حدیث نمبر: 4954
عَنْ عَلِيٍّ وَعَنْ خَبَّابٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صُمْتُمْ فَاسْتَاكُوا بِالْغَدَاةِ وَلَا تَسْتَاكُوا بِالْعَشِيِّ ; فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ صَائِمٍ تَيْبَسُ شَفَتَاهُ بِالْعَشِيِّ إِلَّا كَانَ نُورًا بَيْنَ عَيْنَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرَفَعَهُ عَنْ خَبَّابٍ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ عَنْ عَلِيٍّ ، وَفِيهِ كَيْسَانُ أَبُو عُمَرَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” جب تم نے روزہ رکھا ہوا ہو تو صبح کے وقت مسواک کرو شام کے وقت مسواک نہ کرو کیونکہ جس بھی روزہ دار شخص کے ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں تو یہ چیز قیامت کے دن اس کی آنکھوں کے آگے نور کا باعث ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” مرفوع “ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” مرفوع “ حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کیسان ابوعمر ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” مرفوع “ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” مرفوع “ حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کیسان ابوعمر ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 4955
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ : سَأَلْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ : أَتَسَوَّكُ وَأَنَا صَائِمٌ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ . قُلْتُ : أَيَّ النَّهَارِ أَتَسَوَّكُ ؟ قَالَ : أَيَّ النَّهَارِ شِئْتَ ، إِنْ شِئْتَ غُدْوَةً وَإِنْ شِئْتَ عَشِيَّةً . قُلْتُ : فَإِنَّ النَّاسَ يَكْرَهُونَهُ عَشِيَّةً ؟ قَالَ : وَلِمَ ؟ قُلْتُ : يَقُولُونَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَخُلُوفِ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ [ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ] " . قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ لَقَدْ أَمَرَهُمْ بِالسِّوَاكِ حِينَ أَمَرَهُمْ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ بِفَمِ الصَّائِمِ خُلُوفٌ وَإِنِ اسْتَاكَ وَمَا كَانَ بِالَّذِي يَأْمُرُهُمْ أَنْ يُنْتِنُوا أَفْوَاهَهُمْ عَمْدًا مَا كَانَ فِي ذَلِكَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْءٌ بَلْ هُوَ شَرٌّ إِلَّا مَنِ ابْتُلِيَ بِبَلَاءٍ لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا . قُلْتُ : وَالْغُبَارُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَيْضًا كَذَلِكَ إِنَّمَا يُؤْجَرُ مَنِ اضْطُرَّ إِلَيْهِ وَلَا يَجِدُ عَنْهُ مَحِيصًا ؟ قَالَ : نَعَمْ فَأَمَّا مَنْ أَلْقَى نَفْسَهُ فِي الْبَلَاءِ عَمْدًا فَمَا لَهُ فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : جب میں نے روزہ رکھا ہوا ہو تو کیا میں مسواک کر لوں ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ۔ میں نے دریافت کیا : دن کے کون سے حصے میں ، میں مسواک کروں ؟ انہوں نے فرمایا : دن کے کسی بھی حصے جب تم چاہو کر لو اگر تم چاہو تو صبح کے وقت کرو اور اگر تم چاہو تو شام کے وقت کر لو میں نے کہا: لوگ شام کے وقت اسے کرنے کو مکروہ سمجھتے ہیں انہوں نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ میں نے جواب دیا : لوگ یہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے “ ۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سبحان اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مسواک کرنے کا جب بھی حکم دیا اس وقت انہیں حکم دیا حالانکہ آپ یہ بات جانتے تھے کہ روزہ دار کے منہ میں سے ضرور بو آئے گی خواہ اس نے مسواک بھی کی ہوئی ہو ، اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ جان بوجھ کر اپنے منہ کو بودار کر لیں اس میں کوئی بھلائی نہیں ہو گی بلکہ یہ ایک برائی ہو گی البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو کسی آزمائش کا شکار ہو جائے اور اس کے پاس اس سے چھٹکارے کے لئے کوئی چارہ نہ ہو میں نے کہا: اللہ کی راہ میں غبار کا بھی یہی عالم ہے کہ جو شخص اس کی طرف مجبور ہو ، اور اس سے کوئی چھٹکارہ نہ پاتا ہو تو اسے اس کا اجر دیا جائے گا ؟ تو انہوں نے فرمایا : جی ہاں ۔ البتہ جو شخص جان بوجھ کر اپنے آپ کو آزمائش میں مبتلاء کرتا ہے ، تو اسے اجر نصیب نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن خنیس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن خنیس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔