حدیث نمبر: 5066
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ وَعَلَيْهِ مِنْ رَمَضَانَ شَيْءٌ لَمْ يَقْضِهِ لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنْهُ ، وَمَنْ صَامَ تَطَوُّعًا وَعَلَيْهِ مِنْ رَمَضَانَ شَيْءٌ لَمْ يَقْضِهِ ، فَإِنَّهُ لَا يُتَقَبَّلُ مِنْهُ حَتَّى يَصُومَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اس پر کسی دوسرے رمضان کی کوئی چیز لازم ہو جس کی اس نے قضا نہ کی ہو ، تو اس کی طرف سے ( موجودہ رمضان ) قبول نہیں ہو گا ، اور جو شخص نفلی روزہ رکھ لے اور اس پر رمضان کے حوالے سے کوئی چیز لازم ہو جس کی اس نے قضاء نہ کی ہو ، تو اس کی طرف سے ( نفلی روزہ ) قبول نہیں ہو گا جب تک وہ اس ( رمضان کے رہ جانے والے ) روزے کو نہیں رکھ لیتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 5067
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَاتَهُ شَيْءٌ مِنْ رَمَضَانَ قَضَاهُ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں کوئی چیز رہ جاتی تھی تو آپ ذولج کے مہینے میں اسے قضاء کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 5068
وَفِي رِوَايَةِ الْأَوْسَطِ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرَى بَأْسًا بِقَضَاءِ رَمَضَانَ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْأَوَّلِ وَهَذَا أَيْضًا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
معجم اوسط کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ رمضان کی قضاء ذوالج کے عشرے میں کر لی جائے ۔ پہلی روایت کی سند میں اور اس روایت میں بھی ایک راوی ابراہیم بن اسحاق صینی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 5069
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ فَلْيَصُمْ عَنْهُ وَلِيُّهُ إِنْ شَاءَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ : " إِنْ شَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اگر اس کا ولی چاہے ، تو اس کی طرف سے روزے رکھ لے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اگر وہ چاہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اگر وہ چاہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔