کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: روزہ دار شخص کا بوسہ لینا اور مباشرت کرنا
حدیث نمبر: 4957
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ وَأَدْرَكَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَانُوا يَنْهَوْنِي عَنِ الْقُبْلَةِ تَخَوُّفًا أَنْ أَتَقَرَّبَ لِأَكْثَرَ مِنْهَا ، ثُمَّ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ الْيَوْمَ يَنْهَوْنِي عَنْهَا ، وَيَقُولَ قَائِلُهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهُ مِنْ حِفْظِ اللَّهِ مَا لَيْسَ لِأَحَدٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ ، جن کی پیشانی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دست مبارک پھیرا تھا اور انہوں نے صحابہ کرام کا زمانہ پایا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : لوگ مجھے بوسہ دینے سے منع کرتے تھے اس اندیشے کے تحت کہ میں اس سے آگے بڑھ جاؤں گا پھر آج بھی مسلمان مجھے اس سے منع کرتے ہیں اور ان میں سے کوئی شخص یہ کہتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعال کی طرف سے جو حفاظت حاصل تھی وہ کسی اور کو حاصل نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4957
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (432/5)»
حدیث نمبر: 4958
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ فَرَأَيْتُهُ لَا يَنْظُرُ إِلَيَّ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : " أَوَلَسْتَ الْمُقَبِّلَ وَأَنْتَ صَائِمٌ ؟ " . فَقُلْتُ : وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَا أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ : قَالَ الْبَزَّارُ : وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافُ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ میری طرف نہیں دیکھ رہے ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وجہ ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم نے روزے کی حالت میں بوسہ نہیں لیا تھا ۔ میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں عمر کی جان ہے اب میں کبھی بھی روزے کی حالت میں بوسہ نہیں لوں گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں امام بزار بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے برخلاف بھی روایت کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4958
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4959
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقَبِّلَ الرَّجُلُ وَهُوَ صَائِمٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَهُ أَحَادِيثُ حِسَانٌ ، وَهُوَ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی روزے کی حالت میں بوسہ لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن نبھان ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے حسن احادیث منقول ہیں اور یہ ان افراد میں سے ایک ہے ، جن کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ائمہ نے اس کو ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4959
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 4960
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى الصَّائِمَ أَنْ يُقَبِّلَ وَيَقُولُ : إِنَّهُ لَيْسَ لِأَحَدِكُمْ مِنَ الْعِصْمَةِ مَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ حِبَّانَ الرَّقِّيُّ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ روزہ دار کو بوسہ لینے سے منع کرتے تھے وہ یہ فرماتے تھے : تم میں سے کسی کو بھی وہ عصمت حاصل نہیں ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زید بن حبان رقی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4960
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4961
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي الرَّجُلِ يُقَبِّلُ ، وَهُوَ صَائِمٌ قَالَ : يَقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ . قَالَ سُفْيَانُ : لَا يُؤْخَذُ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں : جو روزے کی حالت میں بوسہ لیتا ہے وہ فرماتے ہیں : وہ اس کی جگہ ایک دن کی قضاء کرے گا سفیان ثوری بیان کرتے ہیں : اس کے مطابق فتویٰ نہیں دیا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4961
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9572)»
حدیث نمبر: 4962
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ شَابٌّ فَقَالَ : أُقَبِّلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : فَجَاءَ شَيْخٌ فَقَالَ : أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَنَظَرَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ عَلِمْتُ لِمَ نَظَرَ بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ ; إِنَّ الشَّيْخَ يَمْلِكُ نَفْسَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایک شخص آیا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کروں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں راوی کہتے ہیں : پھر ایک عمر رسیدہ شخص آیا اور اس نے عرض کی : کیا میں روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کروں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ راوی کہتے ہیں : تو ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھنا شروع کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے پتہ ہے تم کیوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہو ؟ بوڑھا شخص اپنے آپ پر ق ابورکھتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4962
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6739)»
حدیث نمبر: 4963
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَأَلَهُ شَابٌّ عَنِ الْقُبْلَةِ نَهَاهُ ، وَإِذَا سَأَلَهُ شَيْخٌ رَخَّصَ لَهُ وَقَالَ : " إِنَّ الشَّابَّ لَيْسَ كَالشَّيْخِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ صُهَيْبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی نوجوان شخص بوسہ لینے کے بارے میں دریافت کرتا تو آپ اسے منع کر دیتے تھے ، اور جب کوئی بوڑھا شخص آپ سے اس بارے میں دریافت کرتا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے رخصت دے دیتے تھے ۔ آپ یہ ارشاد فرماتے تھے : ” نوجوان شخص بوڑھے کی مانند نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن صہیب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4963
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 4964
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : رَخَّصَ لِلشَّيْخِ أَنْ يُقَبِّلَ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَنَهَى الشَّابَّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ بوڑھے شخص کو روزے کی حالت میں بوسہ لینے کی رخصت دیتے تھے ۔ اور نوجوان کو منع کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4964
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11040)»
حدیث نمبر: 4965
وَعَنْ عَطِيَّةَ قَالَ : سَأَلَ شَابٌّ ابْنَ عَبَّاسٍ : أَيُقَبِّلُ ، وَهُوَ صَائِمٌ ؟ قَالَ : لَا . ثُمَّ جَاءَ شَيْخٌ فَقَالَ : أَيُقَبِّلُ ، وَهُوَ صَائِمٌ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ . قَالَ الشَّابُّ : سَأَلْتُكَ أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ ؟ فَقُلْتَ : لَا ، وَسَأَلَكَ هَذَا أَيُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ؟ قُلْتَ : نَعَمْ . فَكَيْفَ يَحِلُّ لِهَذَا مَا يَحْرُمُ عَلَيَّ وَأَنَا وَهُوَ عَلَى دِينٍ وَاحِدٍ ؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ عِرْقَ الْخُصْيَتَيْنِ مُعَلَّقَةٌ بِالْأَنْفِ ، فَإِذَا شَمَّ الْأَنْفُ تَحَرَّكَ الذَّكَرُ ، وَإِذَا تَحَرَّكَ الذَّكَرُ دَعَا إِلَى مَا هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ ! ! وَالشَّيْخُ أَمْلَكُ لِأَرَبِهِ - وَذَلِكَ بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُ عَبْدِ اللَّهِ وَخَلْفَهُ امْرَأَةٌ - فَقَالَ : أَذَلَّكَ اللَّهُ مِنْ جَلِيسِ قَوْمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعَطِيَّةُ فِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
عطیہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا : کیا وہ روزے کی حالت میں بوسہ لے سکتا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں پھر ایک بوڑھا شخص آیا اس نے دریافت کیا : میں روزے کی حالت میں بوسہ لے سکتا ہوں ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو نوجوان نے کہا: میں نے آپ سے سوال کیا کہ روزے کی حالت میں بوسہ لے سکتا ہوں تو آپ نے جواب دیا : جی نہیں اس نے آپ سے یہ سوال کیا کہ کیا یہ روزے کی حالت میں بوسہ لے سکتا ہے ، تو آپ نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اس شخص کے لئے وہ چیز کیسے حلال ہو سکتی ہے ، جو مجھ پر حرام ہے ، جبکہ میں اور یہ ایک ہی دین کے پیروکار ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس شخص سے فرمایا : خصیوں کے اندر ایک رگ ہوتی ہے ، جو ناک سے متعلق ہوتی ہے ، جب ناک چیز سونگھتی ، تو شرمگاہ حرکت کرتی ہے ، اور جب شرمگاہ حرکت کرتی ہے ، تو یہ اس سے زیادہ بڑی چیز کی طرف لے جاتی ہے ، اور بوڑھا شخص اپنے آپ پر ق ابورکھتا ہے راوی کہتے ہیں : یہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی بینائی رخصت ہو جانے کے بعد کی بات ہے ان کے پیچھے ایک خاتون موجود تھیں تو ( بوڑھے شخص نے ) یہ کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم کے ہم محفل کی طرف سے ذلت کا شکار کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عطیہ نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4965
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10604)»
حدیث نمبر: 4966
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ; أَنَّ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَ عَطَاءً أَنَّهُ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَائِمٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ امْرَأَتَهُ فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ " . فَأَخْبَرَتْهُ امْرَأَتُهُ ، فَقَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَخَّصُ لَهُ فِي أَشْيَاءَ فَارْجِعِي إِلَيْهِ فَقُولِي لَهُ . فَرَجَعَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَخَّصُ لَهُ فِي أَشْيَاءَ . فَقَالَ : " أَنَا أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَعْلَمُكُمْ بِحُدُودِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن سائب نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ کہ انصاری نے عطاء کو یہ بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں انہوں نے اپنی اہلیہ کا بوسہ لے لیا جبکہ وہ روزے کی حالت میں تھے انہوں نے اپنی اہلیہ کو یہ ہدایت کی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے رسول بھی ایسا کرتے ہیں ان کی اہلیہ نے ان صاحب کو آ کر بتایا تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ امور کے بارے میں رخصت عطا کی گئی ہے تم واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ کی خدمت میں گزارش کرو وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور عرض کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو کچھ چیزوں کے بارے میں رخصت دی گئی ہو گی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں اور اُس کی حدود کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4966
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (434/5)»
حدیث نمبر: 4967
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصِيبُ مِنَ الرُّءُوسِ وَهُوَ صَائِمٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ : أَيْ يُقَبِّلُ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں سر کا بوسہ لے لیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ سر کا بوسہ لے لیتے تھے امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4967
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11868) اخرجه احمد فى المسند (2241). اخرجه البزار فى المسند (1020)»
حدیث نمبر: 4968
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُقَبِّلُ الصَّائِمُ ؟ قَالَ : " وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ رَيْحَانَةٌ يَشُمُّهَا ؟ ! " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : کیا روزہ دار شخص بوسہ لے سکتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس میں کیا حرج ہے ؟ ایک پھول کو اس نے سونگھ لیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4968
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (614)»
حدیث نمبر: 4969
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ اللَّيْثِ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے عبدالملک بن لیث کہتے ہیں : وہ ثقہ اور مامون ہے ائمہ یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4969
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4970
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ هَلْ مِنْ كِسْرَةٍ ؟ " . فَأَتَيْتُهُ بِقُرْصٍ فَوَضَعَهُ عَلَى فِيهِ وَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ هَلْ دَخَلَ بَطْنِي مِنْهُ شَيْءٌ ، كَذَلِكَ قُبْلَةُ الصَّائِمِ ، إِنَّمَا الْإِفْطَارُ مِمَّا دَخَلَ وَلَيْسَ مِمَّا خَرَجَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے اور دریافت کیا : اے عائشہ ! کھانے کے لئے کچھ ہے ؟ میں نے روٹی کا ایک ٹکڑا پیش کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اپنے منہ میں رکھ لیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! کیا میرے پیٹ میں اس سے کچھ داخل ہوا ہے ؟ روزہ دار کے بوسہ کا حکم بھی اسی طرح ہے روزہ اس چیز کی وجہ سے ختم ہوتا ہے ، جو اندر جاتی ہے اس چیز کی وجہ سے ختم نہیں ہوتا جو باہر نکلتی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4970
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (4602 و4954)»