کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: رمضان کے مہینے میں فوت شدہ کی قضاء کرنا
❮
❯
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ وَعَلَيْهِ مِنْ رَمَضَانَ شَيْءٌ لَمْ يَقْضِهِ لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنْهُ ، وَمَنْ صَامَ تَطَوُّعًا وَعَلَيْهِ مِنْ رَمَضَانَ شَيْءٌ لَمْ يَقْضِهِ ، فَإِنَّهُ لَا يُتَقَبَّلُ مِنْهُ حَتَّى يَصُومَهُ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اس پر کسی دوسرے رمضان کی کوئی چیز لازم ہو جس کی اس نے قضا نہ کی ہو ، تو اس کی طرف سے ( موجودہ رمضان ) قبول نہیں ہو گا ، اور جو شخص نفلی روزہ رکھ لے اور اس پر رمضان کے حوالے سے کوئی چیز لازم ہو جس کی اس نے قضاء نہ کی ہو ، تو اس کی طرف سے ( نفلی روزہ ) قبول نہیں ہو گا جب تک وہ اس ( رمضان کے رہ جانے والے ) روزے کو نہیں رکھ لیتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5066
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «أخرجه مسند أحمد برقم: 8407، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 3308»
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَاتَهُ شَيْءٌ مِنْ رَمَضَانَ قَضَاهُ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ .
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں کوئی چیز رہ جاتی تھی تو آپ ذوالحجہ کے عشرے میں اسے قضاء کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5067
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف, قال الهيثمي: رواه الطبراني في الأوسط والصغير، وفيه إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع، وهو ضعيف (3/180)
تخریج حدیث «. اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (787) ، أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5174، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 755»
وَفِي رِوَايَةِ الْأَوْسَطِ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرَى بَأْسًا بِقَضَاءِ رَمَضَانَ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ .
وَفِي إِسْنَادِ الْأَوَّلِ وَهَذَا أَيْضًا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
معجم اوسط کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ رمضان کی قضاء ذوالج کے عشرے میں کر لی جائے ۔ پہلی روایت کی سند میں اور اس روایت میں بھی ایک راوی ابراہیم بن اسحاق صینی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5068
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ فَلْيَصُمْ عَنْهُ وَلِيُّهُ إِنْ شَاءَ " .
قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ : " إِنْ شَاءَ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اگر اس کا ولی چاہے ، تو اس کی طرف سے روزے رکھ لے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اگر وہ چاہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5069
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1023) ، أخرجه صحيح البخاري برقم: 1851، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 2400، وأخرجه مسند أحمد برقم: 23880، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 2052»