، وَهُوَ فَرْخٌ حَتَّى مَاتَ هَرِمًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک دن کا روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے اتنی دور کر دیتا ہے جتنا فاصلہ وہ کوا طے کرتا ہے ، جو بچہ ہو ، تو اڑنا شروع کرے اور یہاں تک کہ بوڑھا ہو کے مر جائے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5087
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ لِي بِالشَّهَادَةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ " . قَالَ : فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا . قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا ثَانِيًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ لِي بِالشَّهَادَةِ . فَقَالَ : " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ " . قَالَ : فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا . قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا ثَالِثًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَتَيْتُكَ مَرَّتَيْنِ قَبْلَ مَرَّتِي هَذِهِ فَسَأَلَتُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقُلْتَ : اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ ، فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مُرْنِي بِعَمَلٍ . قَالَ : " عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ " . قَالَ : فَمَا رُئِيَ أَبُو أُمَامَةَ وَلَا امْرَأَتُهُ وَلَا خَادِمُهُ إِلَّا صِيَامًا . قَالَ : فَكَانَ إِذَا رُئِيَ فِي دَارِهِمْ دُخَانٌ بِالنَّهَارِ قِيلَ : اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ نَزَلَ بِهِمْ نَازِلٌ . قَالَ : فَلَبِثْتُ بِذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَرْتَنَا بِالصِّيَامِ فَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ بَارَكَ اللَّهُ لَنَا فِيهِ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمُرْنِي بِعَمَلٍ آخَرَ ؟ قَالَ : " اعْلَمْ أَنَّكَ لَنْ تَسْجُدَ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَ اللَّهُ لَكَ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً " . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ طَرَفًا مِنْهُ يَسِيرًا فِي الصِّيَامِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگی مہم روانہ کرنے لگے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے شہادت کی دعا کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! ان لوگوں کو سلامت رکھنا اور انہیں غنیمت عطا کرنا راوی کہتے ہیں : ہم لوگ سلامت بھی رہے ، اور ہمیں غنیمت بھی نصیب ہوئی پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور جنگی مہم کی تیاری کی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے شہادت کی دعا کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو انہیں سلامت رکھنا اور انہیں غنیمت عطا کرنا راوی کہتے ہیں : ہم سلامت بھی رہے ، اور ہمیں نقیمت بھی ملی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری جنگ کی تیاری کی میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس مرتبہ سے پہلے میں آپ کی خدمت میں دو مرتبہ حاضر ہوا میں نے گزارش کی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے شہادت کی دعا کیجئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تو انہیں سلامت رکھنا اور انہیں غنیمت عطا کرنا تو ہم سلامت بھی رہے ، اور ہمیں غنیمت بھی ملی یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی عمل کے بارے میں حکم دیجیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر روزے رکھنا لازم ہے کیونکہ اس کی مانند اور کوئی نہیں ہے راوی کہتے ہیں : اس کے بعد سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ اور ان کے خادم کو ہمیشہ روزے کی حالت میں دیکھا گیا راوی بیان کرتے ہیں : جب ان کے گھر سے دن کے وقت دھواں نظر آتا تھا ، تو یہ بات کہی جاتی تھی کہ کوئی مہمان ان کے ہاں آیا ہوا ہو گا راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد کچھ عرصہ گزر گیا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا مجھے یہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے اس میں برکت رکھے گا یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی اور عمل کرنے کے بارے میں بھی حکم دیجیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم یہ بات جان لو کہ تم جب بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے تمہارے درجہ کو بلند کرے گا ، اور اس کی وجہ سے تمہاری خطا کو ختم کر دے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کا صرف ایک مختصر حصہ نقل کیا ہے ، جو روزے کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5088
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِكُلِّ شَيْءٍ زَكَاةٌ ; وَزَكَاةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر چیز کی زکوۃ ہوتی ہے ، اور جسم کی زکوۃ روزہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن ولید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن ولید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5089
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَا أَتَأَسَّى عَلَى شَيْءٍ فَاتَنِي إِلَّا الصَّوْمَ وَالصَّلَاةَ وَتَرْكِي الْفِئَةَ الْبَاغِيَةَ إِلَّا أَنْ أَكُونَ قَاتَلْتُهَا وَاسْتِقَالَتِي عَلِيًّا الْبَيْعَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : مَا آسَى عَلَى شَيْءٍ فَاتَنِي مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا الصَّوْمَ فِي الْهَوَاجِرِ ، وَأَنْ لَا أَكُونَ فَرَّجْتُ بَيْنَ قَدَمَيَّ فِي الصَّلَاةِ - يَعْنِي : طُولَ الصَّلَاةِ . ¤ وَفِيهِ سِنَانُ بْنُ هَارُونَ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ عَدِيٍّ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : مجھے رہ جانے والی کسی بھی چیز پر اتنا افسوس نہیں ہے جتنا روزے اور نماز پر ہے ، اور اس بات پر ہے کہ میں نے باغی گروہ کو کیوں چھوڑ دیا ؟ مجھے ان کے ساتھ لڑنا چاہیے تھا اور اس ( بات پر افسوس ہے ) کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کیوں واپس کر دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” دنیا سے رہ جانے والی کسی بھی چیز پر مجھے اتنا افسوس نہیں ہے جتنا گرمیوں کے روزوں پر ہے ، اور یہ کہ میں نے نماز میں اپنے دونوں قدم کشادہ کیوں نہیں کیے ، ان کی مراد یہ تھی کہ میں نے طویل نماز ادا کیوں نہیں کی ؟ اس روایت کی سند میں ایک راوی سنان بن ہارون ہے ، جسے ابوحاتم نے اور ابن عدی نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” دنیا سے رہ جانے والی کسی بھی چیز پر مجھے اتنا افسوس نہیں ہے جتنا گرمیوں کے روزوں پر ہے ، اور یہ کہ میں نے نماز میں اپنے دونوں قدم کشادہ کیوں نہیں کیے ، ان کی مراد یہ تھی کہ میں نے طویل نماز ادا کیوں نہیں کی ؟ اس روایت کی سند میں ایک راوی سنان بن ہارون ہے ، جسے ابوحاتم نے اور ابن عدی نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 5090
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَعْمَالُ سَبْعَةٌ : عَمَلَانِ مُنْجِيَانِ ، وَعَمَلَانِ بِأَمْثَالِهِمَا ، وَعَمَلٌ بِعَشَرَةِ أَمْثَالِهِ ، وَعَمَلٌ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ ، وَعَمَلٌ لَا يَعْلَمُ ثَوَابَ عَامِلِهِ إِلَّا اللَّهُ ، فَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ : فَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْبُدُهُ مُخْلِصًا لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ ، وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ ، وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً جُزِيَ بِهَا ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً فَلَمْ يَعْمَلْهَا جُزِيَ مِثْلَهَا ، وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً جُزِيَ عَشْرًا ، وَمَنْ أَنْفَقَ مَالَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ضُعِّفَتْ لَهُ نَفَقَةُ الدِّرْهَمِ بِسَبْعِمِائَةٍ ، وَالصِّيَامُ لَا يَعْلَمُ ثَوَابَ عَامِلِهِ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اعمال سات قسم کے ہوتے ہیں دو قسم کے اعمال نجات دلانے والے ہیں دو قسم کے عمل برابر کے ہوتے ہیں ایک عمل ایسا ہے ، جس کا اجر دس گنا ہوتا ہے ایک عمل ایسا ہے ، جس کا اجر سات سو گنا ہوتا ہے ، اور ایک عمل ایسا ہے کہ اسے کرنے والے کے ثواب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ، جہاں تک نجات دلانے والے عمل کا تعلق ہے ، تو جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ وہ اخلاص کے ساتھ اسی کی عبادت کرتا ہو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو تو اس شخص کے لئے جنت واجب ہو جائے گی ، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہو اس کے لئے جہنم واجب ہو جائے گی جو شخص ایک برائی کرے تو اسے اس کے برابر کا ( یعنی ایک گنا ) بدلہ ملے اور جو شخص نیکی کرنے کا ارادہ کرے اور اس پر عمل نہ کرے تو اس کو ایک نیکی کا اجر ملے گا ، اور جو شخص ایک نیکی کرے گا اسے دس گنا اجر ملے گا ، اور جو شخص اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا ، تو اسے ایک درہم خرچ کرنے کا اجر سات سو گنا ملے گا ، اور روزہ رکھنے والے کے ثواب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن متوکل ہے ، جسے جمہورائمہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ کہا: ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن متوکل ہے ، جسے جمہورائمہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ کہا: ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 5091
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصَّوْمُ يُذْبِلُ اللَّحْمَ ، وَيُبْعِدُ مِنْ حَرِّ السَّعِيرِ ، إِنَّ لِلَّهِ مَائِدَةً عَلَيْهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ لَا يَقْعُدُ عَلَيْهَا إِلَّا الصَّائِمُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ كَثِيرٍ الْحَرَّانِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” روزہ گوشت کو کمزور کر دیتا ہے ، اور جہنم کی تپش کو دور کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ کا ایک دستر خوان ہے ، جس پر ایسی چیزیں موجود ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں کسی کان نے سنا نہیں کسی انسان کے دل میں ان کا خیال بھی نہیں آیا ہو گا اس دستر خوان پر صرف روزہ دار بیٹھیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمجید بن کثیر حرانی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمجید بن کثیر حرانی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 5092
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا صَامَ يَوْمًا تَطَوُّعًا ثُمَّ أُعْطِيَ مِلْءَ الْأَرْضِ ذَهَبًا لَمْ يَسْتَوْفِ ثَوَابَهُ دُونَ يَوْمِ الْحِسَابِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کوئی شخص ایک دن کا نفلی روزہ رکھ لے پھر اس کے بعد اگر پوری روئے زمین جتنا سونا اسے دیا جائے تو قیامت کے دن سے پہلے پھر بھی وہ اس ایک روزے کے ثواب کو پورا وصول نہیں کرے گا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 5093
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : الصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ . وَبِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رَائِحَةِ الْمِسْكِ ، فَأَيُّمَا امْرِئٍ مِنْكُمْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ ، وَإِنْ إِنْسَانٌ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَإِنَّ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَوْضًا مَا يَرِدُهُ غَيْرُ الصُّوَّامِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ الْحَوْضُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ” روزہ میرے لئے ہے ، اور میں اس کی جزا دوں گا“ ۔
( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کے مطابق ” روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے تم میں سے جو بھی شخص روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کرتا ہے ، تو وہ فحش کلامی نہ کرے اور جہالت کا مظاہرہ نہ کرے اگر کوئی اس کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے ، تو وہ یہ کہہ دے : میں نے روزہ رکھا ہوا ہے کیونکہ ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن ایک حوض ہو گا اس حوض پر روزہ داروں کے علاوہ کوئی اور نہیں آئے گا“ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، لیکن اختصار کے ساتھ ہے ، جس میں صرف حوض کا تذکرہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کے مطابق ” روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے تم میں سے جو بھی شخص روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کرتا ہے ، تو وہ فحش کلامی نہ کرے اور جہالت کا مظاہرہ نہ کرے اگر کوئی اس کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے ، تو وہ یہ کہہ دے : میں نے روزہ رکھا ہوا ہے کیونکہ ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن ایک حوض ہو گا اس حوض پر روزہ داروں کے علاوہ کوئی اور نہیں آئے گا“ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، لیکن اختصار کے ساتھ ہے ، جس میں صرف حوض کا تذکرہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5094
وَعَنْ حُذَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ خُتِمَ لَهُ بِصِيَامٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَهُوَ مُطَوَّلٌ عِنْدَ أَحْمَدَ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي تَلْقِينِ الْمَيِّتِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخص کے لئے روزے کے حوالے سے مہر لگا دی جائے وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اسے طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، جو اس سے پہلے میت کو تلقین کرنے کے باب میں پہلے گزر چکی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اسے طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، جو اس سے پہلے میت کو تلقین کرنے کے باب میں پہلے گزر چکی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5095
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا مُوسَى سَرِيَّةً فِي الْبَحْرِ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ رَفَعُوا الشِّرَاعَ فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ إِذَا هَاتِفٌ يَهْتِفُ مِنْ فَوْقِهِمْ : يَا أَهْلَ السَّفِينَةِ قِفُوا أُخْبِرُكُمْ بِقَضَاءٍ قَضَاهُ اللَّهُ عَلَى نَفْسِهِ فَقَالَ أَبُو مُوسَى : أَخْبِرْنَا إِنْ كُنْتَ مُخْبِرًا ؟ ! قَالَ : إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَضَى عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ مَنْ أَعْطَشَ نَفْسَهُ لَهُ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ سَقَاهُ اللَّهُ يَوْمَ الْعَطَشِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو ایک سمندری جنگی مہم پر بھیجا وہ لوگ سمندر میں موجود تھے ، ایک تاریک رات میں جب انہوں نے بادبان بلند کیے ، اسی دوران ان کے اوپر سے کسی ہاتف نے پکار کر کہا: اے کشتی والو ! تم ٹھہر جاؤ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے بارے میں بتاتا ہوں جو اس نے اپنی ذات کے حوالے سے طے کیا ہے سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ہمیں بتاؤ اگر تم نے بتانا ہے ، تو اس نے کہا: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ذات کے حوالے سے یہ طے کیا ہے کہ جو شخص ایک گرم دن میں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی خاطر پیاسا رکھے گا ( یعنی روزہ رکھے گا تو اللہ تعالی پیاس والے دن اسے سیراب کرے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 5096
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ يَزِيدَ الْجُهَنِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا تَطَوُّعًا غُرِسَتْ لَهُ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ ثَمَرُهَا أَصْغَرُ مِنَ الرُّمَّانِ ، وَأَضْخَمُ مِنَ التُّفَّاحِ ، وَعُذُوبَتُهُ كَعُذُوبَةِ الشَّهْدِ ، وَحَلَاوَتُهُ كَحَلَاوَةِ الْعَسَلِ ، يُطْعِمُ اللَّهُ مِنْهُ الصَّائِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ الْأَهْوَازِيُّ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس بن یزید جہنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایک دن کا نفلی روزہ رکھتا ہے اس کے لئے جنت میں ایک درخت لگا دیا جاتا ہے ، جس کا پھل انار سے چھوٹا ہوتا ہے ، اور سیب سے بڑا ہوتا ہے اس کی مٹھاس ، شہد کی مٹھاس جیسی ہوتی ہے ، اور اس کی حلاوت شہد کی حلاوت کی مانند ہوتی ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس میں سے روزہ دار کو کھلائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یزید اھوازی ہے ۔ امام ذہبی فرماتے ہیں وہ معروف نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یزید اھوازی ہے ۔ امام ذہبی فرماتے ہیں وہ معروف نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 5097
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " صَالِحًا بِخَيْرٍ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُصْبِحْ صَائِمًا ، وَلَمْ يَعُدْ مَرِيضًا ، وَلَمْ يُشَيِّعْ جِنَازَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَجَمَاعَةٌ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کا کیا حال ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے بہتر ہے ایسے شخص کے طور پر جس نے روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح نہیں کی اس نے بیمار کی عیادت نہیں کی اور اس نے جنازے میں شرکت نہیں کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوسلمہ ہے ، جسے ابن حبان اور ایک جماعت نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ دوسرے حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس سے پہلے بیمار کی عیادت کرنے کے باب میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوسلمہ ہے ، جسے ابن حبان اور ایک جماعت نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ دوسرے حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس سے پہلے بیمار کی عیادت کرنے کے باب میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول حدیث گزر چکی ہے ۔